مودی حکومت لینے والی ہے بڑا فیصلہ، نئے مالی سال میں گھٹ جائے گی آپ کی تنخواہ!

موجودہ سیلری اسٹرکچر کو دیکھیں تو بیشتر کمپنیوں میں بیسک سیلری کے مقابلے الاؤنس کمپوننٹ زیادہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مرکز کا نیا ضابطہ نافذ ہونے کے بعد پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین پر زیادہ اثر پڑے گا۔

نریندر مودی، تصویر یو این آئی
نریندر مودی، تصویر یو این آئی
user

قومی آوازبیورو

کورونا وبا کے اس دور میں بے روزگاری اپنے عروج پر ہے، اور کئی لوگوں پر ملازمت جانے کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔ اس درمیان ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ مودی حکومت آئندہ سال اپریل سے ’نیو کمپنسیشن رول‘ نافذ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، اور اگر ایسا ہوا تو پرائیویٹ کمپنیوں میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں پر زبردست اثر دیکھنے کو ملے گا۔ دراصل نیا کمپنسیشن ضابطہ نافذ ہوتا ہے تو اس کے بعد ملازمین کے سیلری اسٹرکچر میں تبدیلی ہوگی جس سے پہلے کے مقابلے ہاتھ میں آنے والی نئی تنخواہ بھی بدل جائے گی۔

نئے کمپنسیشن ضابطہ کے تعلق سے ’منی کنٹرول‘ پر ایک رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ نئے ضابطوں کے تحت کمپنیوں کے ذریعہ ملازمین کو دی جانے والی تنخواہ کا اسٹرکچر بدل جائے گا۔ عموماً پرائیویٹ کمپنیوں میں ’نان الاؤنس‘ حصہ کم ہوتا ہے۔ کئی کمپنیوں میں تو یہ 50 فیصد سے بھی کم ہوتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ نئے ضابطہ سے ملازمین کی گریچوئٹی اور پروویڈنٹ فنڈ تعاون میں اضافہ ہوگا، لیکن ہاتھ میں ملنے والی تنخواہ یکساں تناسب میں کم ہو جائے گی۔

اگر موجودہ سیلری اسٹرکچر کو دیکھا جائے تو بیشتر کمپنیوں میں بیسک سیلری کے مقابلے میں الاؤنس کمپوننٹ زیادہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مرکزی حکومت کا نیا ضابطہ نافذ ہو جانے کے بعد پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین پر زیادہ اثر پڑنے والا ہے۔ مودی حکومت کے اس قدم سے ان لوگوں کے لیے مسائل کافی بڑھ جائیں گے جو ہاتھ میں آنے والی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ ای ایم آئی پر خرچ کرتے ہیں۔ کئی لوگ تو اپنی تنخواہ کا 40 یا 50 فیصد حصہ بینکوں کی ای ایم آئی میں لگاتے ہیں، اور ایسے لوگوں کو جب ہاتھ میں کم تنخواہ ملے گی تو معمولات زندگی پر اثر پڑنا لازمی ہے۔ حالانکہ ’اِن ہینڈ سیلری‘ کم ہونے سے ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کو کافی فائدہ مل سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔