ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی کا پی ایم مودی کو مشترکہ خط، رام مندر معاملے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ
ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی نے اپنے مشترکہ خط میں لکھا کہ ’’لاکھوں عقیدت مند، جنہوں نے عقیدت، محبت اور یقین کے ساتھ اپنی محنت کی کمائی عطیہ کی، اس چوری سے خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔‘‘

کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک مشترکہ خط لکھ کر ’شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ‘ کے مالیاتی امور کی آزادانہ اور جامع تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ لاکھوں عقیدت مندوں نے عقیدت، محبت اور بھروسے کے ساتھ اپنی محنت کی کمائی عطیہ کی تھی، اس چوری سے وہ خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔
ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی نے اپنے مشترکہ خط میں لکھا کہ ’’آپ ’شری رام جنم بھومی تیرتھ چھیتر ٹرسٹ‘ میں ہزاروں کروڑ روپے کی مبینہ چوری سے اچھی طرح واقف ہیں۔ لاکھوں عقیدت مند، جنہوں نے عقیدت، محبت اور یقین کے ساتھ اپنی محنت کی کمائی عطیہ کی، اس چوری سے خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔‘‘
کانگریس لیڈران نے لکھا کہ ’’آپ نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر پارلیمنٹ میں ٹرسٹ کی تشکیل کا اعلان کیا تھا، لیکن اس کے اراکین کا تقرر مکمل طور پر آپ کی حکومت نے کیا ہے۔ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے کہ ٹرسٹ کے اراکین راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس)، وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) اور ان سے وابستہ تنظیموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس کے سابق جنرل سکریٹری (چمپت رائے) بھی آپ کے قریبی ساتھی تھے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ایسے جرم کے معاملے پر آپ کی خاموشی قابل قبول نہیں ہے۔ جوابدہی طے کرنا اور نقصان کا ازالہ یقینی بنانا آپ کا فرض ہے۔‘‘
کانگریس صدر اور اپوزیشن لیڈر نے خط میں لکھا کہ ’’ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ آپ فوری طور پر ٹرسٹ کے مالیاتی امور کی آزادانہ اور جامع تحقیقات کا حکم دیں، جس میں نقد، سونا اور چاندی سمیت تمام عطیات کا انتظام و انصرام بھی شامل ہو۔ تحقیقاتی رپورٹ اور ٹرسٹ کے اکاؤنٹس کو پبلک کیا جانا چاہیے تاکہ ہر عقیدت مند کو معلوم ہو سکے کہ ان کے چڑھاوے کا کس طرح استعمال کیا گیا ہے۔ جانچ میں جو بھی قصوروار پائے جائیں، ان کے عہدے یا اثر و رسوخ کی پرواہ کیے بغیر ان کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔‘‘ خط میں یہ بھی کہا گیا کہ مرکزی حکومت اور ٹرسٹ کی ساکھ اب اس بات پر منحصر ہوگی کہ اس معاملے میں کتنی شفافیت اور تیزی سے کارروائی کی جاتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
