سرکاری ادویات کے غیر قانونی ریکیٹ کا پردہ فاش، دہلی پولیس نے 70 لاکھ روپے کا اسٹاک ضبط کر لیا، 5 افراد گرفتار

ایک افسر نے بتایا کہ ’’برآمد کی گئی تمام ادویات اور گاڑیاں کیس کی پراپرٹی کے طور پر ضبط کر لی گئی ہیں اور قانون کے مطابق کرائم برانچ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دہلی پولیس نے سرکاری اسپتالوں میں مفت تقسیم کے لیے رکھی گئی سرکاری ادویات کی ہیرا پھیری اور فروخت میں شامل ایک منظم گروہ کا پردہ فاش کیا ہے۔ کرائم برانچ نے اس معاملے میں 5 لوگوں کو گرفتار کیا اور تقریباً 70 لاکھ روپے کی ادویات اور نقل و حمل میں استعمال ہونے والی 2 گاڑیاں برآمد کیں۔ پولیس کے مطابق یہ آپریشن کرائم برانچ کی این آر-2 ٹیم کے ذریعہ اے سی پی گریش کوشک کی نگرانی میں اور انسپکٹر نیرج شرما کی قیادت میں سب انسپکٹر پریم چند کے ذریعہ جمع کردہ مخصوص معلومات کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔

ملزمان کی شناخت نیرج کمار (53) اور سشیل کمار (47) سہارن پور، اتر پردیش، اور لکشمن مکھیا (48)، دہلی کے طور پر ہوئی ہے۔ انہیں 2 اپریل کو تیس ہزاری کے راجندر بازار کے قریب مہندرا چمپئن ٹیمپو اور بلینو کار میں ادویات کی ایک بڑی کھیپ لے جاتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ ضبط کی گئی ادویات پر واضح طور پر ’حکومت کی سپلائی، فروخت کے لیے نہیں‘ درج تھا، جو کھلے بازار میں ان کی غیر قانونی اسمگلنگ کی نشاندہی کرتا ہے۔


مسلسل پوچھ تاچھ کے دوران نیرج کمار نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک سے ڈیڑھ سال سے ادویات کی فراہمی کا غیر قانونی نیٹورک چلا رہا تھا۔ وہ اسپتال کے اندرونی ذرائع کے ذریعے دوائیں حاصل کرتا تھا اور دلالوں کے ذریعے انہیں مختلف شہروں میں تقسیم کرتا تھا۔ اس کے انکشاف کی بنیاد پر مزید 2 ملزمان دین دیال اپادھیائے اسپتال کے فارماسسٹ اور اسٹور کیپر بنیش کمار (54) اور اسی اسپتال کے کنٹریکٹ اسسٹنٹ پرکاش مہتو (30) کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

برآمد کیے گئے اسٹاک میں بڑی مقدار میں مہنگی اینٹی بائیوٹکس اور کریٹیکل کیئر کی ادویات شامل تھیں، جیسے کہ سیفکسائم، کلیوولنیٹ کے ساتھ ایموکسیسلن، سیف ٹرائیکسون، سیفٹازی ڈائم، میروپینیم، ایریتھروپائٹین انجکشن اور ریبیز اینٹی سیرم، ساتھ ہی دیگر ضروری ادویات بھی شامل تھیں۔ ایک افسر نے بتایا کہ ’’برآمد کی گئی تمام ادویات اور گاڑیاں معاملے کی پراپرٹی کے طور پر ضبط کر لی گئی ہیں اور قانون کے مطابق کرائم برانچ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔‘‘


پولیس نے بتایا کہ اس ریکیٹ میں اسپتال کے ملازمین، ٹرانسپورٹرز اور ڈسٹری بیوٹرز پر مشتمل ایک منظم سپلائی چین شامل تھی، جس کے ذریعے سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو مفت تقسیم کی جانے والی ادویات کو ڈائیورٹ کیا جا رہا تھا۔ دیگر ساتھیوں کی شناخت کرنے، مالی لین دین کا پتہ لگانے اور اس نیٹورک کے مکمل طریقہ واردات کو بے نقاب کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔