گروگرام میں محکمہ ڈرگ کنٹرول کی بڑی کارروائی، 70 لاکھ روپے کے جعلی انجیکشن اور ادویات ضبط
گروگرام میں بڑی کارروائی کے بعد محکمہ ڈرگ کنٹرول کے امن دیپ چوہان نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف لائسنس یافتہ کیمسٹوں سے بل کے ساتھ دوائیں خریدیں اور انجیکشن کا بیچ نمبر اور پیکیجنگ ضرور چیک کریں۔

قومی راجدھانی دہلی سے ملحق ہریانہ کے سائبر سٹی گروگرام میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ ڈرگ کنٹرول نے 70 لاکھ روپے کی جعلی ادویات کا ذخیرہ ضبط کیا ہے جس میں مونزارو انجیکشن بھی شامل ہے۔ یہ دوائیں اٹلی سے درآمد کی گئی تھیں اور دہلی میں سپلائی کی جانی تھیں۔ بتادیں کہ ہندوستان میں مونزارو انجیکشن پر پابندی ہے۔ یہ انجیکشن ذیابیطس اور وزن کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اطلاع کے مطابق بھاری منافع کمانے کے لیے ان جعلی ادویات کو دہلی میں سپلائی کئے جانے کا منصوبہ تھا۔ گروگرام کے محکمہ ڈرگ کنٹرول کو اس کی پہلے سے خبرمل گئی جس کے بعد فوری طور پرایک ٹیم تشکیل کرکے بتائی گئی جگہ پر چھاپہ مارا گیا جہاں جعلی ادویات کا ذخیرہ، گاڑی اوراس کے ڈرائیور کو قبضے میں لے لیا گیا۔ پولیس اور محکمہ ڈرگ کنٹرول اس پورے معاملے کی تحقیقات میں مصروف ہیں۔
محکمہ ڈرگ کنٹرول کے امن دیپ چوہان نے بتایا کہ مونزارو انجکشن اصل میں ایک اطالوی کمپنی کے ذریعہ بنایا جاتا ہے اوراسے ذیابیطس کے مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے لیکن ہندوستان میں اس کا غلط استعمال وزن کم کرنے کے لیے بھی کیا جا رہا ہے۔ فی الحال محکمہ جعلی انجیکشن کی اس بڑی کھیپ کے ذرائع اور اس میں ملوث لوگوں کی تلاش کررہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سپلائی چین کا پتہ لگانے کے بعد پورے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
محکمہ نے ضبط شدہ انجیکشن کے نمونے جانچ کے لیے لیبارٹری بھیجے ہیں۔ رپورٹ ملنے پر جعلی ادویات سپلائی کرنے والوں اور خریداروں کے خلاف ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ کے تحت معاملہ درج کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں محکمہ ڈرگ کنٹرول کے امن دیپ چوہان نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف لائسنس یافتہ کیمسٹوں سے بل کے ساتھ دوائیں خریدیں اور انجیکشن کا بیچ نمبر اور پیکیجنگ ضرور چیک کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی ہریانہ میں جعلی ادویات کے حوالے سے زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کی جا رہی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔