اوکھلا: دو سال بعد شاہین باغ اور بٹلہ ہاؤس میں ہر شام عوامی سیلاب کا نظارہ، مہنگائی پر عید کی خوشی حاوی

مسلم طبقہ ماہِ مبارک میں صرف خریداریوں میں ہی بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لے رہا، بلکہ عبادات میں بھی ان کا انہماک قابل قدر ہے۔

بٹلہ ہاؤس میں عید کے لیے خریداری کرتی خواتین
بٹلہ ہاؤس میں عید کے لیے خریداری کرتی خواتین
user

تنویر احمد

رواں رمضان المبارک میں ایک روز راقم الحروف اپنے دوست سعد اللہ سعد کے دہلی واقع گھر پر افطار کی دعوت میں مدعو تھا۔ دو سال بعد یہ پہلا موقع تھا جب کئی دوست ایک ساتھ بیٹھ کر افطار کر رہے تھے۔ سچ تو یہ ہے کہ دو سالوں میں رشتہ داروں کے گھر بھی افطار کی دعوت میں شرکت نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے عزیزوں کے ساتھ افطار کر کے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے مدتوں بعد رمضان کی کشش اور افطار کی روحانیت ایک بار پھر لوٹ آئی ہو۔ یہ کیفیت اس سال ہر گھر میں محسوس کی جا رہی ہے۔ گزشتہ دو رمضان المبارک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کا گھر سے باہر نکلنا مشکل تھا، اور افطار کی دعوتوں پر بھی پابندیاں تھیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ اس سال ہر طرف سحر و افطار کی رونقیں بھی ہیں اور خریداریوں کا ایک دراز سلسلہ بھی دکھائی دے رہا ہے۔

تصویر ویپن
تصویر ویپن

راجدھانی دہلی کا اوکھلا علاقہ تو اس رمضان میں کچھ الگ ہی چکاچوندھ سمیٹے ہوئے نظر آ رہا ہے۔ خواتین کے سی اے اے-این آر سی مخالف مظاہرہ کی وجہ سے عالمی شہرت حاصل کر چکے شاہین باغ کی بات کی جائے، یا پھر اوکھلا کے مشہور علاقہ بٹلہ ہاؤس کی، دونوں ہی جگہ دکانوں پر ایسی بھیڑ ٹوٹ رہی ہے کہ معلوم پڑتا ہے جیسے لوگوں نے پچھلے دو سالوں کا بدلہ اس سال لینے کا عزم کر لیا ہو۔ دوپہر کے وقت سے پھل فروشوں اور جنرل اسٹورس پر لوگوں کی بھیڑ جمع ہوتی ہے، اور پھر جب افطار کا وقت ختم ہوتا ہے تو کپڑوں کے مارکیٹ اپنے شباب پر دکھائی پڑتے ہیں۔ پٹرول و ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے ہر چیز پر مہنگائی کی مہر لگی ہوئی ہے، لیکن اوکھلا میں کہیں بھی خریداری کے وقت اس کا اثر نظر نہیں آتا۔ سامان خریدتے ہوئے مول-تول کے وقت لوگ یہ کہتے ضرور دکھائی دیتے ہیں کہ مہنگائی بہت بڑھ گئی ہے، لیکن رمضان اور عید میں اس بار کسی طرح کی کوئی کمی رکھنے کو مسلم طبقہ تیار نہیں۔

تصویر ویپن
تصویر ویپن
VIPIN

شاہین باغ کے مشہور جنرل اسٹور ’سستا بازار‘ میں تو عام دنوں میں بھی بھیڑ دکھائی دیتی ہے، پھر رمضان میں اس میں کمی کا امکان کہاں! جنرل اسٹور کے مالک سے جب یہ سوال کیا گیا کہ مہنگائی کا اثر لوگوں کی خریداری پر نظر آ رہا یا نہیں، تو وہ فوراً کہتے ہیں ’’ایسا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ لوگ رمضان سے پہلے ہی رمضان کی تیاری کے مقصد سے راشن کی خریداری کرنے پہنچنے لگے۔ افطار کے بعد لوگوں کی بھیڑ ضرور کم ہوتی ہے کیونکہ وہ وقت اکثر لوگوں نے کپڑا اور دیگر سامانوں کی خریداری کے لیے مختص کر رکھا ہے۔‘‘ سستا بازار کے بغل میں ہی شاہین باغ کی سبزی منڈی ہے۔ وہاں لیموں 320 روپے کلو فروخت ہو رہا ہے، لیکن روزہ داروں کو افطار میں شربت نہ ملے تو لطف کہاں، اس لیے لیموں کی خریداری بھی زوروں پر ہے۔

اوکھلا علاقہ میں رمضان کی رونق اور آنے والی عید کی تیاریوں کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ ’ای-رکشہ‘ جو پہلے بٹلہ ہاؤس چوک تک چلا جاتا تھا، اس کے سڑک سے اندر جانے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ آپ جب افطار کے بعد بٹلہ ہاؤس پہنچیں گے تو دھکا-مکی برداشت کرنے کے لیے پہلے سے ہی تیار رہنا ہوگا۔ یہاں اپنی پسند کا سامان خریدنا لوگوں کے لیے ایک جدوجہد ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبۂ ہندی کے اسسٹنٹ پروفیسر حیدر علی کا کہنا ہے کہ ’’اس سال بازاروں میں بھیڑ بہت زیادہ ہے۔ مہنگائی ضرور بڑھی ہوئی ہے، لیکن پچھلے دو سالوں میں رمضان اور عید کی خوشی سے لوگ جس طرح محروم رہے، اس سال اس کا ازالہ کر رہے ہیں۔‘‘ حالانکہ حیدر علی نے بتایا کہ وہ اس سال بھی افطار پارٹیوں میں اب تک شریک نہیں ہوئے، لیکن اس بات سے بہت خوش ہیں کہ مسجدوں میں باجماعت نمازیں اور تراویح و دیگر عبادات کر پا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’رمضان المبارک کی حقیقی روحانیت عبادتوں میں ہے اور دو سال بعد ایک بار پھر یہ روحانیت ہر جگہ دیکھ کر قلبی سکون میسر ہوتا ہے۔‘‘

تصویر ویپن
تصویر ویپن

یقیناً یہ روحانیت گزشتہ دو سالوں سے دکھائی نہیں دے رہی تھی کیونکہ کورونا سے متعلق پابندیاں عائد تھیں اور کئی مساجد کے دروازے تو مکمل طور پر عام نمازیوں کے لیے بند تھے۔ اس بار اوکھلا کی ہر مسجد میں پھر سے وہی بھیڑ دکھائی دے رہی ہے جو 2019 کے رمضان المبارک تک دکھائی دے رہی تھیں۔ بلکہ اس بار عبادت کو لے کر لوگوں کا جذبہ اور خلوص کچھ زیادہ ہی ہے۔ صحافت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے ندیم احمد کا کہنا ہے کہ ’’ماہِ رمضان میں کچھ مواقع ایسے بھی آئے جب تراویح کی نماز چھوٹ جاتی تھی۔ لیکن گزشتہ دو سالوں سے تراویح کی نماز مسجد میں پڑھنے کا موقع نہیں ملا، اور جب اس بار حالات بہتر ہیں تو پورے عزم کے ساتھ اللہ کی عبادات کر رہا ہوں، اور الحمدللہ تراویح بھی نہیں چھوٹنے پائی ہے۔‘‘

تصویر ویپن
تصویر ویپن

گویا کہ مسلم طبقہ ماہِ مبارک میں صرف خریداریوں میں ہی بڑھ چڑھ کر حصہ نہیں لے رہا، بلکہ عبادات میں بھی ان کا انہماک قابل قدر ہے۔ رمضان کی طاق راتوں میں مسجدوں میں جا کر لیلۃ القدر کی تلاش کرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اوکھلا کی مشہور ’الہدایہ مسجد‘ میں 23ویں رمضان کی شب کم و بیش 75 افراد عبادت و ریاضت میں مصروف تھے، اور اس موقع پر ثواب کی نیت سے کچھ لوگوں نے بریانی کی تقسیم بھی کی۔ شب بیداری کے لیے مسجد میں موجود جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ اردو سے منسلک ڈاکٹر آفتاب احمد منیری کا کہنا ہے کہ لوگوں میں عبادات کو لے کر جو جذبہ دیکھا جا رہا ہے وہ صرف اس لیے نہیں کہ دو سالوں سے وہ رمضان میں باجماعت نماز یا تراویح نہیں پڑھ پائے، بلکہ ملک کا موجودہ ماحول بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں ’’مسلمانوں کی تاریخ کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ جب بھی مسلمانوں کی زندگی تنگ ہوئی ہے، انہوں نے مذہب میں پناہ ڈھونڈی ہے۔‘‘


بہرحال، رمضان المبارک اختتام کی طرف گامزن ہے اور عید کی آمد آمد ہے۔ اس لیے مسلم طبقہ کو چاہیے کہ وہ خلوص نیتی کے ساتھ عبادت کریں اور اللہ سے جانے انجانے میں ہوئی غلطیوں کے لیے معافی بھی مانگیں۔ ساتھ ہی اپنے آس پاس کے ان لوگوں کا خیال ضرور رکھیں جو غربت و افلاس کی وجہ سے عید کی تیاریاں نہیں کر پا رہے۔ بھلے ہی ایک طبقہ مہنگائی کو کنارہ کر خوب خریداری کر رہا ہے، لیکن ایک طبقہ وہ بھی ہے جسے مہنگائی نے بے حال کر رکھا ہے۔ کئی خواتین و بچے بازاروں میں نکلتے تو ہیں، لیکن صرف چکاچوندھ کو دیکھنے کے لیے، کیونکہ ان کے پاس خریداری کے لیے پیسے نہیں۔ اگر آپ صلاحیت رکھتے ہیں تو ایسے کنبوں کی مدد ضرور کریں، تاکہ وہ بھی آپ کے ساتھ عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔