شرح پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں، ماہانہ قسط کے کم ہونے کی امید نہیں

آر بی آئی گورنر شکتی کانتا داس نے اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ کلیدی پالیسی کی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ ریپو ریٹ کو 4 فیصد اور ریورس ریپو ریٹ کو 3.35 فیصد پر مستحکم رکھا گیا ہے۔

شکتی کانتا داس، تصویر یو این آئی
شکتی کانتا داس، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

ممبئی: کورونا بحران کے اس دور میں ریزرو بینک آف انڈیا نے ملک کی ترقی کی رفتار کو مدنظر رکھتے ہوئے اہم پالیسی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے، جس سے گھروں اور کار وغیرہ پر سود کی شرحوں میں کمی کی توقع نہیں ہے۔ مالیاتی پالیسی کمیٹی کی تین روزہ میٹنگ کے بعد آر بی آئی کے گورنر شکتی کانت کانتا داس نےکمیٹی کی میٹنگ میں لئے گئے فیصلوں کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ کلیدی پالیسی کی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ ریپو ریٹ کو 4 فیصد اور ریورس ریپو ریٹ کو 3.35 فیصد پر مستحکم رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریپو ریٹ شرح چار فیصد، ریورس ریپو ریٹ کی شرح 3.35 فیصد ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ایم ایس ایف 4.25 فیصد اور بینک ریٹ 4.25 فیصد پر مستحکم ہے۔ کانتا داس نے کہا کہ کورونا کے پھیلاؤ کے باوجود معیشت میں بہتری آرہی ہے۔ تاہم، حال ہی میں جس طرح سے کیسوں میں اضافہ ہوا ہے، اس سے کچھ غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔


شکتی کانتا داس نے کہا کہ ’’حال میں ملک کی متعدد ریاستوں میں جس طرح سے کورونا میں اضافہ ہوا ہے ، اس سے کچھ غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے، لیکن ہندوستان چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی بینک نے مالیاتی رخ کو لبرل رکھا ہے۔ ریزرو بینک کے گورنر نے کہا کہ اس وقت معیشت کی حالت کے پیش نظر سود کی شرحوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’ملک کی متعدد ریاستوں میں کورونا وائرس کے نئے کیسز میں اضافہ ہونے کی وجہ سے گروتھ آؤٹ لُک پر غیر یقینی کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ کئی ریاستی حکومتوں کی طرف سے کورونا انفیکشن کی روک تھام کے لئے عائد پابندیوں کی وجہ سے معاشی ری کوری کو دھچکا لگ سکتا ہے‘‘۔ مالی سال 2021۔ 22 کے لئے، آر بی آئی نے نمو کا تخمینہ 10.5 فیصد پر برقرار رکھا ہے۔ نئے قرضوں کی فراہمی کے لئے مالیاتی کمپنیوں کو 50000 کروڑ روپئے کی مدد فراہم کرنے کا التزام کیا گیا ہے۔


صارف قیمت اشاریہ کے لحاظ سے افراط زر کی شرح 2021 کی چوتھی سہ ماہی میں 5 فیصد، سال 2021-22 کی پہلی سہ ماہی میں 5.2 فیصد، سال 2021-22 کی دوسری سہ ماہی میں 5.2 فیصد اور سال 2022 کی تیسری سہ ماہی میں 4.4 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ رواں مالی سال کی آخری سہ ماہی میں افراط زر 5.1 فیصد رہ سکتی ہے۔ داس نے کہا کہ کورونا کے پھیلاؤ کے باوجود معیشت میں بہتری آرہی ہے۔ تاہم، حال ہی میں جس طرح سے کیسوں میں اضافہ ہوا ہے ، اس سے کچھ غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔