
دسترخوان رمضان / گرافکس قومی آواز
رمضان المبارک میں افطار کے وقت اگر دسترخوان پر پرانی دہلی کی جھلک آ جائے تو ذائقہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ دہی بھلا پاپڑی چاٹ دہلی کی معروف گلیوں کی پہچان ہے، جہاں کھٹا، میٹھا اور نمکین ذائقہ ایک ساتھ مل کر منفرد امتزاج پیدا کرتا ہے۔ یہ ڈش نرم بھلوں اور خستہ پاپڑی کے ملاپ سے تیار ہوتی ہے، جس میں دہی اور چٹنیوں کی تہہ اسے مزید دلکش بنا دیتی ہے۔
افطار میں اس چاٹ کو پیش کرنے کا فائدہ یہ ہے کہ یہ مکمل تلی ہوئی نہیں ہوتی بلکہ دہی کی موجودگی اسے نسبتاً متوازن بنا دیتی ہے۔ مناسب مقدار میں لی جائے تو یہ نہ زیادہ بھاری محسوس ہوتی ہے اور نہ ہی طبیعت پر بوجھ ڈالتی ہے۔
Published: undefined
ماش کی دال ایک کپ (رات بھر بھگوئی ہوئی)
نمک آدھا چائے کا چمچ
بیکنگ سوڈا ایک چٹکی
تیل تلنے کے لیے
دہی دو کپ (اچھی طرح پھینٹا ہوا)
چینی دو چائے کے چمچ
نمک حسبِ ذائقہ
چاٹ مصالحہ ایک چائے کا چمچ
بھنا ہوا زیرہ پاؤڈر ایک چائے کا چمچ
لال مرچ پاؤڈر آدھا چائے کا چمچ
پاپڑی ایک کپ
اِملی کی میٹھی چٹنی چار کھانے کے چمچ
ہری چٹنی دو کھانے کے چمچ
باریک کٹی پیاز دو کھانے کے چمچ
باریک کٹا ہرا دھنیا دو کھانے کے چمچ
باریک سیو آدھا کپ
انار کے دانے آدھا کپ
Published: undefined
سب سے پہلے بھگوئی ہوئی ماش کی دال کو اچھی طرح پیس لیں۔ اس میں نمک اور بیکنگ سوڈا شامل کر کے آمیزہ پھینٹ لیں تاکہ ہلکا اور پھولا ہوا ہو جائے۔ ایک کڑاہی میں تیل گرم کریں اور چھوٹے چھوٹے بھلے ڈال کر سنہری ہونے تک تل لیں۔
تمام بھلے تیار ہو جائیں تو انہیں نیم گرم پانی میں پانچ سے سات منٹ کے لیے بھگو دیں، پھر ہلکے ہاتھ سے نچوڑ کر الگ رکھ دیں۔
اب دہی کو اچھی طرح پھینٹ کر اس میں نمک، چینی، چاٹ مصالحہ، بھنا زیرہ اور لال مرچ شامل کریں۔ دہی ہموار اور قدرے گاڑھی ہونی چاہیے۔
Published: undefined
پیش کرنے کے لیے ایک بڑی پلیٹ میں پہلے خستہ پاپڑی بچھا دیں۔ اس کے اوپر بھلے رکھیں اور اچھی مقدار میں مصالحے والی دہی ڈالیں تاکہ بھلے اچھی طرح ڈھک جائیں۔ اب املی کی میٹھی چٹنی اور ہری چٹنی ڈالیں۔ اوپر سے باریک کٹی پیاز، ہرا دھنیا، سیو اور انار کے دانے چھڑک دیں۔
یہ دہی بھلا پاپڑی چاٹ افطار کے دسترخوان پر نہ صرف رنگ بکھیرتی ہے بلکہ ہر نوالے میں مختلف ذائقوں کا لطف بھی دیتی ہے۔ پرانی دہلی کی یہ روایت رمضان کی شام کو مزید خوشگوار بنا دیتی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined