’پی ایم مودی کا قوم کے نام خطاب ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی‘، سی پی آئی لیڈر نے الیکشن کمیشن کو خط لکھ کر درج کرائی شکایت

وزیراعظم نریندرمودی نے 18 اپریل کو قوم کے نام 30 منٹ کا خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں خواتین کے ریزرویشن سے متعلق موضوع پر بات کی اور اس کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں کو خواتین مخالف قرار دیا۔

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعظم نریندر مودی / ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

سی پی آئی راجیہ سبھا رکن سندوش کمار نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ایک خط لکھا ہے۔ اس خط میں انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے قوم کے نام اپنے حالیہ خطاب کے ذریعے ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ (ایم سی سی) کی خلاف ورزی کی ہے۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے اس معاملے میں فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ 19 اپریل کو لکھے گئے خط میں رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ وزیر اعظم کا یہ خطاب اس وقت سامنے آیا جب 5 ریاستوں میں انتخابی ضابطہ اخلاق نافذ ہے۔ یہ خطاب سیاسی نوعیت کا تھا، جس میں جانبدارانہ باتیں اور ’منتخب حقائق‘ شامل تھے۔ ان کا مقصد ایک ایسے مسئلے پر عوامی رائے کو متاثر کرنا تھا جس پر اس وقت زوردار سیاسی بحث جاری ہے۔

سی پی آئی لیڈر نے وزیر اعظم کے خطاب کو دوردرشن اور سنسد ٹی وی جیسے سرکاری پلیٹ فارمز پر نشر کیے جانے پر بھی اعتراض کیا۔ انہوں نے دلیل دی کہ عوامی پیسے سے چلنے والے نشریاتی اداروں کا استعمال کسی سیاسی تقریر کو نشر کرنے کے لیے کرنا، ضابطہ اخلاق کے نفاذ کے دوران سرکاری وسائل کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات اس یکساں مواقع کو متاثر کرتے ہیں، جسے انتخاب کے دوران الیکشن کمیشن سے برقرار رکھنے کی توقع کی جاتی ہے۔


خط میں اپوزیشن لیڈر نے الیکشن کمیشن سے گزارش کی کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیں، تحقیقات شروع کریں اور جوابدہی کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے انتباہ کیا کہ اگر اس پر کوئی کارروائی نہ کی گئی تو اس سے کمیشن کی غیر جانبداری پر سوالات اٹھ سکتے ہیں اور انتخابی عمل پر عوام کا بھروسہ کمزور ہو سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے فی الحال ان الزامات پر کوئی ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ وزیراعظم نریندرمودی نے 18 اپریل کو قوم کے نام 30 منٹ کا خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں خواتین کے ریزرویشن سے متعلق موضوع پر بات کی اور اس کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں کو خواتین مخالف قرار دیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔