مدھیہ پردیش میں پینے کے پانی کا ہر تیسرا گلاس آلودہ: جیتو پٹواری
جیتو پٹواری نے الزام لگایا کہ ہزاروں کروڑ خرچ ہونے کے باوجود مدھیہ پردیش میں پینے کے پانی کا ہر تیسرا گلاس آلودہ ہے، اسپتالوں اور اسکولوں میں بھی زیادہ تر پانی غیر محفوظ پایا گیا

بھوپال: مدھیہ پردیش کے اندور میں آلودہ پانی سے پیش آئے حالیہ واقعے کے تناظر میں کانگریس کے ریاستی صدر جیتو پٹواری نے ریاست کی آبی سپلائی اور حکومت کی کارکردگی پر سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہزاروں کروڑ روپے خرچ ہونے کے باوجود مدھیہ پردیش میں پینے کے پانی کا ہر تیسرا گلاس آلودہ ہے، جو عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔
جیتو پٹواری نے کہا کہ ریاست میں جل جیون مشن کے تحت بھاری بھرکم بجٹ رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق مدھیہ پردیش حکومت نے اس منصوبے کے لیے تقریباً 19949 کروڑ روپے مختص کیے، جبکہ گزشتہ 5 برسوں کے دوران مرکزی حکومت نے بھی 26952 کروڑ روپے ریاست کو فراہم کیے۔ اس کے علاوہ صاف پانی کی فراہمی اور ڈرینیج لائنوں کی بہتری کے نام پر ریاستی حکومت نے بینکوں سے چار سے 5 ہزار کروڑ روپے کا قرض بھی لیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنی بڑی مالی سرمایہ کاری کے باوجود اگر عوام کو محفوظ پینے کا پانی دستیاب نہیں ہو پا رہا تو یہ محض انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ پوری حکومتی مشینری کی ناکامی ہے۔ جیتو پٹواری کے مطابق ریاست بھر میں پانی کے نمونوں کی جانچ کے دوران 34 اعشاریہ 7 فیصد نمونے معیار پر پورا نہیں اترے۔ ان نمونوں میں بیکٹیریا اور کیمیائی زہریلے عناصر کی موجودگی پائی گئی، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صورت حال اس وقت مزید تشویشناک ہو جاتی ہے جب سرکاری اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے اعداد و شمار سامنے آتے ہیں۔ ان کے بقول سرکاری اسپتالوں میں صرف بارہ فیصد پانی پینے کے قابل پایا گیا، جبکہ اسکولوں میں یہ شرح محض چھبیس اعشاریہ سات فیصد ہے۔ یعنی وہ مقامات جہاں مریضوں کا علاج ہونا چاہیے اور جہاں بچوں کا مستقبل سنوارا جانا چاہیے، وہاں بھی آلودہ پانی استعمال ہو رہا ہے۔
جیتو پٹواری نے الزام لگایا کہ یہ معاملہ صرف تکنیکی خرابی کا نہیں بلکہ کروڑوں شہریوں کی جان کے ساتھ براہ راست کھیلنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ محض اعلانات اور بجٹ کے اعداد و شمار پیش کرنے کے بجائے زمینی سطح پر مؤثر اقدامات کرے، تاکہ عوام کو واقعی صاف اور محفوظ پینے کا پانی میسر آ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر فوری اصلاحات نہ کی گئیں تو آنے والے وقت میں صحت کا بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔