مہاراشٹر: شولاپور کے مسلمان عیدالاضحیٰ کے پہلے دن نہیں کریں گے قربانی، آشاڑھ ایکادشی پر تصادم ٹالنے کے لیے فیصلہ

مسلم طبقہ نے کہا ہے کہ چونکہ عیدالاضحیٰ عام طور پر تین دن تک منایا جاتا ہے اس لیے وہ اگلے دن قربانی کریں گے، تب تک پندھارپور مندر سے بھکتوں کی بھیڑ بھی جا چکی ہوگی۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر، آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر، آئی اے این ایس

user

سجاتا آنندن

مہاراشٹر کے شولاپور ضلع واقع پندھارپور کے وٹھل-رکمنی مندر میں ہر سال ہونے والا انعقاد جہاں ورکری (یاتریوں) کے لیے عقیدے کا موضوع ہوتا ہے، وہیں لیڈروں کے لیے یہ ایک عوامی رابطہ کا موقع بھی ہوتا ہے۔ ان لیڈروں میں ریاست کے قدآور لیڈر شرد پوار تک شامل ہیں۔

پندھار پور مندر میں مہاراشٹر کے قریباً ہر حصے سے لاکھوں کی تعداد میں عقیدتمند پہنچتے ہیں اور آشاڑھ ایکادشی (جو عام طور پر جولائی میں پڑتا ہے) پر تو یہاں زبردست بھیڑ ہوتی ہے۔ اس دن یہاں آنے والے عقیدتمندوں کی تعداد گرو پورنیما پر (یہ بھی جولائی میں ہی پڑتا ہے) شیرڈی کے سائیں بابا مندر سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن سائیں بابا مندر میں آنے والے لوگ ملک بھر سے آتے ہیں اور ان میں عام طور پر شہری لوگ زیادہ ہوتے ہیں۔


ورکری ڈانڈی مارچ نکالتے ہیں اور مشہور سَنت دھیانیشور اور تکارام کی پادوکائیں (چپل) پالکی میں رکھ کر لاتے ہیں۔ یہ روایت سات صدی پہلے اس مندر میں ان دونوں سَنتوں کی آمد کی یاد میں نبھائی جاتی ہے۔ اس پالکی روایت کی اتنی اہمیت ہے کہ کووڈ لاک ڈاؤن کے دوران بھی اسے نبھانے کے لیے مہاراشٹر حکومت نے ہیلی کاپٹر سے پادوکائیں مندر تک پہنچائی تھیں۔ انگریزی حکومت میں پالکی کو گھوڑوں پر لایا جاتا تھا، لیکن اب عقیدتمند انھیں اپنے کندھوں پر لاتے ہیں۔ ان میں مرد و خواتین سبھی شامل ہوتے ہیں۔

اتنا بڑا اجتماع ہونے کے باوجود کبھی بھی پندھارپور اُتسو کے دوران کسی قسم کی فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں ہوئی۔ اس سال آشاڑھ ایکادشی ٹھیک اسی دن ہے جس دن عیدالاضحیٰ کا تہوار منایا جانے والا ہے، یعنی جمعرات (29 جون) کو۔ جس طرح سے ’سکل ہندو سماج‘ سے جڑے ہندوتوا گروپوں کو برسراقتدار طبقہ کا تحفظ حاصل ہے، ایسے میں وہ اس موقع کا فائدہ اٹھا کر ہندو-مسلم فساد پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پولیس بھی اس بات کو لے کر تشویش میں مبتلا ہے کہ معمولی سے واٹس ایپ فاروارڈ پر وبال کرنے والے گروپ بقرعید کے دن لاکھوں عقیدتمندوں کی موجودگی میں کچھ گڑبڑی کر سکتے ہیں، کیونکہ بقرعید یعنی عید قرباں پر مسلم طبقہ جانور کی قربانی دیتا ہے۔


ان حالات کو دیکھتے ہوئے شولاپور ضلع اور آس پاس کے ضلعوں میں مسلم گروپوں کے ساتھ پولیس نے میٹنگ کر تبادلہ خیال کیا۔ انھیں سمجھایا کہ وہ ہندوتوا گروپ کے اکساوے میں نہ آئیں۔ لیکن مسلم طبقہ نے ایک قدم آگے بڑھ کر اعلان کر دیا ہے کہ وہ اس سال بقرعید کے پہلے دن، یعنی آشاڑھ ایکادشی پر جانور کی قربانی نہیں کریں گے۔ مسلم طبقہ نے کہا ہے کہ چونکہ عیدالاضحیٰ عام طور پر تین دن تک منایا جاتا ہے، اس لیے وہ اگلے دن قربانی کریں گے۔ تب تک پندھارپور مندر سے بھکتوں کی بھیڑ بھی جا چکی ہوگی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔