رافیل سودا اگر فرانس میں گھوٹالہ ہے تو ہندوستان میں کیوں نہیں!

پی این ایف کو آخر کیا سوجھی کہ اس نے ایک شکایت پر دو ماہ سے بھی کم وقت میں عدالتی جانچ بٹھا دی جب کہ اس طرح کے عمل میں عموماً ایک سال کا وقت تو لگ ہی جاتا ہے؟

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

آشیش رے

فرانس کے قومی مالیاتی پرازیکیوٹر آفس (پی این ایف) کو آخر کیا سوجھی کہ اس نے ایک شکایت پر دو ماہ سے بھی کم وقت میں عدالتی جانچ بٹھا دی جب کہ اس طرح کے عمل میں عموماً ایک سال کا وقت تو لگ ہی جاتا ہے؟ وہ بھی جب شکایت میں موجودہ صدر امینوئل میکرون اور اس سے قبل کے صدر فرانسوا اولاند الزامات کے گھیرے میں ہوں؟ اس کے ساتھ ہی کٹہرے میں ہوں فرانس کے موجودہ وزیر خارجہ جین یویس لیدریان جنھوں نے وزیر دفاع رہتے نریندر مودی حکومت کے ساتھ رافیل سودے کا تال میل کیا ہو؟

ان سوالوں کے جواب فرانس میں بدعنوانی کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے جانے جانے والے معروف غیر سرکاری ادارہ ایسو شیرپا کی 35 صفحات کی شکایت میں درج ٹھوس ثبوتوں میں ہیں۔ پی این ایف سے کی گئی اس شکایت میں اہم الزام یہ تھا کہ رافیل بنانے والے دیسالٹ ایویشن کے ہندوستان میں آفسیٹ معاون کے طور پر انل امبانی کے ریلائنس گروپ کی منمانے طریقے سے تقرری کی گئی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں شبہات کی انگلی نریندر مودی کی جانب ہے۔


اپریل میں مجرمانہ شکایت درج ہونے کے بعد یہ بات تو سبھی کی جانکاری میں آ گئی کہ اس سودے میں بدعنوانی، اونچی پہنچ کے استعمال، منی لانڈرنگ جیسے تمام قسم کے الزامات ہیں۔ لیکن ان الزامات میں جس طرح کی تفصیلات دی گئی ہیں، وہ نہایت سنگین قسم کی ہیں اور اسی وجہ سے عدالتی جانچ کا فیصلہ کیا گیا، اور اگر اس میں ٹھوس ثبوت نکلے تو پھر اس معاملے میں مجرمانہ مقدمہ بھی چلے گا۔

فرانس کی عدالت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اس بات کی تفتیش کرائے کہ رافیل سودے میں شفافیت کیوں نہیں برتی گئی اور کیسے ہندوستانی فضائیہ کو فروخت کیے گئے 36 جنگی جہازوں کی قیمت کانگریس کی گزشتہ منموہن سنگھ حکومت کو 126 جہاز فروخت کرنے کے لیے دیے گئے کوٹیشن کے مقابلے میں فی طیارہ اتنی زیادہ ہو سکتی ہے؟ کیا اس سودے کے ذریعہ ریلائنس یا امبانی کو فائدہ پہنچانے پر رضامندی تھی؟ شیرپا نے امبانی کو ’نریندر مودی کا قریبی ساتھی‘ قرار دیا ہے۔


شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امبانی کی ریلائنس دیسالٹ کی معاون بننے کے لیے اہل ہی نہیں تھی۔ اور اس کے باوجود ریلائنس کو ہی معاون چنے جانے کے سبب اس سودے میں بدعنوانی، کسی غیر اہل کو غلط طریقے سے فائدہ پہنچانے جیسے تمام جرائم کو انجام دیے جانے کا اندیشہ کھڑا ہوتا ہے۔ اس میں اس بات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے کہ اس طرح کے کام میں اچھا خاصہ تجربہ رکھنے والی ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ کو کنارے کر دیا گیا جب کہ وہ دیسالٹ کے ساتھ سمجھوتے پر دستخط کرنے ہی والی تھی۔ اس کے علاوہ رافیل کے ہاتھوں شکست کھانے والے جرمن، برٹش، اسپینش کنسورٹیم کے ذریعہ بنائے جا رہے یورو فائٹر ٹائفون کی جانب سے تب وزیر دفاع کا بھی کام دیکھ رہے آنجہانی ارون جیٹلی کو 4 جولائی 2014 میں خط بھی لکھا گیا تھا اور ارون جیٹلی کی گزارش پر یورو فائٹر کے پہلے سونپی گئی تجویز میں دی گئی قیمت میں 20 فیصد کی کمی کرنے کے ساتھ ہی یقین دہانی کی گئی کہ فوری ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے ہندوستان میں ہی اس کا پلانٹ لگا کر تکنیک کی منتقلی ہوگی۔ اس سے ہندوستان میں 20 ہزار اعلیٰ سطحی ملازمتیں آتیں۔

اس کے علاوہ شیرپا نے اس بات پر حیرانی ظاہر کی ہے کہ آخری فی طیارہ قیمت میں گزشتہ کوٹیشن کی گئی قیمت کے مقابلے میں اتنا زیادہ اضافہ کیسے ہو سکتا ہے۔ یہ ایک بے حد سنگین معاملہ ہے جس میں ایک شخص کی مدد کے لیے ملکی مفاد کو سرے سے ہوا میں اڑا دیا گیا۔ شیرپا کا یہ بھی کہنا ہے کہ سودے میں 50 فیصد تک کا آفسیٹ انتظام ہے اور اس طرح دیسالٹ اور ریلائنس کے درمیان دیسالٹ ریلائنس ایرو اسپیس لمیٹڈ ایک مشترکہ ادارہ ہے جس میں 10 فیصد سے بھی کم مالی عزائم کے ساتھ ریلائنس کے پاس 51 فیصد حصہ داری ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی شیرپا نے اسے بھی ایشو بنایا ہے کہ ریلائنس کی خراب مالی حالت دیکھتے ہوئے اسے دیسالٹ کے معاون کے طور پر آخر چن کیسے لیا گیا؟


19 ستمبر 2018 کو فرانسیسی پبلشر میڈیا پارٹ نے ریلائنس کو چنے جانے پر فرانس کے صدر اولاند کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا ’’یہ حکومت ہند تھی جس نے اس سروس گروپ کا نام سجھایا اور تب دیسالٹ نے امبانی سے بات چیت کی۔ ہمارے پاس کوئی متبادل نہیں تھا۔‘‘ 11 اکتوبر 2018 کو میڈیا پارٹ نے ایک اور مضمون شائع کیا جس میں انکشاف کیا گیا کہ دیسالٹ ایویشن کے ڈائریکٹر جنرل لوئک سیگالین نے فرانسیسی اراکین پارلیمنٹ کے سامنے کہا ہے کہ ’’ہندوستان کو رافیل بیچنے کا سودا پانے کے لیے دیسالٹ ایویشن کے لیے اس بات کو ماننا ضروری تھا۔‘‘ اب یہ تفتیش کرنے والی عدالت پر ہے کہ وہ اولاند اور سیگالین کے بیانوں کے معنی نکالے۔

شیرپا کا کہنا ہے کہ ایسا ماننے کی مدلل بنیاد ہے کہ ہندوستان میں غیر معمولی رسائی رکھنے والے ایک شخص نے یقینی کیا کہ رافیل سودے سے ریلائنس اور امبانی کو فائدہ ہو۔ این جی او نے زور دے کر کہا ہے کہ ریلائنس/امبانی کو اس سے فائدہ ہوا اور تب تک ہوتا رہے گا جب تک دیسالٹ ریلائن ایرواسپیس لمیٹڈ کے تحت حصہ داری کا انتظام رہے گا۔ میڈیا پارٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جن دستاویزوں کی بنیاد پر انکشاف کیا ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی بچولیے سوشین گپتا کے ذریعہ دیسالٹ بدعنوانی، رسائی کا فائدہ اٹھانے اور منی لانڈرنگ میں ملوث رہی۔ اس نے 4 اپریل 2021 کو انکشاف کیا تھا کہ فرانس کی بدعنوانی مخالف ایجنسی نے دیسالٹ کے اکاؤنٹس کی چھان بین میں پایا تھا کہ کمپنی نے گپتا کو 50 لاکھ یورو دیے۔ اس کے بارے میں بتایا گیا کہ ہندوستان میں گفٹ کے طور پر بانٹے جانے والے رافیل کے 50 ماڈل بنانے کے لیے یہ 50 فیصد رقم دی گئی تھی۔ لیکن ایجنسی نے اس کے لیے دیسالٹ کی خبر نہیں لی۔


ویسے، یہ بات بھی اپنے آپ میں دلچسپ ہے کہ فرانس-ہندوستان کے درمیان ہوئے اس بین سرکاری سودے میں بدعنوانی مخالف کلاؤز ہے ہی نہیں جس کے تحت بدعنوانی ہونے کی حالت میں ہندوستان معاوضے کا حقدار ہوتا۔ فرانس کے ثالثین نے مبینہ طور پر زور دے کر اس ریگولیٹری کلاؤز کو ہٹانے کی دلیل دی اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے۔ اس معاملے میں ہندوستانی وزارت دفاع کی ثالث ٹیم کی باتیں نہیں سنی گئیں۔ ہندوستانی ٹیم کا اندازہ تھا کہ فضائیہ کے مطالبہ کے مطابق اسلحوں سے لیس 36 رافیل طیاروں کی قیمت 5.06 ارب یورو ہونی چاہیے۔ لیکن ہندوستان 7.8 ارب یورو دینے کو متفق ہو گیا۔

شیرپا کے کارگزار ڈائریکٹر سینڈرا کوزارٹ نے کہا کہ ’’یہ معاملہ آج (فرانسیسی افسران کے) بدعنوانی مخالف رخ کی ناکامی کو ظاہ رکرتا ہے۔‘‘ این جی او کے وکیل ولیم بارڈن اور ونسنٹ برین گارتھ کا کہنا ہے کہ عدالتی عمل کے دوران ’سرکاری اسکینڈل کی جانب اشارہ کرتے اس عمل میں ذمہ دار لوگوں کی پہچان کی جائے گی۔‘


دیسالٹ نے پہلے میڈیا پارٹ کو کہا تھا کہ ’’36 طیاروں کے سودے کو حاصل کرنے میں کسی طرح کی کوئی گڑبڑی نہیں ہوئی، خاص طور پر سودے کا پروویزن تیار کرنے میں۔‘‘ حالانکہ پورٹل نے ایسے ’خفیہ دستاویز‘ ہاتھ لگنے کا دعویٰ کیا تھا جس سے انکشاف ہوتا تھا کہ ’حقیقت تو یہ تھی کہ اگر سیاسی وجہ نہیں ہوتی تو دیسالٹ کی تو ریلائنس کے ساتھ شراکت داری کی کوئی خواہش ہی نہیں تھی‘۔ میڈیا پارٹ نے کہا تھا کہ ریلائنس کے ساتھ گٹھ جوڑ سے دیسالٹ ’سیاسی اثر‘ حاصل کر سکا۔ پورٹل نے دعویٰ کیا کہ اس کے پاس دونوں کمپنیوں میں ہوئے سمجھوتے کے کاغذات ہیں جس میں ریلائنس پر ’حکومت ہند میں پروگرام اور سروسز کی مارکیٹنگ‘ کی ذمہ داری تھی۔

شیرپا کی شکایت میں جس طرح کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، وہ فرانس کی تعزیرات کی 16 دفعات کے تحت آتے ہیں۔ اس کی حمایت میں 40 ثبوت دیے گئے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔