ہم اراکین پارلیمنٹ کی معطلی تک راجیہ سبھا کا بائیکاٹ کریں گے: حزب اختلاف

حزب اختلاف نے منگل کے روز راجیہ سبھا سے معطل ممبران پارلیمنٹ کی معطلی کو واپس لینے کی درخواست کے ساتھ راجیہ سبھا کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

نئی دہلی: حزب اختلاف نے منگل کو راجیہ سبھا سے پیر کے روز معطل کیے گئے ممبران پارلیمنٹ کی معطلی کو واپس لینے کی درخواست کے ساتھ راجیہ سبھا کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ کانگریس کے رہنما غلام نبی آزاد نے کہا کہ جب تک ان ممبران پارلیمنٹ کی معطلی واپس نہیں لی جاتی ہے، اپوزیشن راجیہ سبھا کی کارروائی میں حصہ نہیں لے گی۔ واضح رہے کہ اتوار کے روز ہنگامے کے بعد آٹھ ممبران پارلیمنٹ کو معطل کر دیا گیا، جو کل ہی سے پارلیمنٹ کے احاطے میں دھرنے پر بیٹھے ہیں۔

قائد حزب اختلاف غلام نبی آزاد نے منگل کے روز معطل شدہ ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات کی اور اس کے بعد اپنے مطالبات پیش کیے۔ انہوں نے کہا ’’ہم نے راجیہ سبھا میں کانگریس پارٹی کی جانب سے تین اہم مطالبات کیے ہیں۔ پہلا مطالبہ یہ ہے کہ زراعت سے متعلق نیا بل لایا جائے جس سے یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی نجی کمپنی ’ایم ایس پی‘ سے کم قیمتوں پر پیداوار نہ خرید سکے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’ہمارا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ملک میں ایم ایس پی کو سوامی ناتھن فارمولے کے تحت طے کیا جائے۔ ہمارا تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت ہند، ریاستی حکومت یا فوڈ کارپوریشن آف انڈیا اس بات کو یقینی بنائے کہ کسانوں کی پیداوار ایم ایس پی کے مطابق ہی خریدی جائے۔‘‘ آزاد نے کہا کہ جب تک ان تین مطالبات پر غور نہیں کیا جاتا حزب اختلاف کی جانب سے ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا، "چوتھی اہم بات جو میں نے راجیہ سبھا میں کہی وہ یہ ہے کہ ہم نے درخواست کی ہے کہ جن آٹھ ارکان پارلیمنٹ کو معطل کیا گیا ہے ان کی معطلی کو واپس لیا جائے، لیکن یہ ہماری درخواست ہے، مطالبہ نہیں۔" آزاد نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کے اندر تال میل کا فقدان ہے۔ ایک دن پہلے، زرعی بلوں سے متعلق پوری بحث ایم ایس پی پر مرکوز تھی اور اس کے ایک دن بعد حکومت نے متعدد فصلوں کے لئے ایم ایس پی کا اعلان کر دیا۔

خیال رہے کہ اپوزیشن کے 8 ارکان پارلیمنٹ، جن میں ترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرائن اور عآپ کے سنجے سنگھ شامل ہیں، کو ایوان میں مبینہ غلط طرز عمل کی پاداش میں پیر کے روز مانسون اجلاس کی بقیہ مدت کے لئے معطل کر دیا گیا۔ وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور وی مرلی دھرن نے اتوار کے روز زرعی بلوں پر ہونے والی بحث پر ہنگامہ آرائی پر حزب اختلاف کے 8 ممبروں کو موجودہ اجلاس کے باقی وقت کے لئے معطل کرنے کی قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے صوتی ووٹ سے منظوری فراہم کر دی۔ معطل کیے گئے ارکان میں کانگریس کے راجیو ساتو، سید نذیر حسین اور رپون بورا، ترنمول کانگریس کے ڈیرک اوبرائن اور ڈولا سین، سی پی ایم کے کےکے راگیش اور ایلا مارم کریم اور عآپ کے سنجے سنگھ شامل ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next