سماج

کیا ہے ابصار عالم پر حملے کی حقیقت؟

ابصار عالم پر حملے کے آٹھ میں سے چھ ملزمان زیر حراست ہیں۔ حملے کی ہدایات جرمنی سے دی گئی تھیں۔ بتایا گیا ہے کہ رقم کی ادائیگی لاہور اور راولپنڈی میں کی گئی۔ کیا حملے کے پس پردہ کوئی بڑی طاقت ہے۔

میں پولیس کی تفتیش سے مطمئن ہوں، ابصار عالم
میں پولیس کی تفتیش سے مطمئن ہوں، ابصار عالم 

پاکستان کے سینیئر صحافی اور سابق چیئرمین پیمرا ابصار عالم نے ڈی ڈبلیو کے نمائندے یونس خان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جو ملزمان گرفتار ہوئے ہیں، وہ اتفاقاﹰ گرفتار ہوئے تھے۔انہوں نے کہا کہ وہ پولیس کی تفتیش سے مطمئن ہیں۔

Published: undefined

پولیس نے بڑی محنت سے کام کیا

ابصار عالم نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ ملزمان سے حاصل کیے گئے موبائل نمبروں کا سائنسی بنیادوں پر تجزیہ کیا گیا۔ ان کے بقول پنجاب اور اسلام آباد پولیس نے بہت محنت سے اس کیس پر کام کیا، ''میں اب تک کے ان کے کام سے مطمئن ہوں اور ہماری نظریں اس وقت عدالت کی جانب ہیں کہ وہ کب اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچاتی ہے؟‘‘

Published: undefined

پس پردہ کوئی بڑی طاقت

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے کیس میں ٹوٹل آٹھ ملزمان تھے، جن میں سے چھ گرفتار ہوئے اور ان میں سے بھی چار افراد کی ضمانت ہو چکی ہے، ''دو مرکزی ملزمان ابھی تک زیر حراست ہیں لیکن عدلیہ میں جس تیزی سے ان کے ضمانتوں کے حوالے سے کام ہو رہا ہے اس سے لگتا ہے کہ پس پردہ کوئی بڑی طاقت ہے، جو ملزمان کو سپورٹ کر رہی ہے۔‘‘

Published: undefined

ابصار عالم کے بقول پولیس اس وقت تفتیش کر رہی ہے اور عدالتوں کو ان مجرمان کی ضمانتیں منظور کرنے کے حوالے سے اتنی تیزی نہیں دکھانا چاہیے تا کہ بہتر طریقے سے تفتیش ہو اور اصل ملزمان قانون کی گرفت میں آ سکیں، ''اب تک کی تفتیش منی ٹریل اور ٹیلی فون رابطوں سے سامنے آئی ہے اور زین کو احکامات پاکستان سے مل رہے تھے۔‘‘

Published: undefined

ملزمان جرمنی اور فرانس میں مقیم

پولیس تفتیش کے مطابق جرمنی میں زین اور فرانس میں ملزم شاہ نواز چٹھہ اس کیس کے مرکزی ملزمان ہیں۔ ابصار کے بقول ان دونوں نے اس حملے کے حوالے سے منصوبہ بندی کی اور وہ پاکستان سے ملنے والے احکامات پر عمل کر رہے تھے، ''جرمنی اور فرانس کی حکومتوں کو بھی اس حوالے سے سخت اقدامات کرنا چاہییں۔‘‘ انہوں نے سوال کیا کہ کیا فرانس اور جرمنی کی کوئی ذمہ داری نہیں کیوں کہ ان ممالک سے پاکستان میں صحافیوں پر حملے ہوتے ہیں اور مجرم وہاں سکون سے رہتے ہیں؟ تفتیش کے مطابق اس کام کی ذمہ داری 32 سالہ زین غیاث کو دی گئی تھی جو اس واقعے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ تھا۔ اس نے یہ کام 23 سالہ حماد سلیمان کو دے دیا۔ زین غیاث اپنے آبائی ضلع گجرات میں ایک اشہتاری ہے اور جرمنی جا چکا ہے۔

Published: undefined

ابصار عالم کا کہنا تھا کہ وہ ان ملزمان کو ذاتی طور پر نہیں جانتے لیکن یہ سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہو رہا ہے، ''میں کسی پر الزام نہیں لگاؤں گا کیوں کہ اب اس حوالے سے تفتیش ہو رہی ہے کہ ان افراد کے پیچھے کون سے لوگ یا گروپ ہیں۔ پاکستان پولیس اور تفتیشی اداروں کے لیے یہ کیس ایک چیلنج ہے اور ان خطوط پر تفتیش ہونا چاہیے کہ وہ کون سے گروہ ہیں، جو بین الاقوامی گروپ یا گینگ بناتے ہیں اور اس طرح کی کارروائیاں کرتے ہیں۔‘‘

Published: undefined

میرا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں، شاہ نواز چٹھہ

شاہ نواز چٹھہ سے فیس بک میسنجر کے ذریعے جب ڈی ڈبلیو نے رابطہ کیا، تو ان کا کہنا تھا کہ وہ پچھلے تین سال سے ملک سے باہر ہیں۔ ان کا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ان کا اپنے کزن حماد سے کوئی رابطہ ہے۔ ان کا کہنا تھا، ''میرے گھر پر پولیس آئی تھی، جن کو میں نے تفصیلی طور پر اپنے موقف سے آگاہ کر دیا ہے۔‘‘ شاہ نواز سے جب کہا گیا کہ وہ اپنا موقف ویڈیو کی صورت میں پیش کر سکتے ہیں اور جب ڈی ڈبلیو کے نمائندے نے ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی، تو انہوں نے انٹرویو دینے یا ملاقات کرنے دونوں سے معذرت کر لی۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنا موبائل نمبر دینے سے بھی انکار کر دیا۔

Published: undefined

مشتبہ ملزم شاہ نواز چٹھہ پاکستان کے شہر گوجرانوالہ کے علاقے علی پور چٹھہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس وقت وہ فرانس کے شہر پیرس میں موجود ہیں۔ شاہ نواز کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر سن 2020 میں ایران سے ترکی، بوسنیا، سلووینیا اور پھر یونان میں بھی رہے، جس کے بعد اٹلی آئے اور وہاں کچھ عرصہ قیام کیا۔ اٹلی میں انہوں نے پناہ کے لیے اپنی درخواست بھی جمع کرائی، جس پر کوئی فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا۔

Published: undefined

حملے کی وجوہات کیا ہو سکتی تھیں؟

حملے کے بعد سوشل میڈیا پر اس رائے کا اظہار کیا گیا تھا کہ وقوعے سے دو روز قبل ابصار عالم نے اپنی ایک ٹویٹ میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اس وقت کے سربراہ پر الزام عائد کیا تھا کہ 2017ء میں جب ابصار عالم پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یا پیمرا کے سربراہ تھے، تو ابصار عالم کے بقول آئی ایس آئی کی طرف سے مبینہ طور پر ان پر دباؤ ڈالا گیا تھا کہ وہ اس وقت برسراقتدار مسلم لیگ ن کی حکومت کے خلاف تحریک لبیک پاکستان کے مظاہروں کے حق میں میڈیا کوریج کو یقینی بنائیں۔ اس وقت جنرل فیضی آئی ایس آئی میں ایک اعلیٰ افسر تھے، جو بعد میں اس ادارے کے سربراہ بنے تھے۔ سینیئر صحافی ابصار عالم کا شمار پاکستان میں سابقہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ناقدین میں ہوتا ہے۔ ابصار عالم سوشل میڈیا پر خاصے فعال ہیں۔ ریاستی اداروں کی سیاست میں مبینہ مداخلت سے متعلق ٹویٹس پر پاکستان کی فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) انہیں تفتیش کے لیے طلب بھی کر چکی ہے۔

Published: undefined

فرانسیسی پولیس کا موقف

فرانسیسی پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے آف دی ریکارڈ بات چیت کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ اس واقعے سے آگاہ نہیں اور نہ ہی کسی دوسرے ملک یا شخص نے اس حوالے سے کوئی رپورٹ اب تک درج کروئی ہے، ''لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی بھی جرائم پیشہ فرد ہمارے معاشرے کے لیے قابل قبول نہیں۔ اس کیس کے حوالے سے ہم معلومات جمع کر رہے ہیں۔ اظہار رائے کی آزادی ہمارے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اگر اس کیس کے حوالے سے سرکاری سطح پر مدد مانگی گئی، تو ہم ضرور ایسا کریں گے۔‘‘

Published: undefined

حملے کی تفصیلات

ابصار عالم پر 20 اپریل 2021ء کے روز پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں اس وقت حملہ کیا گیا تھا، جب وہ ایف الیون پارک میں چہل قدمی کر رہے تھے۔ گولی لگنے کے بعد انہیں ایک پرائیویٹ گاڑی میں ہسپتال منتقل کیا گیا۔ گولی ان کی کمر میں لگی تھی جس کے بعد ایک نجی ہسپتال میں ان کا آپریشن بھی ہوا تھا۔ ابصار عالم پر نامعلوم افراد کی فائرنگ کے واقعے کا مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ شالیمار میں درج کیا گیا تھا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined