کربِ ذات کا شاعر: ساحرؔ لدھیانوی… کامران غنی صباؔ

ساحرؔ جتنے کامیاب شاعر تھے بدقسمتی سے وہ اتنے ہی ناکام عاشق ثابت ہوئے۔ کالج کے زمانے میں امرتا پریتم سے محبت ہوئی۔ خط و کتابت کا سلسلہ چلا۔ ملاقاتیں بھی ہوئیں لیکن وہ اس محبت کومنزل تک نہیں پہنچا سکے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

کامران غنی صبا

کبھی خود پہ کبھی حالات پہ رونا آیا

بات نکلی تو ہر اک بات پہ رونا آیا

فلم "ہم دونوں" کا یہ نغمہ سنتے ہی ہمارے ذہن میں فوراً ساحرؔ لدھیانوی کا نام ابھرتا ہے۔ کم لوگ واقف ہیں کہ ساحر لدھیانوی کا اصل نام عبدالحئی تھا۔ 8 مارچ 1921 کو لدھیانہ میں پیدا ہونے والے ساحر نے اپنے الفاظ کے سحر سے فلمی اور ادبی دونوں دنیا پر برسوں حکمرانی کی۔ "میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا"، "کبھی کبھی مرے دل میں خیال آتا ہے"، "چلو اک بار پھر سے اجنبی بن جائیں ہم دونوں"، "زندگی بھر نہیں بھولے گی وہ برسات کی رات"، "دور رہ کر نہ کرو بات قریب آجائو"، "رنگ اور نور کی بارات کسے پیش کروں"، "ہم آپ کی آنکھوں میں اس دل کو بسا دیں تو" جیسے بے شمار فلمی نغمے لکھنے والے ساحر لدھیانوی نے فلمی دنیا کی عام روش سے ہٹ کر فلمی نغمہ نگاری کو ایک نیا اور منفرد لہجہ عطا کیا۔ ساحرؔ بنیادی طور پر ترقی پسند تھے۔ ان کی فلمی شاعری میں بھی ان کا اشتراکی نظریہ واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے؎

یہ محلوں، یہ تختوں، یہ تاجوں کی دنیا

یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا

یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

ہر اک جسم گھائل ہر اک روح پیاسی

نگاہوں میں الجھن دلوں میں اداسی

یہ دنیا ہے یا عالمِ بدحواسی

یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے

فلم "سادھنا " کے یہ اشعار بھی دیکھیے:

عورت نے جنم دیا مردوں کومردوں نے اسے بازار دیا

جب جی چاہا کچلا، مسلا، جب جی چاہا دھتکار دیا

تلتی ہے کہیں دیناروں میں، بکتی ہے کہیں بازاروں میں

ننگی نچوائی جاتی ہے عیاشوں کے درباروں میں

یہ وہ بے عزت چیز ہے جو بٹتی ہے عزت داروں میں


بحیثیت فلمی نغمہ نگار ساحر لدھیانوی نے سب سے پہلے فلم آزادی کی راہ پر (1948) کے لیے چار نغمے لکھے۔ لیکن فلمی نغمہ نگار کی حیثیت سے 1951 میں ریلیز ہونے والی فلم "نوجوان" سے ہوئی۔ اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انہیں 1963ء میں ریلیز ہونے والی فلم "تاج محل" کے لیے بہترین نغمہ نگار کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ دوسری بار انہیں 1976ء میں فلم "کبھی کبھی" کے نغمے لکھنے کے لیے فلم فیئر ایوارڈ دیا گیا۔ 1971ء میں انہیں پدم شری کے اعزاز سے نوازا گیا۔

ترقی پسند تحریک کے زمانے میں بہت سارے شعرا نے فلمی دنیا کو اپنا کیریئر بنایا، ان میں سے بیشتر فلمی دنیا کے ہی ہو کر رہ گئے۔ ساحرؔ لدھیانوی نے فلمی دنیا میں جانے کے بعد بھی ادبی معیار اور فنی اصولوں سے کوئی سمجھوتا نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فلمی شاعری دوسرے شعرا کی طرح محض رومانی جذبات کا اظہار بن کر نہیں رہ گئی۔ انہوں نے رومانی جذبات کے اظہار میں بھی ادبی لطافت کی بھرپور پاسداری کی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے رومانی نغموں میں بھی اظہار بیان کی پاکیزگی اور لطافت کہیں مجروح نہیں ہوتی۔ فلم "برسات کی رات" کا یہ نغمہ ایک پاکیزہ رومانی نظم کا احساس پیدا کرتا ہے۔ کیا خوب صورت منظر کشی ہے ؎


ہائے وہ ریشمی زلفوں سے برستا پانی

پھول سے گالوں پہ رکنے کو ترستا پانی

دل میں طوفان اٹھاتے ہوئے جذبات کی رات

زندگی بھر نہیں بھولے گی وہ برسات کی رات

ساحرؔ جتنے کامیاب شاعر تھے بدقسمتی سے وہ اتنے ہی ناکام عاشق ثابت ہوئے۔ کالج کے زمانے میں انہیں امرتا پریتم سے محبت ہوئی۔ خط و کتابت کا سلسلہ بھی چلا۔ ملاقاتیں بھی ہوئیں لیکن وہ اس محبت کو منزل تک نہیں پہنچا سکے۔ 1960 میں ساحرؔ گلوکارہ سدھا ملہوترا کے عشق میں گرفتار ہوئے لیکن یہ محبت بھی ادھوری ثابت ہوئی۔ ساحرؔ کی شاعری میں محرومی محبت کا گلہ مختلف انداز میں سامنے آتا ہے۔ ان کی طویل نظم "سوچتا ہوں" کہ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

سوچتا ہوں محبّت سے کنارا کر لوں

دل کو بیگانہ ترغیب و تمنّا کر لوں

سوچتا ہوں کے محبّت ہے ایک افسردہ سی لاش

چادرِ عزت و ناموس میں کفنائی ہوئی

دورِ سرمایہ کی روندی ہوئی رسوا ہستی

درگہِ مذہب و اخلاق سے ٹھکرائی ہوئی

سوچتا ہوں کے محبّت نہ بچے گی زندہ

پیش ازاں وقت کہ سڑ جائے یہ گلتی ہوئی لاش

یہی بہتر ہے کہ بیگانہءِ اُلفت ہوکر !

اپنے سینوں میں کروں جذبہِ نفرت کی تلاش


ساحرؔ کی شاعری میں راست بیانیہ کی جگہ استعارات و تشبیہات کو اہمیت دی جاتی ہے لیکن محبت کا مارا ہوا یہ شاعرخود تو شکست محبت کی جیتی جاگتی تصویر بن جاتا ہے لیکن صنف نازک کو یہ باغیانہ پیغام دینے سے نہیں چوکتا؎

میں سمجھتا ہوں تقدس کو تمدن کا فریب

تم رسو مات کو ایمان بناتی کیوں ہو

تم میں ہمت ہے تو دنیا سے بغاوت کردو

ورنہ ماں باپ جہاں کہتے ہیں شادی کر لو

ساحر لدھیانوی کی شاعری دراصل کرب ذات کی شاعری ہے۔ ساحرؔ کی پوری زندگی جدوجہد سے عبارت ہے۔ والد کی بیگانہ روی، والدہ کی مظلومیت، معاشی بدحالی، عشق میں ناکامی، غرض ساحرؔ نے زندگی کی کلفتوں کو جتنے قریب سے دیکھا، اسے اپنی شاعری میں سمونے کی کوشش کی۔ انہوں نے زندگی بھر کبھی شادی نہیں کی۔ انہوں نے پئے در پئے کئی غم کھائے لیکن کبھی نڈھال نہیں ہوئے بلکہ دوسروں کے غم کو بھی اپنے دل میں سمو لینے کا حوصلہ رکھا ؎

تم اپنا رنج و غم اپنی پریشانی مجھے دے دو

تمہیں غم کی قسم اس دل کی ویرانی مجھے دے دو


ایک سچے فنکار کی پہچان ہے کہ اس کے احساسات و تجربات لٖفظوں کا جامہ زیب تن کرنے کے بعد دیکھنے اور سننے والوں کے احساسات و تجربات بن جاتے ہیں۔ ساحرؔ کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے اپنی آپ بیتی کو جگ بیتی بنا کر پیش کر دیا ہے۔ وہ خود کہتے ہیں:

دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں

جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں

اردو شعر و ادب اور فلمی دنیا کے توسط سے لاکھوں اور کروڑوں دلوں میں گھر کرنے والے اس عظیم شاعر نے 25 اکتوبر 1980 کو تلخیوں سے بھری اس دنیا کو خیرآباد کہہ دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔