جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی بمباری جاری، جنوبی لبنان میں ایک اور شہری ہلاک

مبصرین کے مطابق مسلسل بمباری اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں نہ صرف لبنان کی داخلی صورتحال کے لیے خطرہ ہیں بلکہ سرحدی علاقے میں تعینات بین الاقوامی امن مشن کے لیے بھی سنجیدہ چیلنج ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

یو این آئی

اسرائیل اور لبنان کے درمیان نومبر 2024 میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے باوجود سرحدی کشیدگی کم نہ ہو سکی، جہاں اسرائیلی حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور  اب جنوبی لبنان میں ایک بار پھر جانی نقصان سامنے آیا ہے۔اسرائیل اور لبنان کے درمیان 27 نومبر 2024 سے نافذ جنگ بندی معاہدے کے باوجود اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنان میں فضائی حملے جاری ہیں۔ جمعہ کے روز جنوبی لبنان میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ایک لبنانی شہری ہلاک ہو گیا، جس کی تصدیق لبنانی وزارتِ صحت نے کی ہے۔

لبنانی وزارتِ صحت کے جاری بیان کے مطابق اسرائیلی حملے میں جنوبی لبنان کے علاقے منصوری میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ اس سے ایک رات قبل بھی اسرائیلی بمباری کے دوران جنوبی لبنان میں ایک اور شہری ہلاک ہوا تھا۔


ایک روز قبل اسرائیلی فوج نے لبنان میں کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے مبینہ ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا جواز یہی پیش کیا جاتا رہا ہے کہ وہ حزب اللہ کے ارکان اور اس کے عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنا رہی ہے۔ جمعرات کے روز اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اس نے حزب اللہ کے ایک رکن کو ہلاک کیا ہے، جو مبینہ طور پر علاقے میں تنظیم کے عسکری ڈھانچے کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

واضح رہے کہ ایک ہفتہ قبل لبنانی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس نے دریائے لیطانی کے جنوبی حصے میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا اپنا ہدف مکمل کر لیا ہے اور اب وہاں تنظیم کا کوئی مسلح اہلکار موجود نہیں۔ تاہم اسرائیل نے لبنانی اقدامات کو ناکافی قرار دیتے ہوئے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی سلسلے میں جمعرات کو اسرائیلی فوج نے دریائے لیطانی کے شمالی علاقوں اور بیکا ریجن میں انخلاء کے انتباہات جاری کرنے کے بعد بمباری بھی کی تھی۔


دوسری جانب جنوبی لبنان میں تعینات اقوام متحدہ کی امن فورس یونیفل نے جمعہ کے روز اپنے بیان میں کہا کہ ایک اسرائیلی ڈرون نے امن سپاہیوں کی پوزیشن پر گرینیڈ بھی گرایا۔ اس سے قبل پیر کے روز بھی امن فورس نے اسرائیلی ٹینکوں کی گولہ باری کی شکایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے یہ حملے ان کے فرائض کی انجام دہی میں شدید رکاوٹ بن رہے ہیں۔

مبصرین کے مطابق مسلسل بمباری اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں نہ صرف لبنان کی داخلی صورتحال کے لیے خطرہ ہیں بلکہ سرحدی علاقے میں تعینات بین الاقوامی امن مشن کے لیے بھی سنجیدہ چیلنج بنتی جا رہی ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔