’’این سی بی کنگنا رانوت کو تفتیش کے لیے کب بلائے گی؟‘‘

مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے این سی بی سے سوال کیا ہے کہ وہ کنگنا رانوت کو تفتیش کے لیے کب طلب کرے گی؟

کنگنا رانوت، تصویر یو این آئی
کنگنا رانوت، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

ممبئی: بالی ووڈ اور ڈرگس کنکشن معاملے میں این سی بی گزشتہ تین چار مہینے سے اداکاروں و ان کے متعلقین کی تفتیش کر رہی ہے۔ پروڈیوسر وڈائریکٹر کرن جوہر کے گھر کی ویڈیو کی بنیاد پر این سی بی تفتیش کر رہی ہے جبکہ یہ ویڈیو دوسال قبل کی ہے۔ اس وقت ریاست میں فڑنویس کی حکومت تھی جس نے اس کی تفتیش نہیں کی۔ کچھ لوگوں کے گھروں میں ادویات کی برآمدگی پر بھی ان کی تفتیش کی گئی۔ بالی ووڈ کو دہشت زدہ کرنے کے لیے ایک منصوبہ بند کوشش ہو رہی ہے۔ جبکہ ڈرگس لینے اور دوسروں کو ڈرگس لینے پر آمادہ کرنے کا اعتراف کرنے والی کنگنارانوت کو آج تک تفتیش کے لیے طلب نہیں کیا گیا۔ اب وہ پھر ممبئی میں آئی ہوئی ہے اس لیے این سی بی سے میرا سوال ہے کہ وہ کنگنارانوت کو تفتیش کے لیے کب طلب کرے گی؟ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کہی ہیں۔

واضح ہو کہ کنگنا سے تفتیش کیے جانے کا مطالبہ اس سے قبل بھی مھاراشٹرا کی کانگریس پارٹی کرچکی ہے۔ ساونت نے کہا ہے کہ کنگنارانوت نے خودہی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ وہ ڈرگس کا استعمال کرتی ہے۔ یہ اعتراف اس نے ایک ویڈیو میں کیا تھا جو کئی ماہ قبل وائرل ہوچکا ہے۔ کنگنا کا ایک دوست ادھین سومن نے بھی اس بات کی گواہی دی تھی کہ کنگنا ڈرگس کا استعمال کرتی ہے۔ سومن کی ویڈیو بھی وائرل ہوچکی ہے۔ کنگنا نے اپنی ویڈیو میں یہ بات بھی کہی تھی کہ ڈرگس کے بارے میں اپنے پاس خوب ساری معلومات ہیں۔ اس کے باوجود این سی بی کنگنا کے اعتراف کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لے رہی ہے اور اسے تفتیش کے لیے کیوں نہیں طلب کر رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ کنگنا کو مودی حکومت نے وائی درجے کی سیکوریٹی فراہم کی ہے جو آج بھی اسے حاصل ہے۔ اس سیکوریٹی پر جو پیسے خرچ ہو رہے ہیں وہ عوام کے ہیں اور عوام کا یہ پیسہ ضائع ہو رہا ہے۔

سچن ساونت نے کہا کہ کنگنا کی پشت پناہی کرنے والی بے جے پی کے لوگ بھی اب اس معاملے میں خاموش ہیں۔ رام کدم نے کنگنا کا موازنہ جھانسی کی رانی سے کیا تھا۔ رام کدم نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ ڈرگس کے بارے میں کنگنا کے پاس جو معلومات ہیں اگر وہ عوام کے سامنے آگئیں تو کئی لوگوں کے چہرے بے نقاب ہوجائیں گے، اس لیے مہاوکاس اگھاڑی حکومت ان معلومات پر پردہ ڈال رہی ہے۔ اس لیے رام کدم کو چاہیے کہ کنگنا سے کہیں کہ اس کے پاس جو معلومات ہیں وہ این سی بی کو فراہم کرے۔ اس پورے معاملے میں بی جے پی نے کنگنا کی پشت پناہی کرتے ہوئے مہاراشٹر کو بدنام کیا ہے۔ یہ واضح ہوچکا ہے کہ کنگنا بی جے پی کے اشارے پرکام کر رہی ہے۔ اس لیے خود کے سیاسی مفاد کے حصول کے لیے مہاراشٹر کو بدنام کرنے پر بی جے پی کو مہاراشٹر کے 13 کروڑ عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next