یوکرین-جنگ کا اثر! خوردنی تیل کے داموں میں بھاری اضافہ

ہندوستان میں استعمال ہونے والے تیلوں کا تقریباً 70 فیصد حصہ بیرونی ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ پام آئل اور سورج مکھی کے تیل کا 90 فیصد بیرونی ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

حیدرآباد: یوکرین میں ہو رہی جنگ کا اثر ملک میں خوردنی تیل پر پڑ رہا ہے اور پکوان کے تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے دوران بھاری اضافہ درج کیا گیا ہے۔ تلنگانہ آئل فیڈ نے پام آئل کی قیمت میں 29 روپئے کا اضافہ کر دیا ہے اور اس میں مزید اضافہ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وہیں، روس اور یوکرین سے درآمد کئے جانے والے سورج مکھی کے تیل کی قیمت میں بھی بھاری اضافہ ہوا ہے۔

ہندوستان میں استعمال ہونے والے تیلوں کا تقریباً 70 فیصد حصہ بیرونی ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ پام آئل اور سورج مکھی کے تیل کا 90 فیصد بیرونی ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ پام آئل انڈونیشیا، ملائشیا، یوکرین، روس سے سمندر کے راستہ لایا جاتا ہے۔ انڈونیشیا سے پام آئل برآمد کرنے پر عائد کی گئی پابندی سے اس کی قیمت 116روپئے سے بڑھ کر 145روپئے ہو گئی ہے۔


خیال رہے کہ تلنگانہ میں ہر ماہ 50 ہزار ٹن پکوان تیل مارکٹ میں فروخت کیا جاتا ہے۔ ان میں 20 ہزار ٹن سورج مکھی کا تیل ہوتا ہے۔ یہ تیل مکمل طور پر یوکرین سے درآمد کیا جاتا ہے تاہم روس اور یوکرین میں جاری جنگ کی وجہ سے اس کی سپلائی میں رکاوٹ آئی ہے اور اس کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔ فی الحال سورج مکھی کے تیل کی قیمت 158 روپے اور مونگ پھلی کے تیل کی قیمت 159 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔