ٹرمپ کے بدلتے رویے اور سخت فیصلے سے ہند-امریکہ تعلقات میں بڑھتا تناؤ

ڈونلڈ ٹرمپ کے بڑھتے ٹیکس، برکس پر اعتراض اور پاکستان سے ثالثی کی خواہش نے ہند-امریکہ تعلقات میں تناؤ پیدا کیا ہے۔ ہندوستان کے محدود اختیارات کے باعث یہ شراکت داری کڑی آزمائش سے گزر رہی ہے

<div class="paragraphs"><p>ڈونلڈ ٹرمپ (فائل تصویر)&nbsp;</p></div>
i
user

آشیش رے

کرسٹل بال یہ نہیں بتا سکتی کہ ڈونلڈ ٹرمپ اگلا قدم کیا اٹھائیں گے اور نہ ہی یہ کہ وہ کب کس بیان سے دنیا کو چونکا دیں گے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم ٹرمپ کے بارے میں اب تک کیا جانتے ہیں؟ یہ کہ یورپی یونین کے ساتھ ان کے تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں، روسی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ دوستی کے رشتے خوشگوار ہیں اور چین کے ساتھ امریکہ کے تجارتی خسارے سے وہ سخت نالاں ہیں لیکن ساتھ ہی وہ چینی صدر شی جنپنگ کے ساتھ کسی نہ کسی سطح پر سمجھوتے کی خواہش رکھتے ہیں۔

ہندوستان کے معاملے میں صورتحال حیران کن ہے۔ سب نے 50 فیصد ٹیرف کی بات سنی، ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی پر ٹرمپ کی جانب سے اپنی پیٹھ تھپتھپاتے دیکھ کر بعض اوقات ہندوستانی وزیر اعظم کو شرمندگی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ مگر ٹرمپ مسلسل اس دعوے کو دہراتے ہیں گویا وہ چاہتے ہیں کہ ہندوستان کھلے عام تسلیم کرے کہ پاکستان کے ساتھ جنگ بندی میں ان کی انتظامیہ کا کردار رہا ہے۔

ہندوستان پر عائد ٹیرف چند ہی دنوں میں 25 سے بڑھا کر 50 فیصد کر دیا گیا۔ بظاہر اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ ہندوستان روس-یوکرین جنگ سے ’منافع‘ کما رہا ہے۔ ہندوستان نے اپنے دفاع میں کہا کہ یہ سب اس کے ’معاشی مفادات‘ کے تحت ہے۔ یہ بھی یاد رکھنا ضروری ہے کہ توانائی کے درآمدی بل میں دو تہائی حصہ ہندوستان کے کل خرچ کا ہے۔

اگرچہ یہ ہندوستان کا خودمختارانہ حق ہے کہ جہاں سے چاہے تیل خریدے، لیکن جب کم قیمت پر مل رہا ہو تو یہ فیصلہ مزید منطقی لگتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس سستے تیل کا فائدہ ہندوستانی عوام تک نہیں پہنچ رہا، بلکہ نجی ریفائنریاں پٹرولیم مصنوعات کو برآمد کر کے بھاری منافع سمیٹ رہی ہیں۔ اس طرح ’منافع خوری‘ کا الزام وزن پکڑ لیتا ہے۔ دوسری طرف ہندوستان روس سے کچا تیل لینا بند بھی نہیں کر سکتا، چاہے ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ ایسا کرنے سے روسی ہتھیاروں کی فراہمی خطرے میں پڑ جائے گی۔


امریکی زرعی مصنوعات کو ہندوستانی منڈی میں کھلی چھوٹ دینے کے معاملے میں مودی حکومت نے سخت لکیر کھینچ دی۔ اس فیصلے کے بعد ٹرمپ نے ہندوستان کے ساتھ تجارتی مذاکرات روک دیے۔ مودی کے لیے یہ قدم سیاسی طور پر ضروری تھا، ورنہ اندرون ملک انہیں بہت نقصان ہوتا۔ چاہے ان کی جوانی میں امریکہ کے لیے جذبات کتنے ہی نرم کیوں نہ رہے ہوں، اب سیاسی حقیقت مختلف ہے۔

ٹرمپ کی ہندوستان سے ناراضگی کی ایک وجہ برکس کی رکنیت بھی ہے۔ برکس نہ صرف امریکہ بلکہ جی-7 ممالک کے مجموعے سے بھی بڑی اقتصادی طاقت بن چکی ہے، جسے ٹرمپ اپنی پالیسی کے لیے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کے ساتھ ان کا تناؤ اس سطح تک پہنچ گیا ہے کہ چین کے مقابلے کے لیے قائم ’کواڈ‘ اتحاد (امریکہ، جاپان، ہندوستان اور آسٹریلیا) بھی دباؤ کا شکار ہے۔ ہندوستان اس سال کواڈ سربراہی اجلاس کی میزبانی کا متمنی تھا، مگر اب اس پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اور ہندوستان کی ’اسٹریٹجک پارٹنرشپ‘ ختم ہونے کے دہانے پر ہے؟ کیا ہندوستان اپنے سب سے بڑے برآمدی بازار کو کھونے کے قریب ہے؟ یا یہ کہ ٹرمپ وقت آنے پر نرم پڑ جائیں گے؟ اصل نکتہ یہ نہیں کہ کون پہلے جھکے گا بلکہ یہ ہے کہ ٹرمپ کے ساتھی انہیں قائل کر پائیں گے کہ دونوں ملکوں کے مفاد میں لچک دکھانا ضروری ہے۔ کیونکہ ہندوستان کے پاس کھیلنے کے لیے محدود کارڈز ہیں۔

27 اگست کو امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ’فاکس نیوز‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا، ’’مجھے لگتا ہے کہ آخرکار ہم ایک ساتھ آئیں گے۔‘‘ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’’ہندوستان کے ٹیرف بہت اونچے ہیں اور ہمارا ان کے ساتھ بڑا تجارتی خسارہ ہے۔‘‘ اگر ہندوستان کی امریکہ کو برآمدات کم ہو جائیں تو ٹرمپ اس سے خوش ہوں گے، کیونکہ یوں امریکی تجارتی خسارہ گھٹ جائے گا۔ ان کی فکر شاید صرف بوئنگ کے طیاروں اور دفاعی ساز و سامان کی فروخت پر ہوگی، جو کہ پہلے سے طے شدہ معاہدوں کا حصہ ہیں۔


مودی حکومت ٹرمپ کے رویے کے لیے تیار نہیں تھی۔ حالانکہ ٹرمپ کے پہلے دور میں اشارے موجود تھے، مگر اس کے باوجود ہندوستان نے اپنا زیادہ انحصار امریکہ پر رکھا۔ اب مودی دوسرے ممالک جیسے جرمنی، جاپان، برطانیہ، فرانس، روس اور جنوبی کوریا سے روابط بڑھا رہے ہیں تاکہ ممکنہ نقصان کا ازالہ کیا جا سکے۔ یہ سب ملک بھی ٹرمپ کی پالیسیوں کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں، اس لیے وہ ہندوستان کے ساتھ نرم تو رہیں گے لیکن سخت سودے بازی ضرور کریں گے۔ اس کے باوجود قلیل مدت میں ہندوستان اس ٹیرف بحران سے بچ نہیں سکتا۔

یقیناً یہ غیر یقینی حالات کا دور ہے۔ تاہم امریکہ-ہندوستان تعلقات مکمل طور پر ختم نہیں ہوں گے کیونکہ ٹرمپ کے بعد بھی زندگی جاری ہے۔ بہت سے ممالک کو ٹرمپ کے دور میں اتھل پتھل کی توقع تھی اور وہ اس جھٹکے کے لیے پہلے سے تیار تھے۔ مگر مودی حکومت نے زیادہ بھروسہ ذاتی ’ٹرمپ-مودی کیمسٹری‘ پر کیا اور جب بحران نے دستک دی تو وہ بالکل غیر تیاری کی حالت میں تھی۔

حالیہ خبروں میں یہ بات سامنے آئی کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان مذاکرات کے ذریعے اختلافات دور کریں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے ایک ای میل کے جواب میں کہا، ’’علاقائی استحکام کے لیے جنگ بندی برقرار رکھنا اہم ہے اور ہم دونوں ملکوں پر زور دیتے رہیں گے کہ وہ مستقبل میں کسی تصادم سے بچنے کے لیے براہِ راست بات کریں۔‘‘ مزید کہا گیا، ’’ہم کشمیر سے متعلق معاملات پر براہِ راست مذاکرات کی حمایت کرتے ہیں، لیکن مذاکرات کی رفتار اور دائرہ کار کا فیصلہ دونوں ممالک کو خود کرنا ہوگا۔‘‘

1972 کا شملہ معاہدہ ہندوستان اور پاکستان کو پابند کرتا ہے کہ وہ تمام تنازعات کو دو طرفہ طور پر حل کریں، جب تک کہ دونوں ممالک متفق ہو کر کسی تیسرے فریق کو شامل نہ کریں۔ اس معاہدے نے پاکستان کو ہندوستان کے معاملات میں کسی بیرونی مداخلت سے روکا ہے۔ اس کے باوجود پاکستان بار بار چاہتا ہے کہ ٹرمپ ثالثی کریں۔


جرمن اخبار ’فرینکفرتر الگمائن زیتونگ‘ نے رپورٹ کیا کہ مودی نے ٹرمپ کے فون کالز نہیں اٹھائے۔ اگرچہ ماہر ہندوستانی سفارتکار اسے بے بنیاد تصور کرتے ہیں، لیکن مودی کے غیر متوقع اقدامات کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے یہ قیاس بالکل بے جا بھی نہیں لگتا، جس میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ انہوں نے گیارہ برسوں میں ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کی۔

یہ کہا جا رہا ہے کہ مودی نے یہ کام ایک امریکی لابنگ فرم ’مرکری پبلک افیئرز‘ کو آؤٹ سورس کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ کی چیف آف اسٹاف سوسی ولس پہلے اسی فرم میں رجسٹرڈ لابیسٹ تھیں اور انہیں ٹرمپ کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ آگے کیا ہوگا یہ وقت ہی بتائے گا۔

اسی دوران ٹرمپ نے 38 سالہ سرجیو گور کو ہندوستان ارت میں امریکہ کا سفیر مقرر کیا ہے۔ گور کا اصل نام ’گو روخووسکی‘ ہے اور وہ ازبکستان کے شہر تاشقند میں پیدا ہوئے تھے، جو اس وقت سوویت یونین کا حصہ تھا۔ یہ نام عام طور پر سلاوی نسل کے لوگوں میں پایا جاتا ہے اور امکان ہے کہ ان کی والدہ یہودی ہوں، کیونکہ 1994 میں مالٹا منتقل ہونے کے بعد وہ اسرائیلی شہری بن گئیں۔

1999 میں سرجیو گور واشنگٹن یونیورسٹی میں تعلیم کے لیے امریکہ آئے تو ان کا خاندان لاس اینجلس شفٹ ہو گیا۔ گور نے ٹرمپ وکٹری فنانس کمیٹی کے چیف آف اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دیں اور ’میک امریکہ گریٹ اگین‘ مہم کے سینئر مشیر بھی رہے۔ ٹرمپ کے دوبارہ انتخاب کے بعد انہیں صدر کے پرسنل آفس کا سربراہ بنایا گیا تاکہ امریکی سرکاری اداروں میں صرف ٹرمپ جیسی سوچ رکھنے والے افراد کو ہی بھرتی کیا جائے۔

گور میڈیا کے ماہر اور ٹرمپ کے وفادار ہیں، لیکن انہیں سفارتکاری کا کوئی تجربہ نہیں۔ پھر بھی ہندوستان میں سفیر ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کا خصوصی ایلچی بھی مقرر کیا گیا ہے، ایک ایسا وسیع دائرہ کار جس پر ہندوستان خوش نہیں ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔