کب تک یہودیوں اور عیسایوں کو کوستے رہیں گے؟

شعیہ، سنی، بریلوی، اہل حدیث، اہل قران اور نہ جانے کتنے فرقہ ہیں جن میں شدید اختلافات سے مسلمان روزانہ دو چار ہوتے ہیں اور ہر فرقہ اور مسلک خود کے علاوہ کسی کو صحیح ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

سید خرم رضا

دو ہفتوں سے افغانستان اور طالبان پوری دنیا کے ذرائع ابلاغ پر چھایا ہوا ہے۔ امریکی فوجیوں کی واپسی کا عمل جاری تھا اور امریکی فوجیوں کی بہت تھوڑی سی تعداد افغانستان میں بچی تھی کہ خبر آئی کہ کابل سمیت پورے افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہو گیا ہے اور افغان صدر اشرف غنی ملک چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔ اس کے بعد ذرئع ابلاغ میں طالبان کے پرانے دور کی یادیں تازہ کی جانے لگیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کے کابل سے نکلنے کی بے چینی میں ایئرپورٹ پر جمع ہونے کی خبریں گشت کرنے لگیں۔ ایسے میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی جانب سے خبر آئی کہ کسی بھی وقت کابل ایئرپورٹ پر دہشت گردانہ حملہ ہو سکتا ہے اور ان ممالک نے اپنے شہریوں کو کابل ائیرپورٹ سے دور رہنے کے لئے کہا۔ اس انتباہ کے جاری ہونے کے ایک دو دن بعد ہی کابل ایئرپورٹ پر دھماکے ہوئے جس میں متعدد لوگ مارے گئے اور بڑی تعداد میں لوگ زخمی ہو گئے۔ داعش کے ایک گروپ نے ان دھماکوں کی ذمہ داری لی۔

یہ وہ خبریں تھیں جو دنیا کے ذرائع ابلاغ میں گزشتہ دو ہفتوں سے سرخیاں بنی رہیں۔ افغانستان جس پر کئی حکمرانوں اور حکومتوں نے قبضہ کرنے کی کوشش کی اور کچھ دنوں کے لئے ان میں سے کچھ کا قبضہ بھی رہا، لیکن سب کو آخر میں وہاں سے جانا پڑا اور ان کے لئے افغانستان ایک قبرستان ثابت ہوا جس کی وجہ سے یہ بھی کہا جانے لگا کہ افغانستان کئی حکومتوں کا قبرستان ثابت ہوا۔ افغانستان میں جہاں سب سے بڑی آبادی پشتونوں کی ہے وہیں وہاں پر ہزارا، ازبیک، تاجک قبیلوں کی ایک بڑی آبادی بھی ہے۔ اکثریت سنی مسلمانون کی ہونے کے باوجود قبیلوں میں خوب لڑائی ہے اسی لئے کسی بھی حکومت اور حکمراں کے لئے افغانستان میں آنا مشکل نہیں رہا، لیکن جب یہ قبیلے بیرونی طاقت کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں تو پھر ان بیرونی طاقتوں کے لئے افغانستان کی زمین تنگ ہو جاتی ہے۔ چاروں طرف سے مختلف ممالک سے گھرا ہوا افغانستان افیون یعنی افیم کی کاشت کے لئے سب سے زیادہ مشہور ہے اور یہ کاشت ہی ہے جس کی وجہ سے دنیا کے کئی ممالک کی نظریں اس پر رہتی ہیں۔ مشرق اور جنوب میں پاکستان، مغرب میں ایران، شمال میں ترکمانستان اور ازبکستان اور شمال مشرق میں چین اور تاجکستان کی سرحدوں سے گھرے افغانستان کی معیشت میں افیم کی کاشت کا اہم کردار ہے۔ طالبان نے جنہوں نے اپنے گزشتہ دور اقتدار میں افیم کی کاشت پر پابندی لگا دی تھی، ان کی معیشت اسی کاشت پر ٹکی ہو ئی ہے۔


افغانستان میں لڑنے اور لڑائی میں مرنے والے مسلمان ہیں، چاہے وہ ایک دوسرے کی گولی سے سامنے سے مریں یا خود کش اور کار دھماکوں میں مارے جائیں۔ سب اللہ کو ماننے والے اور محمد رسول اللہ کو ماننے والوں میں سے ہیں اور سب اسلام کے لئے جان دیتے اور جان لیتے ہیں۔ افغانستان ہی کیا دنیا کے بڑے خطے میں مسلمان آپس میں لڑتے نظر آ ئیں گے۔ جو جس مسلک کا ماننے والا ہے اس کو باقی سب مسلک غلط لگتے ہیں۔ مسلک تو بہت دور کی بات ہے، اپنے خیالات اور نظریات کے علاوہ وہ کسی دوسرے کے خیال اور نظریہ سے اتفاق ہی نہیں کرتا۔ ان اختلافات کی وجہ ان مسالک اور نظریات کی تبلیغ کرنے والے علمائے کرام ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تمام مسالک، نظریات کے ماننے والے آپسی اتحاد کی تبلیغ کی بات کرتے ہیں، آپسی بھائی چارہ کی بات کرتے ہیں لیکن خود اس پر عمل نہیں کرتے۔

شعیہ، سنی، بریلوی، اہل حدیث، اہل قران اور نہ جانے کتنے فرقہ ہیں جن میں شدید اختلافات سے مسلمان روزانہ دو چار ہوتے ہیں اور ہر فرقہ اور مسلک خود کے علاوہ کسی کو صحیح ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ان کے اندر موجود تنظیمیں اور اشخاص میں شدید اختلافات واضح ہیں لیکن سب اتحاد، دنیا ایک فانی چیز ہے اور آخرت کی زندگی کے لئے عمل کرنے پر زور دیتے ہیں۔ جمعیتہ علماء ہند، جو چند سال پہلے تقسیم ہوئی اور جس کے ایک گروپ کی نمائندگی چچا کرتے ہیں اور دوسرے کی بھتیجے کرتے ہیں، دونوں گروپوں کے قائدین آپسی اتحاد کی تبلیغ کرتے ہیں لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ دونوں فریق اپنے دعوے کو لے کر عدالت تک گئے۔ اس عمل کو صرف اختلافات کا نام نہیں دیا جا سکتا، یا یہ کہ اس کو دو افراد کا زمین اور کسی چیز کے لئے جھگڑا نہیں قرار دیا جا سکتا کیونکہ دونوں فریق اپنے ماننے والوں کی آپسی اتحاد کی تبلیغ کر رہے ہیں۔


دراصل یہی ذہنیت ہے جس کی وجہ سے مسلمان پوری دنیا میں بدنام ہے اور پوری دنیا میں ذلیل ہو رہا ہے۔ اس کے قائد تبلیغ تو کرتے ہیں اتحاد کی اور اپنی بات کی خاطر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور اس کی جان لینے سے گریز نہیں کرتے۔ اگر قائدین نے اپنے رویہ میں تبدیلی نہیں کی اور اپنی زبان اور عمل میں اسی تضاد کا مظاہرہ کیا تو یہ ذلت ہوتی رہے گی اور مسلمان پوری دنیا میں یا تو سر جھکا کر شرمندہ نظر آ ئے گا یا پھر یہودیوں اور عیسائیوں کو کوستا رہے گا۔ اگر مسلمان اتحاد اور عزت چاہتے ہیں تو ان کے قائدین کو اپنے قول و عمل میں موجود تضاد کو دور کرنا ہوگا، نہیں تو افغانستان کیا ہر جگہ شرمندہ اور ذلیل ہوتے رہیں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔