ایکسپورٹ سیکٹر سے آئی خوشخبری، 88 فیصد ہندوستانی برآمدات بحال

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جون 2020 میں 87.39 فیصد ہندوستانی برآمدات (ایکسپورٹ) کو بحال کیا گیا ہے۔

ایکسپورٹ، تصویر گیتی ایمج
ایکسپورٹ، تصویر گیتی ایمج
user

یو این آئی

نئی دہلی: یورپی، مشرقی ایشیائی اور افریقی ممالک کی جانب سے ڈیمانڈ (مانگ) آنے اور کووِڈ-19 عالمی وبا کے درمیان معیشت کی رفتار تیز کرنے کے لیے حکومت کی کوششوں کے درمیان تقریباً 88 فیصد ہندوستانی برآمدات (ایکسپورٹ) بحال ہو گئی ہے۔ مرکزی وزارت صنعت و تجارت کے ذرائع نے پیر کے روز بتایا ہے کہ حکومت کی کوششوں کے نتائج نظر آنے لگے ہیں۔ صنعتی سرگرمیوں کے شروع ہونے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے 20 لاکھ کروڑ روپیے کی راحت پیکج اور خود کفیل ہندوستان (آتم نربھر بھارت) کی اہم حصہ داری رہی ہے۔ حکومت کی کوششیں مالیاتی سرگرمیوں کو شروع کروانے اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع مہیا کروانے کی ہیں۔

ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ معیشت میں بہتری کے اشارات میں برآمدات میں متوقع نتائج دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق جون 2020 میں 87.39 فیصد ہندوستانی برآمدات (ایکسپورٹ) کو بحال کیا گیا ہے۔ رواں ماہ لوہے کی برآمدات 63.11 فیصد، تلہن میں 63.11 فیصد، چاول میں 32.72 فیصد، خوردنی تیل میں 27.36 فیصد، مسالے میں 22.92 فیصد، دیگر اناج میں 19.35 فیصد، نامیاتی اور غیر نامیاتی کیمیکلز میں 19.06 فیصد، اناج کی تیاری اور متنوع پروسیسڈ اشیاء میں 13.8 فیصد، پھلوں اور سبزیوں میں 11.01 فیصد، دوا اور فارما میں 9.89 فیصد، تمباکو میں 3.56 فیصد اور کافی میں 2.58 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگنائیزیشن کے شرد کمار نے آئندہ ماہ میں ایکسپورٹ میں اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی معیشتیں دھیرے دھیرے کھل رہی ہیں اور ہندوستانی اشیاء کی ڈیمانڈ ہو رہی ہے۔ آنے والے وقت میں زیورات، چمڑا اور چمڑا اشیاء، گارمینٹس، دھاگا اور کپڑا، پٹرولیم اشیاء، کاجو، گوشت، ڈیری اور پولٹری اشیاء، دستکاری، قالین، الیکٹرانک اشیاء، جوٹ اشیاء، فرش کور، سیریمک اشیاء، اور کانچ کی بنی اشیاء، قالین، سمندری اشیاء، چائے، انجینیئرنگ اشیاء، پلاسٹک اور المونیم، میکا، کوئیلہ اور دیگر اشیاء، پروسیسڈ معدنیات وغیرہ میں ڈیمانڈ آنے کا امکان ہے۔

ذرائع نے کہا کہ حال میں صنعت و تجارت کے مرکزی وزیر پیوش گوئل اور امریکہ کے وزیر تجارت ولبر راس کے درمیان غیر رسمی گفتگو کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے۔ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے ہند۔امریکہ کے درمیان جاری کاروباری مذاکرات کو جلد ختم کرنے اور فری ٹریڈ سمجھوتے کے امکانات پر اتفاق رائے ظاہر کیا۔ گفتگو کے دوران گوئل نے ان 24 ہندوستانی اشیاء کو امریکہ میں بچہ مزدوری کی بنیاد پر پابندی لگانے کا معاملہ اٹھایا۔ اس پر راس نے دونوں ملکوں کے محکمہ مزدور کے افسران کے درمیان اجلاس کی پیشکش کی۔ گوئل نے امریکہ میں ہندوستان سے جھینگے کی درآمد پر پابند لگانے کا بھی ذکر کیا۔ راس نے اس سلسلے میں امریکی محکمہ کے افسران اور بحری تحفظ کے دفتر اور ہندوستانی محکمہ مچھلی اور وزارت جنگلات و ماحولیات کے مابین میٹنگ کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ امریکہ نے جھینگے کی درآمدات پر اس بنیاد پرعائد کیا کہ ہندوستان میں سمندری کچھوؤں کے تحفظ کے ضابطے امریکہ مطابق نہیں ہیں۔

ہندوستانی برآمدات پر زور دیتے ہوئے گوئل نے کہا کہ حکومت، ٹیلی وژن سیٹ، کلوزڈ سرکٹ ٹی وی، ایئر کنڈیشنرس وغیرہ چنندہ الیکٹرانکس کی شناخت کر رہی ہے جن کا ملک میں وسیع پیمانے پر مینوفیکچرنگ ممکن ہے اور بڑی تعداد میں برآمد کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے الیکٹرانکس اینڈ کمپیوٹر سافٹ ویئر ایکسپورٹ پرموشن کونسل سے کہا ہے کہ وہ ایسے پروڈکسشنس اور پالیسی میں تبدیلی کے سلسلے میں خصوصی صلاح دے۔ حکومت اس طرح کی اشیاء کی مینوفیکچرنگ اور برآمد کے لیے ایک دوستانہ ماحول تیار کرنے میں تعاون کرے گی۔

next