بینکنگ ریگولیشن بل پر پارلیمنٹ کی مہر

سیتارمن نے کہا کہ یہ قانون مرکزی حکومت کو کوآپریٹو بینکوں کے ریگولیشن کا اختیار نہیں دیتا ہے۔ یہ صرف آر بی آئی کو کوآپریٹو بینکوں کی بینکاری سرگرمیوں کو ریگولرائز کرنے کی طاقت دیتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

نئی دہلی: کوآپریٹو بینکوں کی بحالی اور نگرانی کے لئے ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کو زیادہ اختیارات دینے والے بینکنگ ریگولیشنز (ترمیمی) بل 2020 کو منگل کو راجیہ سبھا میں صوتی ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی پارلیمنٹ میں اس پر مہر گئی۔ لوک سبھا (ایوان زیریں) پہلے ہی اس بل کی منظوری دے چکی ہے۔

اس بل پر ایک مختصر بحث کے جواب میں وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے کہا کہ کوآپریٹو بینکوں کا ریگولیشن 1965 سے ہی آر بی آئی کے پاس ہے۔ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یہ جمع کرنے والوں کے مفاد میں ہے اور جمع کرنے والوں کے تحفظ کے لئے یہ قانون لایا گیا ہے۔

سیتارمن نے کہا کہ یہ قانون مرکزی حکومت کو کوآپریٹو بینکوں کے ریگولیشن کا اختیار نہیں دیتا ہے۔ یہ صرف آر بی آئی کو کوآپریٹو بینکوں کی بینکاری سرگرمیوں کو ریگولرائز کرنے کی طاقت دیتا ہے۔ انہوں نے پنجاب اور مہاراشٹر کوآپریٹو (پی ایم سی) بینک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون سے ایسے واقعات کی روک تھام میں مدد ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں بہت ساری کوآپریٹو سوسائٹی بینکنگ سیکٹر میں کام کر رہی ہیں اور یہ کمیٹیاں آر بی آئی کے دائرہ کار میں آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ -19 وبا کی وجہ سے دباؤ میں آئی کوآپریٹو بینکنگ کمیٹیوں پر یہ قانون نافذ نہیں ہو گا۔

next