جنوبی ہند سے طلوع ہو رہا ہے کانگریس کا سورج...سہیل انجم
جنوبی ہند میں کانگریس کی سیاسی پوزیشن مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔ کرناٹک، کیرالہ، تلنگانہ اور تمل ناڈو میں پارٹی حکومت یا اقتدار کا حصہ ہے، جس سے اس کی قومی سطح پر واپسی کی امیدیں بڑھ گئی ہیں

ملک میں ایمرجنسی کے بعد جب 1977 میں پارلیمانی انتخابات ہوئے تھے تو اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی سمیت پوری کانگریس شکست سے دوچار ہو گئی تھی۔ اپوزیشن جماعتوں کے انضمام سے قائم ہونے والی جنتا پارٹی کی فتح ہوئی تھی اور مرارجی دیسائی وزیر اعظم بنائے گئے تھے۔ لیکن وہ حکومت اپنی مدت مکمل نہیں کر سکی اور 1980 میں وسط مدتی انتخابات ہوئے اور کانگریس دوبارہ برسراقتدار آ گئی تھی۔ 1977 میں کانگریس کی شکست کے بعد ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ یہ پارٹی اب دوبارہ کھڑی نہیں ہو سکتی۔ لیکن اندرا گاندھی کی کرشماتی شخصیت نے کانگریس کے تن مردہ میں جان ڈال دی تھی۔
لیکن اس سے قبل ہی 1978 میں اندرا گاندھی نے اپنی انتخابی شکست کا بدلہ لے لیا تھا۔ اس وقت جنوبی ہند کی ریاست کرناٹک کے پارلیمانی حلقہ چک مگلور میں وسط مدتی انتخابات ہونے والے تھے۔ اندرا گاندھی نے وہاں سے پرچہ بھرا اور شاندار انداز میں کامیابی حاصل کی۔ انتخابی مہم کے دوران ایک نعرہ جو کہ ذرا غیر مہذب قسم کا تھا لیکن چل گیا اور گلی گلی میں وہی نعرہ لگتا تھا۔ وہ نعرہ تھا ’ایک شیرنی سو لنگور، چک مگلور چک مگلور‘۔ اندرا گاندھی کی شاندار کامیابی پر ملک کے تقریباً تمام اخبارات نے اداریے تحریر کیے تھے اور سبھی نے سرخی لگائی تھی ’اندرا گاندھی کا سورج جنوب سے طلوع ہو گیا‘۔
اب ایک طویل عرصے کے بعد ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ کانگریس کا سورج جنوب سے پھر طلوع ہونے کے لیے بیتاب ہے۔ بی جے پی کی مذہب کی بنیاد پر نفرت انگیز سیاست نے اگر چہ پورے شمالی ہند کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے لیکن جنوبی ہند اب بھی اس فرقہ وارانہ سیاست سے کوسوں دور ہے۔ وہاں کانگریس اپنے پورے وجود کے ساتھ نمایاں انداز میں موجود ہے۔ اس وقت جنوبی ہند کی پانچ ریاستوں میں سے چار یعنی کرناٹک، کیرالہ، تمل ناڈو اور تلنگانہ میں برسراقتدار ہے۔ صرف آندھرا پردیش بچا ہوا ہے۔ کرناٹک، کیرالہ اور تلنگانہ میں وہ تن تنہا حکومت کر رہی ہے۔ جبکہ تمل ناڈو میں وہ وجے حکومت میں شامل ہے۔ تلنگانہ میں ریونت ریڈی، کیرالہ میں وی ڈی ستیشن اور کرناٹک میں ڈی کے شیو کمار وزرائے اعلیٰ ہیں۔ تمل ناڈو میں فلم اداکار تھلاپتی وجے کی پارٹی حکومت کر رہی ہے۔ وہاں کانگریس کے پانچ ارکان اسمبلی کامیاب ہوئے جن میں سے دو کابینہ میں شامل ہیں۔
تمل ناڈو میں کانگریس اور ڈی ایم کے میں کئی دہائیوں سے اتحاد تھا۔ اسمبلی انتخابات میں ڈی ایم کے کی کامیابی کے امنکانات روشن تھے۔ لیکن وہاں وجے کی پارٹی واحد سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ سیاست میں نہ کوئی مستقل دوست ہوتا ہے اور نہ کوئی مستقل دشمن۔ سیاست میں وقت کی نبض کو پہچان کر جراتمندی کے ساتھ بولڈ فیصلے کرنے کی اہمیت ہوتی ہے۔ بی جے پی اس معاملے میں بہت تیز ہے۔ وہ اس کی پروا نہیں کرتی کہ اس کے فیصلے کے بارے میں لوگ کیا کہیں گے۔ راہل گاندھی کی زیر نگرانی کانگریس نے بھی اس گُر کو سیکھ لیا ہے۔ اس نے تملناڈو میں بروقت فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ اس نے تمل ناڈو سے اتحاد توڑ کر وجے کی پارٹی کے ساتھ اتحاد کر لیا۔ جس کے نتیجے میں وہ آج حکومت میں شامل ہے۔ جب وجے کی پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں ہو پائی تو کانگریس نے فوراً اپنے پانچ ارکان کی حمایت اسے دے دی۔ یقیناً یہ ایک مثبت اور اہم فیصلہ تھا جس کا اچھا نتیجہ نکلا۔
ادھر کیرالہ میں سی پی ایم کی زیر قیادت اتحاد ایل ڈی ایف کو شکست ہو گئی اور کانگریس کی زیر قیادت اتحاد یو ڈی ایف کو کامیابی مل گئی۔ لیکن وہاں وزیر اعلیٰ کے انتخاب میں کانگریس کو دس روز لگ گئے۔ سینئر رہنما کے سی وینوگوپال وزیر اعلیٰ کے عہدے کے خواہشمند تھے۔ لیکن پارٹی اعلیٰ کمان ان کے حق میں نہیں تھا۔ لہٰذا منتخب ارکان اسمبلی کے ساتھ صلاح و مشورے کا دور شروع ہوا اور بالآخر ستیشن کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ اس فیصلے تک پہنچنے کے لیے پارٹی کے اندر جو وسیع تر تبادلہ خیال ہوا وہ اس بات کا غماز ہے کہ کانگریس میں داخلی جمہوریت موجود ہے۔
بی جے پی چند روز کے اندر نیتا منتخب کر لیتی ہے۔ دراصل وہاں انتخاب نہیں ہوتا بلکہ غیر جمہوری انداز میں مرکز سے ایک پرچی آتی ہے جس میں وزیر اعلیٰ کا نام لکھا ہوتا ہے۔ بس اسی کو وزیر اعلیٰ بنا دیا جاتا ہے۔ لیکن کانگریس میں ایسا نہیں ہے۔ وہاں جمہوری انداز میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔ بی جے پی میں پارٹی صدر کاانتخاب بھی پرچی سے ہوتا ہے۔ اسی طرح مرکزی قیادت جس کو چاہتی ہے اسے صدر بنا دیتی ہے۔ جبکہ کانگریس میں انتخاب ہوتا ہے۔ اس طرح کیرالہ میں قیادت کا مسئلہ صلاح و مشورے سے حل کر لیا گیا۔
کرناٹک میں جب 2023 میں اسمبلی انتخابات کے بعد سدھا رمیا کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا تو اس وقت یہ بات سامنے آئی تھی کہ ڈی کے شیو کمار کو ڈھائی سال کے بعد وزیر اعلیٰ بنایا جائے گا۔ لیکن سدھارمیا تین سال تک اس عہدے پر فائز رہے۔ گزشتہ چھ ماہ سے قیادت کی تبدیلی کا مسئلہ الجھا ہوا تھا۔ لیکن بہرحال چھ ماہ کے صلاح و مشورے کے بعد ڈی کے شیو کمار کو وزیر اعلیٰ مقرر کر دیا گیا۔ اگر کانگریس میں جمہوریت نہیں ہوتی تو وہا ں بھی ایک پرچی آجاتی اور ڈی کے شیو کمار وزیر اعلیٰ بن جاتے۔ لیکن ایسا آمرانہ فیصلہ نہیں کیا گیا۔ بلکہ سدھا رمیا کے ساتھ صلاح و مشورے کے بعد شیو کمار کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ یہ فیصلہ اس بات کا دلیل ہے کہ ملکارجن کھڑگے کی قیادت اور راہل گاندھی کی نگرانی و مشورے سے پارٹی نے بحران پر قابو پانا سیکھ لیا ہے۔ کانگریس نے جنوبی ہند میں سخت محنت کرکے اپنی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے۔ ان ریاستوں میں اس کے متعدد قدآور رہنما موجود ہیں۔ جیسے کہ ملکارجن کھڑگے، سدھارمیا، ڈی کے شیوکمار، ریونت ریڈی، وی ڈی ستیشن، رمیش چنی تھلا، جی پرمیشورا، کے سی وینوگوپال، وائی ایس شرمیلا اور پی چدمبرم۔
یہ بھی پڑھیں : کیرالہ میں تبدیلی دروازہ کھٹکھٹا رہی… کے اے شاجی
ان ریاستوں میں کانگریس کا مضبوط تنظیمی ڈھانچہ موجود ہے۔ بالخصوص کیرالہ اور کرناٹک میں۔ اس کے کیڈربیسڈ تنظیمی ڈھانچے نے پارٹی کو مضبوط بنیاد پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ جہاں ایک طرف بی جے پی مرکز کے ہاتھوں میں طاقت کا ارتکاز چاہتی ہے اور ان ریاستوں میں ہندی کو تھوپنا چاہتی ہے۔ وہیں کانگریس نے اس سلسلے میں ایک لچکدار رویہ اپنایا ہے۔ پارٹی نے حدبندی کی بھی مخالفت کی جس نے رائے دہندگان میں ایک مثبت پیغام دیا۔ پارٹی نے جہاں ان ریاستوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے وہیں اسے ایک اور ریاست آندھرا پردیش میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنی ہے۔
اس تجزیے کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس طرح جنوبی ہند میں اندرا گاندھی کا سورج طلوع ہوا تھا اسی طرح اب اسی جنوبی ہند سے کانگریس کا سورج طلوع ہو رہا ہے۔ اگر کانگریس کی مرکزی قیادت اور اعلیٰ کمان نے تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنایا اور وقت کی نبض کو پہچان کر بروقت فیصلے کیے تو یقیناً وہ اپنا روشن اور درخشاں ماضی واپس حاصل کر لے گی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
