لبنان میں اسرائیل نے بنائی غزہ جیسی سرحد، جانیں کیا ہے ’یلو لائن‘؟

لبنان کے افسران کے مطابق 2 مارچ سے شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک تقریباً 2300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور خاص طور پر جنوبی شہروں جیسے نبطیہ میں بھاری نقصان ہوا ہے۔

نیتن یاہو، تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

اسرائیل نے جنوبی لبنان میں ’یلو لائن‘ (پیلی لکیر) کے نام سے ایک نئی سرحد قائم کر دی ہے۔ یہ سرحد غزہ میں پہلے سے نافذ فوجی نظام جیسی ہی ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب چند روز قبل ہی اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی ہوئی ہے۔ یہ جنگ بندی کئی ہفتوں سے جاری لڑائی کو روکنے کے لیے کی گئی تھی، جو اسرائیل اور ایران کی حمایت یافتہ ’حزب اللہ‘ کے درمیان جاری تھی۔ اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے ہفتے کے روز پہلی بار ’یلو لائن‘ کے بارے میں بتایا۔ فوج کے مطابق یہ ایک ایسی لکیر ہے جو ان کے کنٹرول والے علاقے اور دوسرے علاقوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں اس لائن کے دوسری طرف سے کچھ لوگ ان کی جانب آئے، جنہیں اس نے دہشت گرد قرار دیا ہے۔ فوج کا کہنا ہے کہ ان لوگوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور ان کے فوجیوں کے لیے خطرہ بنے۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے فوری کارروائی کی اور کئی مقامات پر حملے کیے۔ فوج نے یہ بھی کہا کہ اپنے دفاع میں کی گئی ایسی کارروائی جنگ بندی کے اصولوں کے خلاف نہیں سمجھی جاتی۔


واضح رہے کہ ’یلو لائن‘ زمین پر بنائی گئی ایک فوجی سرحد ہے، جو 2 علاقوں کو ایک دوسرے سے الگ کرتی ہے۔ اسرائیل نے جنوبی لبنان میں یہ لائن بنا کر یہ طے کیا ہے کہ اس کی فوج کہاں تک رہے گی اور اس سے آگے کا علاقہ خطرے والا تصور کیا جائے گا۔ اسی طرح کی یلو لائن 10 اکتوبر سے غزہ میں بھی نافذ ہے۔ وہاں اس لکیر نے غزہ کو 2 حصوں میں تقسیم کر دیا ہے، ایک حصہ اسرائیل کے کنٹرول میں ہے اور دوسرا حماس کے پاس۔ اب لبنان میں بھی اسرائیل اسی طریقے کو استعمال کر رہا ہے، تاکہ وہ اپنے فوجیوں کی حفاظت اور سرگرمیوں کو کنٹرول کر سکے۔

’یلو لائن‘ کا معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمعرات (16 اپریل) سے 10 روزہ جنگ بندی نافذ ہے۔ یہ جنگ بندی 6 ہفتوں کی شدید لڑائی کے بعد عمل میں آئی، جس دوران اسرائیل نے لبنان میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے اور جنوبی حصوں میں زمینی کارروائی بھی کی۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے بعد اپنے حملے روک دیے ہیں، لیکن اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو وہ جواب دینے کے لیے تیار ہے۔


لبنان کے صدر جوزف عون نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات ضروری ہے تاکہ جنگ بندی کو استحکام ملے، اسرائیلی فوج پیچھے ہٹے، قیدیوں کی رہائی ہو اور سرحد سے متعلق تنازعات ختم کیے جا سکیں۔ حالانکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے صاف کہا کہ حزب اللہ کے خلاف کارروائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور اسے مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش جاری رہے گی۔ لبنان کے افسران کے مطابق 2 مارچ سے شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک تقریباً 2300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور خاص طور پر جنوبی شہروں جیسے نبطیہ میں بھاری نقصان ہوا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔