مواصلاتی انقلاب سے لے کر ٹیکہ کاری تک، راجیو گاندھی کی حکومت میں چلی 6 مہم نے ہندوستان کی تصویر بدل دی: سیم پیترودا

سیم پیترودا کا کہنا ہے کہ ’’راجیو کے دور میں تکنیک پر مبنی 6 مشن یعنی مواصلات، خواندگی، پینے والا پانی، ٹیکہ کاری، خوردنی تیل اور ڈیری سے متعلق چلائے گئے جس نے ہمیشہ کے لیے ہندوستان کی تصویر بدل دی۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سنیوکتا بسو

سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قریبی اور ہندوستان میں ٹیلی کام و مواصلاتی انقلاب کے قائد رہے سیم پیترودا کا کہنا ہے کہ ہندوستان کو عزت، وقار اور بھروسہ کے ساتھ اکیسویں صدی میں لے جانا راجیو گاندھی کا خواب تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ راجیو گاندھی تکنیک کے استعمال سے جدیدیت اور ترقی کی رفتار کو تیز کرنا چاہتے تھے۔ سیم پیترودا کہتے ہیں کہ بھلے ہی راجیو گاندھی کا دور اقتدار بہت چھوٹا رہا، لیکن ان کی حصولیابیوں کو پانچ سال کے دائرے میں نہیں بلکہ اس بیج کی طرح دیکھا جانا چاہیے جس کی انھوں نے مستقبل کو دھیان میں رکھ کر آبیاری کی۔

سیم پیترودا کہتے ہیں کہ ’’جب راجیو گاندھی وزیر اعظم بنے، ملک میں 20 لاکھ ٹیلی فون کنکشن تھے اور نئے کنکشن لینے میں دس دس سال کا وقت لگتا تھا۔ انھیں پتہ تھا کہ ٹیلی مواصلات اہم کردار نبھانے والا ہے، لیکن اس میں غیر ملکی تکنیک درآمد کرنا ہی کافی نہیں ہوگا۔ انھوں نے ایسا ماڈل سوچا جو فون ڈنسٹی نہیں بلکہ دیہی مواصلات اور ٹیلی فون رسائی پر مرکوز تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ راجیو گاندھی نے آئی ٹی اور ٹیلی مواصلات شعبہ کو نوجوانوں میں مقبول بنایا اور اسی کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے پاس 1.2 ارب فون ہیں۔ ہم سافٹ ویئر برآمدگی میں صفر سے 150 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ سکے۔ آج ہندوستان دنیا کا آئی ٹی پاور ہاؤس ہے تو اس کا سہرا راجیو گاندھی کو جاتا ہے۔


سیم پیترودا صرف ٹیلی کام اور مواصلاتی انقلاب کو ہی راجیو گاندھی کی حصولیابی نہیں مانتے، بلکہ صحت کے شعبہ میں بھی ان کے تعاون کو یاد کرتے ہیں۔ انھں نے کہا کہ ’’ٹیکہ کاری کو ہی لے لیجیے۔ 80 کی دہائی میں ہم زیادہ ویکسین نہیں بناتے تھے لیکن پولیو کے سب سے زیادہ شکار ہمارے یہاں تھے۔ راجیو گاندھی نے فیصلہ کیا کہ ہمیں خود پولیو ویکسین بنانا چاہیے۔ کسی کو بھروسہ نہیں تھا کہ ہندوستان ایسا کر سکے گا، لیکن راجیو کے اس خواب کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ہندوستان دنیا کا سب سے بڑا ویکسین ساز ہے۔ انھوں نے ٹیکہ کاری مشن چلائی جس کے تحت ہم نے ہر سال دو کروڑ حاملہ خواتین اور اتنے ہی نوزائیدہ کی ٹیکہ کاری کی۔‘‘

راجیو گاندھی نے تغذیہ پر بھی خصوصی دھیان دیا۔ سیم پیترودا بتاتے ہیں کہ ’’بچوں کو مناسب مقدار میں دودھ مل سکے، اس کے لیے ڈیری ڈیولپمنٹ مشن شروع کیا اور آج ہم دنیا میں دودھ کے سب سے بڑے پروڈیوسر ہیں۔ راجیو کے دور میں 6 تکنیکی مشن یعنی ٹیلی مواصلات، خواندگی، پینے کا پانی، ٹیکہ کاری، خوردنی تیل اور ڈیری چلائے گئے جس نے ہمیشہ کے لیے ہندوستان کی تصویر بدل دی۔‘‘


کیا راجیو گاندھی اور نریندر مودی کے دور اقتدار کا کسی طرح موازنہ کیا جا سکتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں سیم پیترودا ایک واقعہ کو یاد کرتے ہیں کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے والے شخص تھے اور اپنے فیصلے کسی پر تھوپتے نہیں تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ’’راجیو گاندھی نے ایک بار مجھ سے کہا- سیم، آپ، وی کرشن مورتی اور عابد حسین پلاننگ کمیشن کے نائب سربراہ کے پاس جائیں اور کچھ صنعتوں کی نجکاری پر ان سے بت کریں۔ ہم مادھو سنگھ سولنکی کے پاس گئے اور ایک گھنٹے تک ان سے بات کی، لیکن وہ نہیں مانے۔ س پر راجیو نے کہا کہ- ٹھیک ہے، ہم ان کے مان جانے کا انتظار کریں گے۔ راجیو چاہتے تو فیصلہ تھوپا جا سکتا تھا، لیکن انھوں نے ویسا نہیں کیا۔ آج ویسی قیادت کا فقدان ہے۔ ویسی قیادت، جو سب کو ساتھ لے کر چلتا ہو۔‘‘

آج کے اقتدار کے بارے میں سیم پیترودا کا کہنا ہے کہ ’’عدلیہ، پولیس، انکم ٹیکس محکمہ، میڈیا، یونیورسٹی- سب آج اوپر سے حاصل حکم پر عمل کرتے ہیں۔ ان کی ایمانداری اقتدار میں بیٹھے لوگوں میں ہے۔ یہ ہماری جمہوریت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ مذہب کے نام پر سماج کو تقسیم کیا جا رہا ہے، ہمارے تنوع کی عزت نہیں کی جا رہی ہے، نظام سب کے لیے یکساں نہیں ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ایک بڑا فرق یہ بھی ہے کہ سول سوسائٹی کا آج کوئی کردار نہیں رہ گیا ہے۔ پانی، توانائی، تعلیم، حقوق نسواں، بچہ مزدوری کا خاتمہ جیسے شعبوں میں اس نے کافی کام کیا لیکن حکومت نے انکم ٹیکس چھاپہ ماری، جھوٹے الزامات اور بلاوجہ عدالتی کیسوں کے ذریعہ اس حمایت ک گلا گھونٹ دیا ہے۔‘‘


سیم پیترودا راجیو گاندھی کے انتقال کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملک کو صحیح معنوں میں پتہ ہی نہیں ہے کہ نہرو-گاندھی فیملی ہندوستانی سوچ کے بارے میں کس قدر پرعزم رہی ہے۔ وہ 1991 (اسی سال راجیو گاندھی کا قتل کیا گیا تھا) کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’’میں اس انتخابی مہم میں کافی سرگرم تھا۔ ایک دن پہلے ہی میری ان سے بات ہوئی تھی۔ اس دن میں جلدی سونے چلا گیا تھا۔ فون کی گھنٹی بجی۔ فون میری سوانح لکھنے والے مینک چھایا کا تھا۔ انھوں نے کہا ’راجیو گاندھی کا قتل کر دیا گیا ہے۔‘ ایسا لگا جیسے میرے پیر کے نیچے سے زمین نکل گئی ہو۔ اگلا فون الیکشن کمشنر ٹی این سیشن کا تھا۔ انھوں نے کہا ’سیم، آپ بیوی سمیت میری رہائش پر آ جائیں، یہاں زیادہ محفوظ رہیں گے۔‘ میں نے ان سے کہا ’اگر تشدد ہوتا ہے تو ہونے دیں، میں اپنے گھر پر ہی رہوں گا۔‘‘

سیم پیترودا انتہائی محبت کے ساتے کہتے ہیں کہ ’’راجیو گاندھی نے میری زندگی کو معنی دیا۔ انھوں نے مجھے ایک مشن سونپا جس سے ہندوستان اپنے آپ سے جڑ سکے۔ یہ میری زندگی کی سب سے اطمینان بخش بات ہے۔ میں کروڑوں کما سکتا تھا، لیکن تب میرے پاس وہ اطمینان و سکون نہیں ہوتا جو آج ہے۔ ان کے انتقال سے ہندوستان کو اکیسویں صدی میں لے جانے کا ہمارا خواب ٹوٹ گیا۔ لوگ جب نہرو-گاندھی فیملی کی تنقید کرتے ہیں تو انھیں پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ لوگوں کو اندازہ نہیں کہ اس فیملی کی ہندوستانی سوچ کے تئیں کیسا عزم رہا ہے۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔