المسجد الحرام میں موسلا دھار بارش کے دوران سب معمول کے مطابق کیسے ہوا؟

الحرم المکی نے بروز منگل نمازیوں اور معتمرین کا استقبال موسلا دھار بارش سے کیا۔ اس موقع پر فرزندان توحید نے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر اللہ سے گڑ گڑا کر دعائیں کیں

تصویر بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
تصویر بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
user

قومی آوازبیورو

الریاض: الحرم المکی نے بروز منگل نمازیوں اور معتمرین کا استقبال موسلا دھار بارش سے کیا۔ اس موقع پر فرزندان توحید نے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر اللہ سے گڑ گڑا کر دعائیں کیں۔ اطمینان اور سکون سے لبریز فضا میں نمازیوں نے رمضان المبارک کے وسط میں اللہ سے خوب دلجمعی کے ساتھ گڑ گڑا کر دعائیں مانگیں۔ بارش تھمنے کے بعد صفائی کے چار ہزار اہلکاروں نے دو سو نگران اور کنڑولرز کی قیادت میں حرم مکی میں مطاف کا صحن، نماز کی جگہ سمیت تمام داخلی اور خارجی راستوں سے پندرہ منٹ کے ریکارڈ عرصے میں بارش کا پانی صاف کر دیا۔

صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین نے المسجد الحرام میں برسنے والی غیر معمولی بارش کے منفی اثرات سے مسجد حرام کا قصد کرنے والوں کو محفوظ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کر رکھے تھے تاکہ وہ سہولت کے ساتھ مناسک ادا کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے حرم کے اندر اور باہر پانی چوسنے اور صفائی میں استعمال ہونے والے آلات بڑے پیمانے پر صفائی عملے میں تقسیم کیے گئے تھے تاکہ حرم مکی سے بارش کا پانی جلد از جلد خشک کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لئے حرم کے باہر اور داخلی علاقے میں 480 مشینیں اور آلات تقسیم کیے گئے تھے۔

ٹیکنیکل اور سروسز ایجنسی نے ایسے حالات کے لیے اپنے ہنگامی منصوبے تیار کرتے ہوئے اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کیا تھا۔ تیز بارش سے پیدا ہونے والی صورت حال سے نپٹنے کے لیے پیشگی حفاظتی پلان تیار تھا جس کے مطابق صفائی عملے کو مناسب تعداد میں مددگار آپریٹس حرم کے تمام حصوں میں فراہم کیا گیا تھا تاکہ زائرین الحرمین الشریفین کو عبادت اور مناسک کی ادائی میں کسی قسم کی مشکلات پیش نہ آئیں۔

بارش سے بچاؤ کے لیے حفاظتی کور اور پیدل چلنے والے راستوں بشمول برقی زینوں پر پلاسٹک فٹ میٹس فراہم کیے گئے تھے۔ نیز پانی کے بہاؤ میں ممکنہ رکاوٹ کا سدباب کرنے کی غرض سے مین ہولز اور گٹروں کی ہنگامی بنیادوں پر صفائی کی جاتی رہی ہے۔

(بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔