ماہِ رمضان المبارک میں پیش آنے والے دو تاریخی واقعات

ماہِ رمضان کی مقدس ساعتوں میں ہی اسلامی تاریخ کا ایک مہتم بالشان واقعہ پیش آیا تھا، اس عظیم واقعہ کو ہم ’فتح مکہ‘ کے مبارک نام سے یاد کرتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

user

آفتاب احمد منیری

ماہ رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہے۔ اس مناسبت سے اس ماہ محترم کے اندر ہمیں قرآن کی بنیادی تعلیمات مثلاً صبر، قوت برداشت، عفو و درگزر اور صلہ رحمی کا عکس نظر آتا ہے۔ اس ماہِ مبارک میں پیش آئے کچھ واقعات ان کی شہادت دیتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے وسیلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو مدینہ میں امن کی جگہ مل گئی۔ نیز آپؐ کی قیادت میں مسلمانوں نے آزادی کے ساتھ دین پر عمل کرنا شروع کیا تو حکمتِ الٰہی کے مطابق دیگر اسلامی احکام بھی نازل ہونے شروع ہوئے۔ چنانچہ ہجرت کے دوسرے سال رمضان کے روزے فرض ہوئے۔ اہلِ ایمان کے لیے یہ سخت آزمائش کا وقت تھا، اس لیے کہ مشرکینِ مکہ اس بات سے غیظ و غضب میں مبتلا تھے کہ فاران کی چوٹی سے طلوع ہونے والی اسلام کی روشن کرنیں اب ارض طیبہ کو منور کررہی تھیں۔ بالآخر ان کی آتشِ حسد بھڑک اٹھی اور ابوجہل کی قیادت میں ایک ہزار مشرکین نے کیل کانٹے سے لیس ہو کر مدینہ پر چڑھائی کر دی۔ ان کے اس ناپاک ارادے کی اطلاع پا کر رسول اللہؐ 313 مجاہدین کے مختصر سے لشکر کے ساتھ میدانِ بدر میں نکل آئے۔ 17 رمضان سن 2 ہجری میں جب دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں تو ایک عجیب منظر تھا۔ ایک طرف جنگی ساز و سامان سے لیس ایک ہزار کا لشکر جرار اور دوسری جانب 313 نہتھے مسلمان۔ اس سخت ترین آزمائش اور بے سر و سامانی کے عالم میں مومنین کے اس لشکر کا سردار اپنے رب کے حضور سجدہ میں گر پڑا۔ زبانِ نبوت سے یہ دعائیہ کلمات جاری ہوئے اور عرش عظیم سے جا ٹکرائے: ’’یا اللہ! اگر آج یہ مٹھی بھر لوگ بھی ہلاک ہو گئے تو پھر اس زمین پر تیری عبادت کون کرے گا...۔‘‘


آپؐ اپنے ہاتھوں کو پھیلائے ہوئے لگاتار یہ دعائیں کرتے رہے۔ یہاں تک کہ آپؐ کی چادر مبارک آپ کے کاندھوں سے اتر گئی۔ اسی وقت حضرت صدیقِ اکبر آپؐ کے پاس آئے اور فرمایا: اللہ کے نبیؐ، بس آپؐ کی اتنی دعا کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ سے کیا ہوا وعدہ ضرور پورا کرے گا۔ اس مبارک لمحہ یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں آپؐ کو فتح کی واضح خوش خبری دی گئی تھی: ’’اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے، پھر اللہ تعالیٰ نے تمھاری سن لی کہ میں تم کو ایک ہزار فرشتوں سے مدد دوں گا جو لگاتار چلے آئیں گے۔‘‘ (الانفال: 9)

اس کے بعد جو کچھ ہوا اس سے پوری دنیا واقف ہے۔ محض ایمانی قوت کی بدولت مسلمانوں نے اپنے سے تین گنا بڑے لشکر کو شکست دے دی۔ کفر اور اسلام کا یہ پہلا معرکہ مسلمانوں کی عظیم الشان فتح کے ساتھ ختم ہوا۔ حلقۂ ایمان میں داخل ہونے کے بعد اہل ایمان کے لیے یہ سب سے بڑی آزمائش تھی جس میں کامیاب ہو کر وہ رضائے الٰہی کے مستحق قرار پائے۔ قرآن حکیم نے غزوہ بدر کی تاریخی اہمیت کے پیش نظر اس دن کو ’یوم الفرقان‘ قرار دیا۔


اسلامی تاریخ کے اس غیر معمولی واقعہ میں ہمارے لیے زندگی کا بنیادی سبق پوشیدہ ہے، وہ یہ کہ اگر نصرت الٰہی شامل حال ہو تو افرادی قوت اور جنگی اسلحہ کوئی معنی نہیں رکھتے۔ دوسری اہم بات یہ کہ ظاہری حالات سے بے پروا ہو کر حکم الٰہی کے آگے سر تسلیم خم کر دینا وہ صفت ایمانی ہے جس سے اصحاب رسولؐ متصف تھے۔ واضح ہو کہ اس سال رمضان کے روزے فرض ہوئے تھے اور اہل ایمان نے یہ جنگ روزہ کی حالت میں لڑی تھی۔ صفت ایمانی کا اتنا غیر معمولی مظاہرہ ہماری تاریخ کا وہ سرمایۂ افتخار ہے جس سے آئندہ نسلیں صبحِ قیامت تک اپنے ایمان کو جلا بخشتی رہیں گی۔

شاعر مشرق نے مسلمانوں کی بقا اور سالمیت کو ان کے جذبۂ حریت کے ساتھ مشروط کرتے ہوئے کہا تھا:

فضائے بدر پید اکر فرشتے تیری نصرت کو
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی


اس جذبۂ ایمانی اور عسکری روح کے فقدان کے سبب ہمارا قبلۂ اول اسرائیل کے قبضے میں ہے اور گزشتہ چار مہینوں سے غزہ کے مظلومین اسرائیلی درندگی کا شکار ہو رہے ہیں اور سلاطین عرب خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ رب کریم عالم اسلام کو غزوہ بدر کے پیغام کو سمجھنے اور اخوت اسلامی کے تقاضوں کے مطابق اپنی سیاسی پالیسی مرتب کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

ماہِ رمضان کی مقدس ساعتوں میں ہی اسلامی تاریخ کا ایک اور مہتم بالشان واقعہ پیش آیا۔ اس عظیم واقعہ کو ہم ’فتح مکہ‘ کے مبارک نام سے یاد کرتے ہیں۔ 20 رمضان سن 8 ہجری کے آمد فصلِ بہار کے مصداق وہ عظیم ساعتیں بھلا کیوں کر بھلائی جا سکتی ہیں جب آٹھ سالوں کی جلا وطنی کے بعد سیدالانبیاء حضرت محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم وقت کے فاتح بن کر بیت اللہ میں تشریف لائے۔ دس ہزار کے لشکر جرار کے ساتھ جب رحمت کائناتؐ کعبۃ اللہ میں داخل ہوئے تو آپ کی زبان مبارک پر حمد و شکر کے کلمات جاری تھے اور آپؐ نے اللہ تعالیٰ کے بخشے ہوئے اعزاز فتح پر فرط تواضع سے اپنا سر جھکا رکھا تھا۔ یہاں تک کہ آپؐ کی داڑھی کے بال کجاوے کی لکڑی سے جا لگ رہے تھے۔ اس کے بعد رسولؐ مسجد حرام کے اندر تشریف لائے اور آگے بڑھ کر حجر اسود کو چوما اور بیت اللہ کا طواف کیا۔ اس وقت آپؐ کے ہاتھوں میں ایک کمان تھی۔ اس کمان سے آپؐ صحنِ کعبہ میں موجود بتوں کو ٹھوکر مارتے جاتے تھے اور یہ قرآنی آیت تلاوت فرماتے جاتے تھے: ’’جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا‘‘ (حق آ گیا اور باطل چلا گیا اور باطل جانے والی چیز ہے۔)


اس کے بعد رحمت کائنات صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے مشرکین سے مخاطب ہوئے۔ آپ نے فرمایا: ’’قریش کے لوگو! تمھارا کیا خیال ہے میں تمھارے ساتھ کیسا سلوک کرنے والا ہوں۔‘‘ انھوں نے کہا ’’آپ کریم بھائی ہیں اور کریم بھائی کے بیٹے ہیں۔‘‘ آپؐ نے ارشاد فرمایا ’’میں آج تم سے وہی بات کہتا ہوں جو یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہی تھی کہ ’لا تثریب علکیم الیوم‘ (آج تم پر کوئی الزام نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔)‘‘

عفو و درگزر اور صلہ رحمی کی اتنی اعلیٰ ترین مثال پوری انسانی تاریخ میں نظر نہیں آتی۔ سیرت نبویؐ کے اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم عفو و درگزر، صلہ رحمی اور اخوت و محبت کو اپنا شعار بنائیں تاکہ یہ دنیا دینِ رحمت اسلام کے اس پیغام امن کی تفہیم کر سکے۔

محبت کا وفا کا پیار کا نغمہ سناتا ہے
یہی اسلام ہے جو سب کو سینے سے لگاتا ہے

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔