کیرالہ کے سیکولر معاشرے میں نفرت انگیز مہم برداشت نہیں کریں گے: وی ڈی ستیسن

کیرالہ کے نامزد وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے کہا ہے کہ ریاست کے سیکولر تشخص کو کسی بھی حال میں متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے حالیہ انتخاب میں سیکولر اقدار کے حق میں فیصلہ دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

کیرالہ کے نامزد وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے کہا ہے کہ ریاست کے سیکولر تشخص کے خلاف کسی بھی نفرت انگیز مہم کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ ہمیشہ سے مختلف مذاہب اور برادریوں کے درمیان بھائی چارے اور ہم آہنگی کی مثال رہا ہے اور حکومت اس روایت کو برقرار رکھنے کے لیے پوری سنجیدگی سے کام کرے گی۔

ترواننت پورم میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وی ڈی ستیسن نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام لگایا کہ وہ ملک کے مختلف حصوں میں نفرت پر مبنی سیاست کو فروغ دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر کیرالہ میں بھی اسی طرح کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ریاست کے عوام ایسی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ حالیہ انتخابی نتائج نے پورے ملک کو یہ پیغام دیا ہے کہ کیرالہ کے لوگ سیکولر اقدار پر یقین رکھتے ہیں اور ریاست کے سماجی تانے بانے کو کمزور کرنے کی ہر کوشش کے خلاف متحد ہیں۔ ان کے مطابق عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے واضح کر دیا ہے کہ کیرالہ کی شناخت مذہبی ہم آہنگی اور رواداری سے جڑی ہوئی ہے۔

وی ڈی ستیسن نے کہا کہ کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان اصل نظریاتی فرق یہی ہے کہ ایک طرف نفرت کی سیاست ہے جبکہ دوسری طرف سیکولر اور جمہوری اقدار کا تحفظ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کی اولین ترجیح ریاست کے سیکولر کردار کو محفوظ رکھنا ہوگی۔


پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے سے متعلق سوال کے جواب میں نامزد وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کانگریس کی قیادت والی حکومت اقتدار سنبھالنے کے بعد اس کے سماجی اور معاشی اثرات کا تفصیلی جائزہ لے گی۔ انہوں نے کہا کہ عوام پر پڑنے والے بوجھ کا اندازہ لگانے کے بعد ریاستی حکومت اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے مناسب اصلاحی اقدامات کرے گی۔

انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ بعض معاملات میں ریاستی حکومت کو مرکز کے فیصلوں کے مطابق چلنا پڑتا ہے، جس کے باعث اختیارات کی کچھ حدود موجود ہیں۔

نیٹ یو جی 2026 کے پرچہ لیک معاملے پر وی ڈی ستیسن نے کہا کہ چونکہ یہ امتحان قومی سطح پر منعقد ہوتا ہے، اس لیے ریاستی حکومت متعلقہ اداروں کے سامنے اپنی تجاویز پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاملے کا جائزہ لینے کے بعد ضروری سفارشات تیار کی جائیں گی تاکہ امتحانی نظام میں شفافیت برقرار رکھی جا سکے۔