اپنی دلکش آواز سے شائقین کا دل جیتنے والی مشہور گلوکارہ آشا بھونسلے

کلاسیکل موسیقی سے لے کر مغربی دھنوں پر گلوکاری کرنے والی آشا بھونسلے 1981 میں آئی فلم امراؤ جان ادا سے اپنے گانے کے اسٹائل میں تبدیلی کرکے ایک کیبرے سنگر اور پاپ سنگر کی شبیہ سے باہر نکلیں۔

آشا بھونسلے، تصویر آئی اے این ایس
آشا بھونسلے، تصویر آئی اے این ایس
user

یو این آئی

سالگرہ کےموقع پر خاص

ممبئی: اپنی دلکش آواز سے شائقین کے دلوں کو محظوظ کرنے والی مشہور گلوکارہ آشا بھونسلے آج 88 سال کی ہوگئیں۔ آٹھ (8) ستمبر 1933 کو مہاراشٹر کے سانگلی گاؤں میں پیدا ہوئیں آشا بھونسلے کے والد پنڈت دینا ناتھ منگیشکر مراٹھی تھیئٹر سے وابستہ تھے۔ محض نو برس کی عمر میں ہی والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا اور کنبہ کی معاشی ذمہ داری نبھاتے ہوئے آشا اور ان کی بہن لتامنگیشکر نے فلموں میں اداکاری کے ساتھ ساتھ گانا گانا بھی شروع کر دیا۔

آشا بھونسلے نے 1948 میں اپنا پہلا گانا ’ساون آیا‘ فلم چنریا میں گایا تھا۔ سولہ سال کی عمر میں اپنے کنبے کی خواہشات کے برخلاف آشا نے اپنی عمر سے کہیں زیادہ بڑے گنپت راؤ بھونسلے سے شادی کرلی۔ ان کی یہ شادی زیادہ کامیاب نہیں رہی اور بالآخر انہیں ممبئی سے واپس پنے میں واقع اپنے گھر جانا پڑا۔ اس وقت تک گیتا دت، شمشاد بیگم اور لتامنگیشکر فلموں میں بطور گلوکارہ اپنا سکہ جماچکی تھیں۔ سال 1957 میں موسیقار او پی نیئر کی موسیقی ہدایت کاری میں پروڈیوسر ہدایت کار بی آر چوپڑا کی فلم ’نیا دور‘ آشا بھونسلے کے کیریئر میں ایک اہم پڑاؤ لے کر آیا۔ سال 1966 میں فلم ’تیسری منزل‘ میں آشا نے آر ڈی برمن کی موسیقی میں ’آجا آجا میں ہوں پیار تیرا‘ گانے کو اپنی آواز دی جس سے انہیں کافی شہرت حاصل ہوئی۔


کلاسیکل موسیقی سے لے کر مغربی دھنوں پر گلوکاری میں مہارت حاصل کرنے والی آشا بھونسلے 1981 میں آئی فلم امراؤ جان ادا سے اپنے گانے کے اسٹائل میں تبدیلی کرکے ایک کیبرے سنگر اور پاپ سنگر کی شبیہ سے باہر نکلیں اور لوگوں کو یہ احساس کرایا کہ وہ ہر طرح کے نغمے گانے میں ہنرمند ہیں۔ فلم امراؤ جان کے لئے ’دل چیز کیا ہے اور ان آنکھوں کی مستی کے...‘ جیسی غزلیں گا کر انہیں خود بھی حیرانی ہوئی کہ وہ اس طرح کے نغمے بھی گا سکتی ہیں۔ اس فلم کے لئے انہیں اپنے کیریئر کا پہلا نیشنل ایوارڈ بھی ملا۔ آشا بھونسلے نے 1995 میں اے آر رحمان کی فلم رنگیلا کے لئے ’تنہا تنہا ...‘نغمہ گایا جو ان کے فلمی کیرئیر کے لئے میل کا پتھر ثابت ہوا۔ انہیں بطور گلوکارہ آٹھ مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔ سال 2001 میں فلمی دنیا کے اعلی ترین اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس سے قبل انہیں فلم امراؤ جان ادا اور اجازت میں ان کے گائے نغموں کے لیے نیشنل ایوارڈ بھی دیا گیا۔

آج ریمكس گیتوں کے دور میں بنائے گئے گانوں پر اگر ایک نظر ڈالی جائے تو پتہ لگے گا کہ ان میں سے زیادہ تر نغمے آشا بھونسلے نے ہی گائے تھے۔ ان ریمكس نغمات میں ’پان کھائے سياں ہمار...، پردے میں رہنے دو ...، جب چلی ٹھنڈی ہوا....، شهری بابو دل لہری بابو...، جھمكا گرا رے بریلی کے بازار میں....، کالی گھٹا چھائے مورا جیا گھبرائے....، لوگو نہ مارو اسے....، كهہ دوں تمہیں یا چپ رہوں ...اور میری بیری کے بیر مت توڑو جیسے سپر ہٹ نغمات شامل ہیں۔ آشا بھونسلے نے ہندی نغمات کے علاہ غیر فلمی گانے، غزلیں اور قوالیاں بھی بخوبی گائیں ہیں۔ جگر مرادآبادی کی غزل ’میں چمن میں جہاں بھی رہوں میرا حق ہے فصل بہار پر...‘ ان کی زندگی کو کافی حد تک بیان کرتی ہے۔


آشا بھونسلے نے ہندی فلمی گانوں کے علاوہ غیر ہندی فلمی غزلیں، بھجن اور قوالیاں بھی بخوبی گائی ہیں۔ انہوں نے اپنے کیریئر میں اب تک 12 ہزار سے زیادہ گیت گائے ہیں۔ ہندی کے علاوہ انہوں نے مراٹھی، بنگالی، گجراتی، پنجابی، تمل، ملیالم اور انگریزی زبانوں میں بھی گانے گائے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔