پہلے صدر جمہوریہ نے نہیں مانی تھی نہرو کی بات، اب تو کوئی کہنے والا ہی نہیں

پی ایم جواہر لال نہرو کو جب پتہ چلا کہ صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد سومناتھ مندر کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے جا رہے ہیں تو تحریری طور پر کہا تھا کہ حکومت کو ایسی مذہبی تقریبات سے دور رہنا چاہیے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

سید خرم رضا

70 سال پہلے جب سومناتھ کے مندر کا افتتاح ہوا تھا تو یہ افتتاح اس وقت کے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد نے کیا تھا۔ اس وقت کے صدر جمہوریہ نے افتتاح اس وقت کیا تھا جب ملک کے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے کہا تھا کہ حکومت کو مذہبی کاموں سے خود کو دور رکھنا چاہیے۔ آج 70 سال بعد پھر یہ بحث ہو رہی ہے کہ وزیراعظم کو کیا رام مندر کی تعمیر کے لئے ہونے والے بھومی پوجن میں شرکت کرنا چاہیے یا نہیں؟ اب سے کچھ دیر بعد وزیر اعظم نریندر مودی بھومی پوجن کی تقریب میں شرکت کریں گے اور پوجا کریں گے۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد رام مندر تعمیر کا راستہ صاف ہو گیا تھا جبکہ بہت سے لوگوں نے عدالت کے اس فیصلہ پر حیرت کا اظہار کیا تھا لیکن ہندوستان کے مسلمانوں نے نہ تو اس کی مخالفت کی تھی اور نہ ہی کوئی احتجاج کیا تھا۔ اسی طرح 70 سال پہلے بھی ہندوستان کے مسلمانوں نے سومناتھ کا مندر تعمیر ہونے پر کوئی احتجاج نہیں کیا تھا لیکن حکمراں جماعت میں اس کے افتتاحی تقریب میں حکومت کے نمائندوں کی شرکت کو لے کر ضرور اختلاف تھا۔

رام چندر گوہا کی کتاب کے مطابق جب وزیر اعظم جواہر لال نہرو کو یہ اطلاع ملی کہ صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد مندر کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے جا رہے ہیں تو نہرو نے تحریری طور پر صدر جمہوریہ کو کہا تھا کہ حکومت کو ایسی مذہبی تقریبات سے دوری بنائے رکھنی چاہئے۔

واضح رہے کہ آزادی کے بعد جب سردار ولبھ بھائی پٹیل نے جونا گڑھ جا کر مندر کے تعمیر نو کا اعلان کیا تھا اور اس کے بعد بابائے قوم مہاتما گاندھی سے ملاقات کی تھی تو کہا جاتا ہے کہ مہاتما گاندھی نے اس کی اجازت دیتے ہوئے مشورہ دیا تھا کہ اس کی تعمیر حکومت کو نہیں کرنا چاہئے اور حکومت سے کوئی فنڈ نہیں دیا جانا چاہئے۔ مہاتما گاندھی کا بھی واضح اشارہ تھا کہ حکومت کو ایسے مذہبی کاموں سے دور رہنا چاہئے اور ایسے کام عوام کو ہی کرنے چاہیئں۔

70 سال بعد حکومت میں تو کوئی اس مدے پر اختلاف رائے کا اظہار کرنے والا نہیں ہے اور اویسی جو مخالفت کرتے ہیں اس سے ہندوستان کے مسلمانوں کی شبیہ مندر مخالف والی بنتی ہے جس سے فائدہ بی جے پی یا اس کی اتحادی پارٹیوں کو ہی ہوتا ہے۔

Published: 5 Aug 2020, 10:58 AM
next