حکومت کورونا کے بہانے کسان تحریک ختم کرنا چاہتی ہے: کسانوں کا دعویٰ

دہلی کے غازی پور بارڈر پر زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کا کہنا ہے کہ حکومت احتجاج ختم کرنے کے لئے کورونا کا معاملہ اٹھا رہی ہے۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

مرکزی وزارت صحت کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس عروج پر ہے۔ کیونکہ کورونا وائرس نے پچھلے تمام ریکارڈوں کو توڑ دیا ہے، لیکن زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کر رہے کسانوں کا کہنا ہے کہ کورونا کے بڑھتے ہوئے معاملات کے پیچھے ایک سازش رچی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کورونا کے بہانے حکومت ان کا احتجاج ختم کرنا چاہتی ہے۔

زرعی قوانین کے خاتمے کے مطالبے کو لے کر کسان 130 دن سے زیادہ دہلی کی سرحدوں پر بیٹھے ہیں۔ کسانوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت تینوں زرعی قوانین کو واپس لے۔ ساتھ ہی ایم ایس پی پر قانونی ضمانت دے۔ لیکن حکومت کسانوں کے مطالبات ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ حکومت کی طرف سے کئی بار بیان آچکا ہے کہ وہ تینوں زرعی قوانین کو واپس نہیں لے گی۔ دوسری طرف کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک تینوں زرعی قوانین واپس نہیں ہو جاتے تب تک وہ اپنا احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

کسان تحریک کے درمیان مرکزی وزارت صحت کی مانیں تو ملک میں کورونا وائرس اعلیٰ سطح پر ہے، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا وائرس کے 115736 نئے معاملے سامنے آنے کے بعد مثبت کیسز کی مجموعی تعداد 12801785 ہوگئی۔ جبکہ 630 افراد کی اموات کے بعد فوت ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 166177 ہوگئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔