کھیل

قومی گریپلنگ چیمپئن شپ میں دہلی کے کھلاڑیوں کا شاندار مظاہرہ، عبداللہ نمیر احمد نے مسلسل دوسرا طلائی تمغہ کیا حاصل

گوہاٹی میں منعقدہ 19ویں قومی گریپلنگ چیمپئن شپ میں دہلی کے عبداللہ نمیر احمد نے مسلسل دوسرا طلائی تمغہ جیتا، جبکہ ابان احمر پٹھان نے اپنی پہلی قومی شرکت میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر پریس ریلیز</p></div>

تصویر پریس ریلیز

 

گوہاٹی میں 28 سے 31 مئی تک منعقدہ 19ویں قومی گریپلنگ چیمپئن شپ میں دہلی کے نوجوان کھلاڑیوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک طلائی اور ایک چاندی کا تمغہ اپنے نام کیا۔ تقریباً دو ہزار کھلاڑیوں کی شرکت والی اس بڑی قومی مسابقت میں دہلی کے عبداللہ نمیر احمد اور ابان احمر پٹھان کی کامیابی نے قومی دارالحکومت کا نام روشن کر دیا۔

سترہ سالہ عبداللہ نمیر احمد نے انڈر 17 ہیوی ویٹ زمرے میں طلائی تمغہ جیت کر مسلسل دوسری مرتبہ قومی چیمپئن بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ عبداللہ نے اپنی پہلی کشتی کے دوران ٹخنے کی چوٹ کا سامنا کیا، تاہم انہوں نے مقابلے سے دستبردار ہونے کے بجائے غیر معمولی حوصلے اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ چوٹ کے باوجود انہوں نے اپنے حریفوں کو سبمیشن کے ذریعے شکست دیتے ہوئے قومی خطاب کا کامیاب دفاع کیا۔

Published: undefined

دوسری جانب سولہ سالہ ابان احمر پٹھان نے انڈر 17، انڈر 85 کلوگرام زمرے میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا۔ یہ ان کی پہلی قومی چیمپئن شپ تھی اور قومی سطح پر پہلی ہی شرکت میں تمغہ جیت کر انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور ثبوت دیا۔ کھیل کے ماہرین کے مطابق ان کی یہ کامیابی مستقبل میں مزید بڑی فتوحات کی بنیاد بن سکتی ہے۔

اس چیمپئن شپ کا انعقاد گریپلنگ فیڈریشن آف انڈیا کی جانب سے کیا گیا تھا، جس میں ملک کی 28 ریاستوں سے تقریباً دو ہزار کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ سخت مقابلے کے ماحول میں دہلی کے دونوں نوجوانوں کی کامیابی کو نمایاں کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

عبداللہ نمیر احمد اور ابان احمر پٹھان مشرقی دہلی کے رہائشی ہیں اور نوئیڈا میں واقع دی لیجنڈ جو جِتسو فائٹنگ کلب میں کوچ روی کمار کی نگرانی میں تربیت حاصل کرتے ہیں۔ دونوں بچپن کے دوست ہیں اور ایک دوسرے کو بھائی کی طرح سمجھتے ہیں۔ برسوں سے مشترکہ تربیت اور باہمی تعاون نے ان کی کھیلوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

کوچ روی کمار نے دونوں کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ عبداللہ کا چوٹ کے باوجود قومی خطاب جیتنا ایک حقیقی فائٹر کی ذہنی مضبوطی کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ ابان کا اپنی پہلی قومی چیمپئن شپ میں چاندی کا تمغہ حاصل کرنا ان کے روشن مستقبل کی نشاندہی کرتا ہے۔

Published: undefined

عبداللہ اس سے قبل بھی دہلی گیمز، 18ویں قومی گریپلنگ چیمپئن شپ اور دہلی ریاستی گریپلنگ و جو جِتسو مقابلوں میں متعدد تمغے جیت چکے ہیں۔ انہیں جنوبی ایشیائی جو جِتسو چیمپئن شپ میں ہندوستان کی نمائندگی کے لیے بھی منتخب کیا جا چکا ہے۔

دونوں نوجوان کھلاڑیوں کی اس کامیابی پر ان کے اہل خانہ، تعلیمی اداروں، اکیڈمی اور دہلی کی کھیل برادری میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ان کی کامیابی نہ صرف نوجوان کھلاڑیوں کے لیے حوصلہ افزا مثال ہے بلکہ یہ قومی دارالحکومت کے ابھرتے ہوئے گریپلنگ اور جنگی کھیلوں کے ٹیلنٹ کی بھی عکاسی کرتی ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined