کھیل

دھونی کی سالانہ آمدنی 30 فیصد بڑھی، اس سال بھی جھارکھنڈ کے سب سے بڑے انفرادی ٹیکس دہندہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ دھونی کی طرف سے جمع کرائے گئے 38 کروڑ روپے ایڈوانس ٹیکس کی بنیاد پر سال 22-2021 میں ان کی آمدنی تقریباً 130 کروڑ روپے کے آس پاس رہنے کی امید ہے۔

ایم ایس دھونی، تصویر آئی اے این ایس
ایم ایس دھونی، تصویر آئی اے این ایس 

کرکٹر مہندر سنگھ دھونی نے انٹرنیشنل کرکٹ کو بھلے ہی الوداع کہہ دیا ہو، لیکن اس سے ان کی سالانہ آمدنی پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں ان کی آمدنی میں تقریباً 30 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ انکم ٹیکس محکمہ میں ان کی طرف سے جمع کیا گیا ایڈوانس ٹیکس اس کی تصدیق کرتا ہے۔ انھوں نے سال 22-2021 کے لیے انکم ٹیکس محکمہ کو بطور ایڈوانس ٹیکس 38 کروڑ روپے کی ادائیگی کی ہے، جب کہ گزشتہ سال یعنی سال 21-2020 میں یہ رقم 30 کروڑ روپے کے آس پاس تھی۔ انکم ٹیکس محکمہ کے اعلیٰ ذرائع کے مطابق مہندر سنگھ دھونی اس سال بھی جھارکھنڈ کے سب سے بڑے انفرادی ٹیکس دہندہ رہے ہیں۔

Published: undefined

ماہرین کا کہنا ہے کہ دھونی کی طرف سے جمع کرائے گئے 38 کروڑ روپے ایڈوانس ٹیکس کی بنیاد پر سال 22-2021 میں ان کی آمدنی تقریباً 130 کروڑ روپے کے آس پاس رہنے کی امید ہے۔ انکم ٹیکس محکمہ کے اعداد و شمار کے مطابق دھونی نے جب سے بین الاقوامی کرکٹ کیریر کی شروعات کی، تبھی سے لگاتار جھارکھنڈ میں انفرادی درجہ میں سب سے بڑے ٹیکس دہندہ ہیں۔ سال 20-2019 میں انھوں نے 28 کروڑ اور اس کے پہلے 19-2018 میں بھی تقریباً اتنی ہی رقم انکم ٹیکس کے طور پر ادا کی تھی۔ اس کے پہلے انھوں نے 18-2017 میں 12.17 کروڑ اور 17-2016 میں 10.93 کروڑ کا انکم ٹیکس ادا کیا تھا۔

Published: undefined

ظاہر ہے کہ 15 اگست 2020 کو بین الاقوامی کرکٹ کے سبھی فارمیٹ سے بطور کھلاڑی دوری بنانے کے باوجود دھونی بزنس کی پچ پر بھی شاندار پاری کھیل رہے ہیں۔ حالانکہ کرکٹر کے طور پر آئی پی ایل سے ان کا رشتہ برقرار ہے۔ سابق ہندوستانی کپتان نے کئی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ اسپورٹس ویئر، ہوم انٹیریر کی کمپنی ہوملین، پرانی کاروں کی خرید-بکری کرنے والی کمپنی کارس24، اسٹارٹ اَپ کمپنی کھاتابک، اسپورٹس کمپنی رَن ایڈم، کرکٹ کوچنگ اور آرگینگ فارمنگ میں بھی انھوں نے سرمایہ کاری کی ہے۔ رانچی میں وہ تقریباً 43 ایکڑ زمین میں آرگینک فارمنگ کرواتے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined