ایودھیا: بابری مسجد کا پتہ پوچھنے والے شخص کو اٹھا لے گئی پولیس، پوچھ تاچھ جاری

ابھی تک ہوئی پوچھ تاچھ میں بلال نے پولیس کو جو کچھ بھی بتایا ہے وہ صحیح ہے اور کچھ بھی مشتبہ نظر نہیں آ رہا ہے، لیکن پولیس اس سے مزید پوچھ تاچھ کر رہی ہے تاکہ ہر طرح سے اطمینان ہو جائے۔

علامتی تصویر
علامتی تصویر
user

تنویر

اتر پردیش کے ایودھیا میں منہدم بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کا کام زور و شور سے جاری ہے۔ اس درمیان ایک شخص نے ایودھیا پہنچ کر ایک سیکورٹی اہلکار سے قدیم بابری مسجد کا پتہ پوچھ لیا جس سے اس کے لیے مصیبت کھڑی ہو گئی ہے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق بلال نامی ایک شخص نے رام جنم بھومی درشن مارگ پر تعینات سیکورٹی اہلکاروں سے بابری مسجد کے بارے میں پوچھا کہ وہ کہاں پر تھا اور کیا وہ اس جگہ کو دیکھ سکتا ہے۔ اس سوال نے سیکورٹی اہلکار کے ذہن میں شبہ پیدا کر دیا کہ کہیں یہ شخص کوئی غلط ارادہ سے تو ایودھیا نہیں پہنچا ہے۔ یہ سوچتے ہی سیکورٹی اہلکار نے مقامی پولیس کو خبر دی اور پھر خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں نے مشتبہ شخص سے پوچھ تاچھ شروع کر دی۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق بلال سے ہوئی ابھی تک کی پوچھ تاچھ میں اس نے جو کچھ بھی بتایا ہے وہ صحیح ہے اور کچھ بھی مشتبہ نظر نہیں آ رہا ہے۔ لیکن پولیس اس سے مزید پوچھ تاچھ کر رہی ہے تاکہ ہر طرح سے اطمینان ہو جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ بلال مراد آباد کا رہنے والا ہے اور اس نے بتایا کہ وہ تین دن قبل ہی ایودھیا پہنچا ہے۔ بلال نے یہ بھی بتایا کہ وہ ’دعوتِ اسلامی‘ نامی ادارہ کا کارکن ہے اور اس نے اپنے ادارہ کے کارکنوں سے بابری مسجد کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ اب وہاں مندر بن رہا ہے۔


حراست میں لیے گئے بلال کا کہنا ہے کہ وہ اس جگہ کو دیکھنا چاہتا تھا جہاں بابری مسجد تھی۔ ایودھیا پہنچنے کے بعد اس نے وہاں تعینات سیکورٹی اہلکار سے ہی پوچھ لیا کہ بابری مسجد کہاں تھی؟ جانکاری کے مطابق بلال نے سیکورٹی اہلکاروں سے جب یہ سوال پوچھا کہ کیا وہ بابری مسجد والی جگہ دیکھنے جا سکتا ہے، تو انھیں شبہ ہوا جس کے بعد سیکورٹی اہلکاروں نے رام جنم بھومی تھانہ میں خبر دی اور بلال کو پولیس کے حوالے کر دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 09 Jul 2021, 6:11 PM