کیرالہ میں تبدیلی دروازہ کھٹکھٹا رہی… کے اے شاجی
بایاں محاذ پارٹیوں کی اب بھی مضبوط بنیاد اور نظریاتی کشش باقی ہے، لیکن انتخاب محض وراثت کی بنیاد پر نہیں جیتے جاتے۔ اس کے لیے تجدید کی ضرورت ہوتی ہے۔

کیرالہ میں حکومتیں جلدی نہیں بدلتی ہیں۔ یہاں کے سیاسی اتار چڑھاؤ بھی شاذ و نادر ہی ڈرامائی ہوتے ہیں۔ یہ تبدیلیاں آہستہ آہستہ ہوتی ہیں، شبہات کی آوازوں، سوالیہ گفتگو اور بتدریج کمزور ہوتی وفاداریوں کے ساتھ۔ اب جبکہ ریاست میں اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں، یہ ہلکی سی ہلچل بھی صاف نظر آنے لگی ہے۔ 2021 میں کیرالہ میں 4 دہائیوں سے جاری باری باری حکومتوں کی روایت توڑ کر تاریخ رقم کرنے والا سی پی آئی (ایم) کی قیادت والا لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ (ایل ڈی ایف) اب نہ صرف اقتدار مخالف لہر کا سامنا کر رہا ہے، بلکہ اسے سیاسی طاقت کے مزید گہرے زوال کا بھی چیلنج درپیش ہے۔ دوسری طرف کانگریس کی قیادت والا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف) کو اب بائیں بازو کے لڑکھڑانے کا انتظار نہیں کرنا ہے۔ آج اس کے پاس اس وضاحت اور نظم و ضبط کے ساتھ فعال واپسی کے لیے کافی دلائل موجود ہیں، جو برسوں سے اس میں ناپید تھے۔
اپوزیشن لیڈر وی ڈی ستیسن ایک تیز لیکن منظم مقرر کے طور پر ابھرے ہیں۔ ’سنڈے نوجیون‘ سے بات کرتے ہوئے ستیسن نے کہا کہ ’’یہ صرف بدانتظامی کا معاملہ نہیں ہے۔ ہم ایک ایسی صورتحال دیکھ رہے ہیں جہاں بی جے پی کی موجودگی سے سی پی آئی (ایم) کو بالواسطہ فائدہ ہو رہا ہے۔ کیرالہ کا اصل سیاسی سوال یہی ہے۔‘‘ انہوں نے ایل ڈی ایف پر اپنے نظریاتی بنیاد سے بھٹکنے کا الزام لگایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’آج کانگریس حقیقی بائیں بازو کے خدشات کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔ ان میں سے بہت سے لوگ سی پی آئی (ایم) کی بدلتی شکل سے خود کو الگ تھلگ محسوس کرتے ہیں۔‘‘ یہ الزام اپنے آپ میں بائیں بازو کی نظریاتی بنیاد پر ضرب ہے۔ ایسے ریاست میں جہاں سی پی آئی (ایم) طویل عرصہ سے بی جے پی کے خلاف نظریاتی وضاحت کا دعویٰ کرتی رہی ہے، وہاں کسی بھی طرح کی سیاسی مفاہمت کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔ کانگریس اس مقابلے کو محض 2 اتحادوں کے درمیان انتخاب کے طور پر نہیں، بلکہ سیاسی دیانت داری کے سوال کے طور پر پیش کر رہی ہے۔
راہل گاندھی نے اس موقف کو مزید مضبوط کیا ہے، اور وزیر اعلیٰ پینارائی وجین کے ساتھ ان کے بیانات نے انتخابی مہم کو ایسا رخ دیا ہے جو روایت کو توڑتا ہے۔ سیاسی تجزیہ کار جوزف سی میتھیو اس تبدیلی کو بہت واضح طور پر محسوس کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’طویل عرصہ تک کیرالہ میں کانگریس کا کردار رد عمل پر مبنی رہا۔ اب وہ ایجنڈا طے کر رہی ہے۔ سی پی آئی (ایم)-بی جے پی تعلقات کا سوال اٹھا کر وہ بائیں بازو کو نہ صرف اپنے حکومتی ریکارڈ بلکہ اپنی نظریاتی پوزیشن کا بھی دفاع کرنے پر مجبور کر رہی ہے۔‘‘
کانگریس نے زمینی حکمت عملی میں بھی تبدیلی کی ہے۔ گزشتہ ایک سال میں پارٹی نے کیرالہ میں صحت، تعلیم، روزگار اور ریاست کی معیشت کے مستقبل پر مرکوز کئی کانفرنسیں اور کیمپ منعقد کیے۔ یہ صرف علامتی اقدامات نہیں تھے، بلکہ ان کا مقصد ایک ایسی حکمرانی کی منصوبہ بندی پیش کرنا تھا جو ایل ڈی ایف کی تنقید سے آگے ہو۔ صحت کے شعبہ میں کانگریس نے بنیادی ڈھانچے اور عملے کی کمی کو دور کرتے ہوئے بنیادی صحت خدمات کے نیٹورک کو مضبوط بنانے کا وعدہ کیا ہے۔ تعلیم کے شعبہ میں معیار، روزگار کی صلاحیت اور عالمی مسابقت پر زور دیتے ہوئے کیرالہ کی مضبوط معاشی بنیاد کو بدلتے معاشی حالات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ روزگار کے شعبہ میں اس کی توجہ غیرمرکزی صنعتی ترقی، چھوٹے کاروباروں کی مدد کے ذریعے ایسے مواقع پیدا کرنے پر رہی ہے جو ہجرت کو کم کریں۔
اس پالیسی کی سوچ اور پیشکش کے ساتھ ایک واضح سیاسی پیغام بھی ہے، یعنی ’کیرالہ کی سماجی ہم آہنگی کے محافظ کے طور پر کانگریس‘۔ ایسے وقت میں جب قومی سیاست شدید تقسیم کا شکار ہے، یو ڈی ایف اقلیتوں کے حقوق، آئینی اقدار اور سماجی انصاف کے تحفظ کی بات کر رہا ہے۔ پارٹی نے یہ دلیل دیتے ہوئے کہ ترقی کو شمولیت سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کیرالہ کے کثیرالثقافتی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے اپنی وابستگی بار بار دہرائی ہے۔ یہ اتفاقی نہیں ہے بلکہ مختلف طبقات کو جوڑنے والے ایک وسیع سماجی اتحاد کی تعمیر کی کوشش کا مرکزی حصہ ہے۔ کانگریس نے اپنے اندرونی تضادات کو سنبھالنے میں بھی اہم کامیابی حاصل کی ہے۔ پارٹی نے سینئر رہنماؤں اور کے سُدھاکرن جیسے ارکان پارلیمنٹ کی خواہشات سمیت امیدواروں کے انتخاب سے متعلق ممکنہ تنازعات کو نظم و ضبط کے ساتھ سنبھالا ہے۔ تنظیمی پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پارٹی نے عوامی سطح پر کسی بھی طرح کی تقسیم سے گریز کیا ہے، جو گزشتہ انتخابات میں نظر نہیں آیا تھا۔ اس سے ایک مستحکم متبادل کے طور پر اس کی ساکھ مضبوط ہوئی ہے۔
اس کے برعکس، ایل ڈی ایف خود کو ایک پیچیدہ اور غیر آرام دہ صورتحال میں پا رہا ہے۔ پینارائی وجین اب بھی کیرالہ کے سب سے طاقتور سیاسی رہنما ہیں، لیکن ان کی طاقت اب سوالات سے بالاتر نہیں رہی۔ کبھی فیصلہ کن اور اعتماد بخش سمجھی جانے والی ان کی قیادت پر اب سوال اٹھنے لگے ہیں۔ یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ وہ تیزی سے مرکزیت پسند اور زمینی حقائق سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ فیصلہ سازی کا عمل محدود دائرے میں سمٹ گیا ہے اور اختلاف رائے کے لیے جگہ کم ہو گئی ہے۔ یہ الزامات بھی ہیں کہ ایل ڈی ایف نے وسیع عوامی تشہیر کے ذریعے وجین کو نمایاں کرنے پر بہت زیادہ سرمایہ لگایا ہے، جسے مخالفین “شخصیت پرستی” قرار دیتے ہیں۔ کانگریس اسے اس اجتماعی روایت سے انحراف مانتی ہے جس سے بائیں بازو کی سیاست کی پہچان رہی ہے۔
یہ تاثرات صرف اپوزیشن تک محدود نہیں ہیں۔ بائیں بازو کے حلقوں میں بھی، احتیاط کے ساتھ ہی سہی، ایسی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ تجربہ کار رہنما جی سُدھاکرن، جو چار دہائیوں تک عوامی زندگی میں سرگرم رہے اور سی پی آئی (ایم) سے علیحدہ ہو گئے، اب یو ڈی ایف کی حمایت سے انتخابی میدان میں ہیں۔ ان کا الگ ہونا پارٹی کے اندر پائی جانے والی بے چینی کی علامت بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’پارٹی کو اپنی اجتماعی طرز کار کی طرف لوٹنا ہوگا۔ مرکزیت کو معمول نہیں بنایا جا سکتا۔ بائیں بازو کی پارٹیاں اس طرح کام نہیں کرتیں۔‘‘ زمینی سطح پر بھی بے یقینی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ مقامی رہنما، کوآپریٹیو سوسائٹیوں کے ارکان اور سماجی رابطہ کار، جو کبھی بائیں بازو کی سیاست کی بنیاد سمجھے جاتے تھے، اب ایک صف میں نظر نہیں آتے۔ کچھ خاموش ہو گئے ہیں، جبکہ کچھ آہستہ آہستہ اپنی پوزیشن بدل رہے ہیں۔
مصنف اور نقاد ایم این کراسری اس صورت حال کو وسیع ثقافتی تناظر میں دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’بائیں بازو کی جماعتوں کی بنیاد اب بھی مضبوط ہے اور ان کی نظریاتی کشش برقرار ہے، لیکن انتخابات صرف ماضی کی بنیاد پر نہیں جیتے جا سکتے۔ اس کے لیے تجدید ضروری ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایل ڈی ایف وقت پر خود کو نئے حالات کے مطابق ڈھال پایا ہے؟‘‘
سبریمالہ کا مسئلہ آج بھی سیاسی منظرنامے سے پوری طرح غائب نہیں ہوا ہے۔ بہت سے عقیدت مندوں کے لیے یہ صرف عدالتی فیصلے کا معاملہ نہیں تھا بلکہ ریاست کے ردعمل سے بھی جڑا ہوا تھا۔ یہ تاثر کہ حکومت نے عقیدے کے تئیں مطلوبہ حساسیت دکھائے بغیر سخت رویہ اختیار کیا، اب بھی باقی ہے۔ کراسری کہتے ہیں کہ ’’بہت سے لوگوں کو لگا کہ حکومت ان کی بات نہیں سن رہی۔ یہ احساس آج بھی موجود ہے۔‘‘ بی جے پی نے اس احساس کو انتخابی فائدے میں بدلنے کی کوشش کی، لیکن رفتار برقرار نہیں رکھ سکی۔ کانگریس نے آئینی دائرے میں رہتے ہوئے مذہب کا احترام کرنے والی حکومت کے طور پر اس معاملے کو سنبھالا۔ اس متوازن رویے کی خاص طور پر وسطی کیرالہ میں تعریف کی گئی۔
ایل ڈی ایف اپنی کارکردگی کا پراعتماد دفاع کر رہا ہے۔ کننور کے پیراوور سے انتخاب لڑ رہی سینئر رہنما کے کے شیلجا نے اپوزیشن کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’ایل ڈی ایف حکومت نے صحت، فلاح و بہبود اور سماجی تحفظ کے میدان میں قومی سطح پر قابلِ تعریف کام کیے ہیں۔ لوگ ہمارا جائزہ ہمارے کام کی بنیاد پر لیں گے، الزامات کی بنیاد پر نہیں۔‘‘ تاہم، ووٹرس کا رویہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ فلاحی اسکیمیں جاری ہیں، لیکن ان کے لیے پہلے جیسا جوش باقی نہیں رہا۔ ہجرت اور بدلتی خواہشات سے متاثر نوجوان ووٹر اب فلاحی اسکیموں سے آگے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔ ریاست میں روزگار کے مواقع توقعات کے مطابق پیدا نہیں ہو سکے، اور تعلیم یافتہ نوجوان بہتر مواقع کے لیے کیرالہ سے باہر جا رہے ہیں۔ مالی دباؤ نے فلاحی اسکیموں کی توسیع کی گنجائش کو محدود کر دیا ہے۔
ایسی تشویشات فوری طور پر انتخابی تبدیلی میں تبدیل نہ بھی ہوں، لیکن وہ سیاسی ماحول کو ضرور متاثر کرتی ہیں۔ بی جے پی کی تنظیمی توسیع کے باوجود اسے انتخابی کامیابی میں تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ کیرالہ میں مذہبی بنیاد پر سیاست آسانی سے کامیاب نہیں ہوتی اور ووٹوں کو اس بنیاد پر یکجا کرنے کی کوششوں کو ساختی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس طرح ایک ایسا کھلا مقابلہ سامنے آیا ہے جو کئی برسوں سے دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔ ایل ڈی ایف کے پاس مضبوط تنظیمی ڈھانچہ، نظریاتی اپیل اور پینارائی وجین کی قیادت موجود ہے، لیکن کانگریس نے مقابلے کی شرائط بدل دی ہیں۔ منظم، فعال اور سیاسی طور پر متحرک ہو کر، وہ روزگار، عوامی خدمات، سماجی انصاف اور سماجی ہم آہنگی پر مبنی حکمرانی کا ماڈل پیش کر رہی ہے۔ ایک دہائی میں پہلی بار، کانگریس کی قیادت میں اقتدار میں واپسی کا امکان زمینی سطح پر واضح دکھائی دے رہا ہے۔