کروز ڈرگس کیس: شاہ رخ کے بیٹے آرین کی گرفتاری میں بڑا انکشاف، گواہ نے 18 کروڑ میں ڈیل طے ہونے کا کیا دعویٰ

گواہ پربھاکر نے دعویٰ کیا ہے کہ کروز پر چھاپہ ماری کے بعد شاہ رخ کی منیجر پوجا کے ساتھ کے پی گوساوی اور سیم کو نیلے رنگ کی مرسیڈیز کار میں ایک ساتھ تقریباً 15 منٹ تک بات کرتے اس نے دیکھا تھا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

ممبئی کروز ڈرگس کیس میں کچھ ایسی نئی باتیں سامنے آئی ہیں جو حیرت انگیز ہیں۔ اداکار شاہ رخ خان کے بیٹے آرین خان کے خلاف کیس میں پنچ بنائے گئے پربھاکر سیل نے ایک حلف نامہ دے کر بڑے انکشافات کیے ہیں۔ پربھاکر نے این سی بی کے زونل چیف سمیر وانکھیڑے اور دوسرے گواہ کے پی گوساوی پر کئی سنگین الزامات بھی عائد کیے ہیں۔

پربھاکر سیل نے اس کیس کے تعلق سے کہا ہے کہ اس نے کے پی گوساوی اور سیم کو 25 کروڑ روپے کی بات کرتے سنا تھا اور 18 کروڑ پر بات بنی، ایسا کہتے سنا۔ پربھاکر کا دعویٰ ہے کہ گوساوی اور سیم نے مبینہ طور پر 8 کروڑ روپے این سی بی افسر سمیر وانکھیڑے کو دینے کی بات کہی تھی۔ پربھاکر نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کروز پر چھاپہ ماری کے بعد شاہ رخ خان کی منیجر پوجا ڈڈلانی کے ساتھ کے پی گوساوی اور سیم کو نیلے رنگ کی مرسیڈیز کار میں ایک ساتھ تقریباً 15 منٹ تک بات کرتے اس نے دیکھا تھا۔ پربھاکر نے بتایا کہ اس کے بعد گوساوی نے اسے فون کیا تھا اور بطور پنچ بننے کو کہا تھا۔ اس نے یہ بھی بتایا ہے کہ این سی بی اس سے 10 سادے کاغذ پر دستخط کروائے تھے۔


پربھاکر نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے 50 لاکھ نقدی سے بھرے دو بیگ گوساوی کو دیے۔ اس نے دعویٰ کیا ہے کہ یکم اکتوبر کو رات 9 بج کر 45 منٹ پر گوساوی نے فون کر کے 2 اکتوبر کی صبح 7.30 بجے تک تیار ہونے اور ایک جگہ پر آنے کو کہا تھا۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گوساوی نے اسے کچھ تصویریں دی تھیں اور گرین گیٹ پر ان لوگوں کی پہچان کرنے کے لیے کہا تھا، جو تصویر میں ہیں۔

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ الزام لگانے والے پربھاکر نے خود کو کے پی گوساوی کا باڈی گارڈ بتایا ہے۔ کے پی گوساوی وہی شخص ہیں جن کی تصویر آرین خان کے ساتھ وائرل ہوئی تھی۔ گوساوی پرائیویٹ جاسوس ہے۔ دوسری طرف نارکوٹکس کنٹرول بیورو کے افسر سمیر وانکھیڑے نے اس معاملے میں کسی بھی طرح کی گڑبڑی سے انکار کیا ہے۔ وانکھیڑے نے کہا کہ وہ اس کا سخت جواب دیں گے۔ خبروں کے مطابق آف دی ریکارڈ افسران نے کہا کہ وہ 2 اکتوبر سے پہلے پربھاکر سیل سے کبھی نہیں ملے اور انھیں اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے کہ وہ کون ہے؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


Published: 24 Oct 2021, 2:11 PM