نئی دہلی عالمی کتاب میلہ 2026: مہمان ملک قطر سمیت 30 ممالک شریک، قارئین کے لیے پہلی بار مفت داخلہ
نئی دہلی عالمی کتاب میلہ 2026 کا افتتاح بھارت منڈپم، پرگتی میدان میں ہوا۔ 10 سے 18 جنوری تک جاری رہنے والے میلے میں پہلی بار مکمل مفت داخلہ ہے، 30 ممالک کی شرکت اور ہزاروں اسٹالز قائم ہیں

نئی دہلی: کتابوں سے محبت رکھنے والوں کے لیے نئی دہلی سے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے، جہاں عالمی کتاب میلہ 2026 کا افتتاح بھارت منڈپم، پرگتی میدان میں مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے ہاتھوں ہوا۔ اس سال کے میلے کی سب سے نمایاں اور خوش آئند بات یہ ہے کہ پہلی مرتبہ عام قارئین کے لیے داخلہ مکمل طور پر مفت رکھا گیا ہے، جس سے کتابوں تک رسائی کو مزید عوامی اور جامع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ میلہ 10 جنوری سے 18 جنوری 2026 تک جاری رہے گا اور روزانہ صبح 11 بجے سے شام 8 بجے تک کھلا رہے گا۔
نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا اور فیڈریشن آف انڈین پبلشرز کے اشتراک سے منعقد ہونے والا یہ میلہ اپنے حجم، شرکت اور سرگرمیوں کے اعتبار سے اب تک کا سب سے بڑا عالمی کتاب میلہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس برس میلے میں تقریباً 30 ممالک شریک ہیں، جن میں قطر مہمان ملک کی حیثیت رکھتا ہے، جبکہ اسپین کو فوکس کنٹری کے طور پر منتخب کیا گیا ہے، جہاں اس کے ادبی اور ثقافتی ورثے کی خصوصی نمائش کی جا رہی ہے۔ بین الاقوامی شرکت نے اس میلے کو محض ایک تجارتی یا ادبی اجتماع کے بجائے عالمی ثقافتی مکالمے کا پلیٹ فارم بنا دیا ہے۔
میلے میں تقریباً 3,000 اسٹالز قائم کیے گئے ہیں اور ایک ہزار سے زائد پبلشرز اپنی کتابیں پیش کر رہے ہیں۔ ہندی اور انگریزی کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی کتابوں کی ایک وسیع رینج دستیاب ہے، جو ملک کے لسانی تنوع اور مطالعے کی مضبوط روایت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس سال کتاب میلے کی تھیم ’ہندوستانی فوجی تاریخ: شجاعت اور حکمت @75‘ رکھی گئی ہے، جس کے تحت آزادی کی جدوجہد، عسکری تاریخ اور قومی ورثے سے متعلق متعدد کتابیں اور مباحث شامل ہیں۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے کہا کہ یہ میلہ صرف کتابوں کی خرید و فروخت کا موقع نہیں بلکہ خیالات کے تبادلے، مکالمے کے فروغ اور تخلیقی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک زندہ پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ دہائیوں سے زائد عرصے سے مسلسل منعقد ہونے والا نئی دہلی عالمی کتاب میلہ عالمی اشاعتی دنیا میں ایک باوقار اور قابل اعتماد شناخت بن چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ میلہ قارئین، مصنفین اور پبلشرز کو ایک مشترکہ فکری دائرے میں جوڑتا ہے۔
دھرمیندر پردھان نے کہا کہ علم سے زیادہ مقدس اس دنیا میں کچھ نہیں، اور کتابیں نسلوں کو آپس میں جوڑنے، تہذیبوں کی یادداشت محفوظ رکھنے اور معاشروں کو نئی سمت دینے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پڑھنے کی ثقافت کا فروغ کسی بھی باشعور معاشرے کی بنیاد ہوتا ہے، اور نئی دہلی عالمی کتاب میلہ ہندوستان میں اس ثقافت کا سب سے بڑا عوامی جشن ہے۔
وزیر تعلیم کے مطابق اس سال کے میلے میں 20 لاکھ سے زیادہ قارئین کی آمد متوقع ہے، جبکہ 50 سے زائد ممالک کے نمائندے، 600 سے زیادہ ادبی و تعلیمی پروگرام اور ہزاروں اسٹالز اس تقریب کو عالمی سطح پر ایک مضبوط اشاعتی اور کاروباری مرکز بناتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان آج دنیا کی تیسری سب سے بڑی اشاعتی اور کتابی منڈی بن چکا ہے، جو ملک کی علمی روایت، لسانی تنوع اور عالمی مطابقت کا ثبوت ہے۔
واضح رہے کہ عالمی کتاب میلہ 2026 ہال نمبر 2 اور 6 میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں داخلہ گیٹ نمبر 4 اور 10 کے ذریعے ممکن ہے۔ قارئین سپریم کورٹ میٹرو اسٹیشن پر اتر کر آسانی سے میلے تک پہنچ سکتے ہیں، جبکہ گیٹ نمبر 10 تک مفت شٹل بس کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ کسی ہنگامی طبی ضرورت کے پیش نظر ہال نمبر 5 کے سامنے ایک ڈسپنسری بھی قائم کی گئی ہے، تاکہ زائرین بلا جھجک اس علمی جشن سے لطف اندوز ہو سکیں۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔