جیفری ایپسٹین نامی بھوت سے کیسے بچا جائے

سرمایہ، اقتدار اور احتساب کے درمیان نازک توازن ضروری ہے۔ جب پیسہ مقصد پر غالب آ جائے تو نظریہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایپسٹین معاملہ طاقت، دولت اور سیاست میں مفادات کے ٹکراؤ اور شفافیت کے سوالات اٹھاتا ہے

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>
i
user

سید خرم رضا

ہر دور میں سماجی تبدیلی کی کہانی میں ایک مستقل کردار سرمائے کا رہا ہے۔ نظریات، جذبہ اور قیادت اپنی جگہ اہم سہی، مگر کسی بھی بڑے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے وسائل درکار ہوتے ہیں، اور وسائل کی بنیاد اکثر پیسہ بنتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کے مختلف ادوار میں مصلحین، مہم جو رہنماؤں اور سماجی کارکنوں کو کسی نہ کسی شکل میں سرمایہ فراہم کرنے والوں کی ضرورت پیش آئی۔ تاہم اس تعلق کے ساتھ ایک نازک توازن بھی جڑا رہا یعنی فاصلہ۔ جب یہ فاصلہ برقرار رہتا ہے تو تعاون ثمر آور ثابت ہوتا ہے، اور جب یہ متاثر ہوتا ہے تو مفادات کے ٹکراؤ جنم لیتے ہیں۔

سرمائے دار اور سماجی تبدیلی کے داعی یعنی اقتدار میں بیٹھے افراد کے درمیان یہ فاصلہ دراصل شفافیت، جواب دہی اور حدود کے احترام کا نام ہے۔ اگر سرمایہ مقصد پر غالب آ جائے تو نظریہ کمزور پڑ جاتا ہے، اور اگر نظریہ وسائل کی حقیقت سے آنکھ چرا لے تو منصوبہ ادھورا رہ جاتا ہے۔ اس لیے دونوں کے درمیان ایک ایسا رشتہ درکار ہے جس میں نہ اندھی وابستگی ہو اور نہ ہی بے جا مداخلت۔ سماج اسی توازن کو قبول کرتا ہے جہاں سرمایہ سہارا بنے، سایہ نہیں۔

اس پورے منظرنامے میں ذرائع ابلاغ کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ میڈیا نہ صرف معلومات پہنچاتا ہے بلکہ رائے عامہ تشکیل دیتا ہے، سوال اٹھاتا ہے اور طاقت کے مراکز کا احتساب کرتا ہے۔ ایک صحت مند جمہوری معاشرے میں میڈیا یہ دیکھتا ہے کہ سرمایہ کہاں سے آ رہا ہے، کن شرائط پر آ رہا ہے، اور اس کے سماجی اثرات کیا ہوں گے۔ اگر میڈیا آزاد، ذمہ دار اور تحقیق پر مبنی ہو تو وہ طاقت اور دولت کے بیچ موجود دھند کو صاف کر سکتا ہے، اگر وہ سنسنی یا جانبداری کا شکار ہو جائے تو اعتماد مجروح ہوتا ہے۔

گزشتہ چند دہائیوں میں سرمائے داروں اور اقتدار کے ایوانوں کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی محسوس کی گئی ہے۔ عالمی معیشت کی رفتار، کارپوریٹ اثر و رسوخ اور سیاست کی بڑھتی ہوئی لاگت نے اس رشتے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بعض ناقدین کے نزدیک اب فوری فائدے کی دوڑ نے طویل مدتی قومی مفاد کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ اقتدار میں بیٹھے افراد پر یہ دباؤ بھی بڑھا ہے کہ وہ سرمایہ کاری کو راغب رکھیں، جب کہ سرمایہ کار فوری نتائج کے متلاشی رہتے ہیں۔ اس کشمکش میں اصول، ضوابط اور اخلاقیات کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔


جیفری ایپسٹین کا معاملہ محض ایک فرد کی مجرمانہ سرگرمیوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے طاقت، دولت اور احتساب کے سوالات کو بھی نمایاں کیا۔اسی لئے جیفری ایپسٹین نامی اشخاص نمودار ہوتے ہیں جن کے پاس اتنی دولت ہوتی ہے کہ وہ دھیرے دھیرے خود کو حکمراں  سمجھنے لگ جاتے ہیں اور اقتدار میں بیٹھے لوگ ان کے پیسوں کے ذرائع کے بارے میں جاننے سے زیادہ بس اپنی دولت میں اضافہ اور  خود کو اقتدار میں بنائے رکھنے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

جیفری ایپسٹین کے بارے میں پوری دنیا میں یہ بحث رہی ہے کہ اس کے پاس دولت کس ذریعے سے آئی اور اقتدار کے ایوانوں میں اس کی کس قدر رسائی تھی۔ بعض حلقوں کے مطابق اس صورتِ حال کے پس منظر میں اسرائیل کا کردار بھی زیرِ بحث آیا، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے دنیا بھر میں برسرِ اقتدار افراد اور سرمائے داروں کے تعلقات پر اثر انداز ہوا۔ پیسہ اور اقتدار میں اس کی گرفت کہاں سے آ رہی تھی، اس سوال پر اکثر توجہ نہیں دی گئی۔ جیفری ایپسٹین نامی شخص کے حوالے سے کئی دعوے سامنے آئے، جن میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی سے ممکنہ تعلق کی بات بھی کی جاتی رہی ہے۔

جس طرح انتخابی مہم کے دوران واعدے کئے جاتے ہیں کچھ اس طرح کا وعدہ امریکی صدر ٹرمپ نے بھی انتخابی مہم کے دوران  بھی کیا ، اور ان کی نظر میں ڈیموکریٹس  کو بدنام کرنے کے لئے یہ اچھا ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے لیکن انتخابی کامیابی کے بعد اور ایلون مسک سے رشتے خراب  ہونے کے بعد ایپسٹین نامی بھوت خود ٹرمپ کو پریشان کرنے لگا۔

جب ایپسٹین نامی بھوت سے امریکی صدر پریشان ہونے لگے تو انہوں نے ان فائلز کو دنیا پر اپنی حکمرانی کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ اب یہ سیکس اسکینڈل یعنی جسمانی دھوکہ دہی نہیں بلکہ دنیا کے حکمرانوں کو اپنی حمایت میں لانے اور ان پر مزید ٹیکس نافذ کرنے کے لئے استعمال کرنا شروع ہو گیا ۔ ایپسٹین فائلز یعنی اسرائیلی دبدبا ۔ پیسے کا پہلے ہی دبدبہ تھا اور اب دنیا بھر  کے ممالک میں  برسر اقتدار بیٹھے لوگوں کی ایپسٹین نامی شخص کے ساتھ فائل میں نام اسرائیل  اور ٹرمپ کے لئے موقع فراہم کر رہا ہے۔


اصل مسئلہ یہ ہے کہ طاقت اور دولت کے سنگم پر احتساب کیسے یقینی بنایا جائے۔ اس کا جواب ادارہ جاتی مضبوطی، آزاد عدلیہ، ذمہ دار میڈیا اور فعال شہری معاشرے میں پوشیدہ ہے۔ قوانین کی حکمرانی، مفادات کے ٹکراؤ سے بچاؤ، اور مالی شفافیت ایسے ستون ہیں جو کسی بھی معاشرے کو بے یقینی اور بداعتمادی سے نکال سکتے ہیں۔ جب اصول واضح ہوں اور ان پر یکساں عمل ہو تو نہ سرمائے دار  بدنام ہوتا ہے اور نہ سیاست کمزور۔

سماجی تبدیلی کے داعیوں کے لیے بھی یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ وہ سرمایہ قبول کرتے وقت اپنی خود مختاری، مقصد کی پاکیزگی اور عوامی اعتماد کو مقدم رکھیں۔ سرمایہ کاروں کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ سماجی ذمہ داری، اخلاقی معیارات اور طویل مدتی اثرات کو نظرانداز نہ کریں۔ دونوں جانب اعتدال اور جواب دہی ہی وہ راستہ ہے جو پائیدار ترقی اور اجتماعی بھلائی کی ضمانت بن سکتا ہے۔

اس کا واحد علاج بہادری سے سچ کا سامنا اور  اپنے اوپر لگے الزامات کو قبول کرنا  ہے۔ اس کے بعد ہی جیفری ایپسٹین جیسے افراد کی حوصلہ شکنی ہو سکتی ہے  جس کے بعد ہی  اقتدار میں بیٹھے افراد اپنے ملک پر توجہ دے سکتے ہیں۔ سرمائے دار کا انتخاب کرتے وقت قومی مفاد کو ذہن میں رکھنا ہوگا نہ کہ اقتدار میں  بنے رہنے کی بھوک۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔