ویڈیو پیغام: ’وعدہ تھا 21 دن میں کورونا ختم کرنے کا لیکن ختم کیے کروڑوں روزگار اور کاروبار‘

راہل گاندھی نے کہا کہ کورونا کے نام پر جو کچھ کیا گیا وہ غیر منظم شعبے پر تیسرا بڑا حملہ تھا کیونکہ غریب لوگ روز کماتے ہیں اور روز کھاتے ہیں۔ چھوٹے اور متوسط ​​طبقے کے کاروباریوں کا بھی یہی حال ہے۔

user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کورونا وائرس، لاک ڈاؤن کے حوالے سے ایک بار پھر مودی سرکار پر حملہ کیا ہے۔ راہل گاندھی نے بدھ کے روز ایک نئی ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ اچانک نافذ لاک ڈاؤن ملک کے غیر منظم طبقے کے لئے سزائے موت ثابت ہوا ہے۔ انہوں نے کورونا وائرس کے خلاف جنگ کی تیاریوں اور معیشت کو بہتر بنانے کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات کے حوالہ سے بھی حکومت پر حملہ کیا۔

راہل گاندھی نے ویڈیو میں کہا کہ ’’کورونا کے نام پر جو کچھ کیا گیا وہ غیر منظم شعبے پر تیسرا بڑا حملہ تھا کیونکہ غریب لوگ روز کماتے ہیں اور روز کھاتے ہیں۔ چھوٹے اور متوسط ​​طبقے کے کاروباریوں کا بھی یہی حال ہے۔ جب آپ نے بغیر کسی نوٹس لاک ڈاؤن نافذ کیا تو آپ نے ان پر حملہ کیا۔ وزیر اعظم نے کہا تھا کہ 21 دن تک لڑائی ہوگی، غیر منظم طبقہ کی ریڑھ کی ہڈی 21 دن میں ہی ٹوٹ گئی۔‘‘

ویڈیو میں راہل گاندھی نے کانگریس کی ’نیائے‘ اسکیم کی بھی وکالت کی۔ انہوں نے کہا، ’’لاک ڈاؤن کے کھلنے کا وقت اب آ گیا ہے۔ کانگریس پارٹی نے حکومت کو ایک بار نہیں بلکہ کئی بار کہا کہ غریبوں کی مدد کرنی ہوگی۔ نیائے یوجنا جیسی اسکیم کو نافذ کرنا پڑے گا، بینک کھاتوں میں سیدھا پیسہ ڈالنا پڑے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہم نے کہا تھا کہ چھوٹے اور درمیانے کاروبار کے لئے آپ ایک منصوبہ تیار کریں، انہیں بچانے کی ضرورت ہے۔ اس رقم کے بغیر یہ لوگ نہیں بچیں گے۔ حکومت نے کچھ نہیں کیا، اس کے برعکس حکومت نے امیر ترین پندرہ بیس افراد کا لاکھوں کروڑوں روپے کا ٹیکس معاف کر دیا۔

راہل گاندھی نے اچانک نافذ لاک ڈاؤن کو حملہ قرار دیا اور کہا ’’لاک ڈاؤن کورونا پر حملہ نہیں تھا۔ لاک ڈاؤن ہندوستان کے غریبوں پر حملہ تھا۔ ہمارے نوجوانوں کے مستقبل پر حملہ تھا۔ لاک ڈاؤن مزدوروں، کسانوں اور چھوٹے تاجروں پر حملہ تھا۔ ہماری غیر منظم معیشت پر حملہ ہوا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا اور ہم سب کو اس حملے کے خلاف ایک ساتھ مل کر کھڑا ہونا ہوگا۔‘‘

Published: 9 Sep 2020, 12:11 PM
next