سماج

’برقعہ پر پابندی عائد کرنا شہری آزادی کے منافی‘

ماہر اسلامیات اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر اختر الواسع نے کہا ہے کہ برقعہ پر پابندی عائد کرنے کی کوئی بھی کوشش ہندوستانی آئین میں دی گئی شہری آزادی کی ضمانت کے منافی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

ماہر اسلامیات اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ اسلامک اسٹڈیز کے پروفیسر اختر الواسع نے کہا ہے کہ برقعہ پر پابندی عائد کرنے کی کوئی بھی کوشش ہندوستانی آئین میں دی گئی شہری آزادی کی ضمانت کے منافی ہے۔

Published: 03 May 2019, 9:10 PM IST

انہوں نے کہا کہ ”یہ کام حکومتوں،سیاسی جماعتوں یا تنظیموں کا نہیں ہے کہ وہ عورتوں کو یہ ہدایت دیں یا ان پر دباؤ بنائیں کہ وہ برقعہ کا استعمال کریں یا نہ کریں۔ ہمارا ملک ایک ثقافتی اور تہذیبی تنوع کا ملک ہے اور اس سے بھی زیادہ یہ کہ یہ ہر انسان کو آزادی اور خود مختاری عطا کرتا ہے۔ اس لیے یہ حکم جاری کرنا یا مشورہ دینا بالکل درست نہیں ہے کہ ہماری غذا اور لباس کے سلسلے میں کیا ترجیحات ہونی چاہئیں۔''

Published: 03 May 2019, 9:10 PM IST

خیال رہے کہ سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر ہوئے خود کش دھماکہ کے بعد وہاں کی حکومت نے خواتین کے چہرہ ڈھکنے پر پابندی عائد کردی ہے جس کے بعد ہندوستا ن میں بھی کچھ جماعتوں کی جانب سے ایسے ہی اقدام کا حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے۔
پروفیسر اختر الواسع نے کہا ”جوکچھ سری لنکا میں ہوا اور دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کے نام پر ہو رہا ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے لیکن اس کا تعلق برقعہ سے جوڑنا بڑی شرمناک کوشش ہے۔ ایک مخصوص مذہب کو پہلے عقائد کی بنیاد پر اور اب نقاب کی بنیاد پر نشانہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔“

Published: 03 May 2019, 9:10 PM IST

مولانا آزاد یونیورسٹی جودھ پور کے وائس چانسلر پروفیسر اختر الواسع کا مزید کہنا تھا، ”جو عورتیں برقعہ میں ہوتی ہیں اور ہوائی اڈوں پر یا دیگر مقامات پر خواتین سکیورٹی اہلکار ان کی جانچ کرتی ہیں اس پر ہمیں کبھی کوئی اعتراض نہیں۔ دہشت گردی سے تحفظ حاصل کرنا سب کا حق ہے اس لیے ہم تحفظ کو یقینی بنانے کے بالکل خلاف نہیں ہیں۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ دہشت گردی کو پہلے اسلامی عقائد سے جوڑنے کی کوشش کی گئی اور جب اس میں ناکامی ہاتھ لگی تو اب لباس سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔''

Published: 03 May 2019, 9:10 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 03 May 2019, 9:10 PM IST