اُپواس پر بیٹھے ہری ونش نے نائب صدر کو لکھا خط ’بہت دُکھی ہوں، پوری رات سو نہیں پایا‘

ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے تین صفحات پر مشتمل خط میں لکھا کہ ایوان بالا کی پُر وقار نشست پر میرے ساتھ جو توہین آمیز سلوک ہوا، اس کے لئے مجھے ایک دن کا اپواس کرنا چاہیے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: زرعی بل کے خلاف ایک طرف جہاں معطل شدہ ارکان پارلیمنٹ نے دھرنا دیا وہیں دسری طرف راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئر مین ہری ونش نے بھی 24 گھنٹے تک اُپواس (روزہ) پر رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے نائب صدر جمہوریہ اور راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیا نائیڈو کو خط لکھ کر اپنے درد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 24 گھنٹے تک اپواس پر رہیں گے۔ اس دوران وہ پارلیمنٹ کا اپنا کام کاج جاری رکھیں گے۔

اپنے خط میں ڈپٹی چیئرمین نے لکھا کہ راجیہ سبھا میں جو کچھ ہوا اس سے بہت تکلیف میں ہوں اور رات بھر سو نہیں پایا۔ تین صفحات پر مشتمل خط میں انہوں ے لکھا کہ ایوان بالا کی پُر وقار نشست پر میرے ساتھ جو توہین آمیز سلوک ہوا، اس کے لئے مجھے ایک دن کا اپواس کرنا چاہیے۔ شاید میرے اپواس سے اس طرح کا سلوک کرنے والے ارکان کے اندر اپنے دلوں کو صاف کرنے کا جذبہ پیدا ہو۔

قبل ازیں، راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین ہری ونش دھرنے پر بیٹھے معطل ارکان پارلیمنٹ کے لئے چائے لے کر پہنچے، لیکن ارکان پارلیمنٹ نے چائے پینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں کسانوں کے لئے بیٹھے ہیں، کسان مخالف بل قواعد کو بالائے ظاق رکھتے ہوئے پاس کیا گیا جبکہ بی جے پی کے پاس اکثریت نہیں تھی۔ آپ نے کوشش نہیں کی، ہم پارلیمنٹ کے احاطہ میں اس لئے بیٹھے ہیں کیوں کہ کسانوں کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ پیر کے روز ترنمول کانگریس کے ڈیرک او برائن، عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ، کانگریس کے راجیو ساتو اور سی پی ایم کے کے کے راگیش سمیت معطل ہوے والے تمام ارکان پارلیمنٹ راجیہ سبھا سے نکلنے کے بعد پارلیمنٹ کے لان میں دھرنے پر بیٹھ گئے تھے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ارکان پارلیمنٹ نے اپنا دھرنا ختم کر دیا ہے۔

next