سیاسی

جھارکھنڈ کے بی جے پی وزیر کی دیدہ دلیری قابل مذمت ہے... سہیل انجم

سی پی سنگھ نے جے شری رام کا نعرہ لگوانے کے چکر میں وہ سب کہہ دیا جو عام طور پر مسلمانوں کو چڑانے کے لیے ہندو کہتے ہیں۔ یعنی کہ تم رام ہی کے ونشج ہو، انھیں کا خون ہو، انھیں کی اولاد ہو۔ وہی پوروج ہیں۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

اگر کوئی وزیر بھرے مجمع میں اور میڈیا کے کیمروں کے سامنے ایک ممبر اسمبلی سے زبردستی جے شری رام کا نعرہ لگوانے کی کوشش کرے تو اسے آپ کیا کہیں گے۔ یہی نا کہ مذہبی منافرت کا رنگ اب نہ صرف نام نہاد گئو رکشکوں اور خود ساختہ رام بھکتوں پر چڑھ گیا ہے بلکہ اب اس سے وزرا بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ان کا بھی ذہن خراب ہونے لگا ہے۔ جے شری رام کے نعرے کو جس طرح سیاسی رنگ میں بدلنے کے بعد نفرت انگیز رخ دے دیا گیا ہے وہ بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

Published: 28 Jul 2019, 9:10 PM IST

یہ واقعہ ہے جھارکھنڈ کا جہاں ایک وزیر سی پی سنگھ نے کانگریس کے رکن اسمبلی عرفان انصاری سے زبردستی جے شری رام کا نعرہ لگوانے کی کوشش کی۔ عرفان انصاری کانگریس کے سابق ممبر آف پارلیمنٹ فرقان انصاری کے بیٹے ہیں۔ یہ معاملہ ہنسی مذاق میں شروع ہوا اور پھر اس نے نفرت انگیز رخ اختیار کر لیا۔ یہ لوگ اسمبلی ہاؤس کے باہر میڈیا والوں کے درمیان گھرے تھے کہ سی پی سنگھ نے عرفان انصاری سے کہا کہ ’’ایک بار زور سے جے شری رام بولیے۔ جے شری رام بولیے‘‘۔

Published: 28 Jul 2019, 9:10 PM IST

اس پر عرفان انصاری نے اپنا ایک ہاتھ اٹھا کر اپنا بازو دکھایا۔ انھوں نے بازو کیوں دکھایا؟ اس لیے کہ انھوں نے اپنی کلائی پر دھاگے باندھ رکھے تھے جنھیں ’’کلیوا‘‘ یا ’’مَولی‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دھاگہ عام طور پر بلاؤں سے نجات پانے کے لیے ہندو اپنی کلائی پر باندھتے ہیں۔ گویا عرفان نے یہ جتانے کی کوشش کی کہ ان کو اپنے سے الگ مت سمجھو۔ انھوں نے بھی وہ پوتر دھاگہ باندھ رکھا ہے جس کی ہندووں میں بڑی مانیتا ہے۔ خیر ہم ان کے اس عمل پر کچھ نہیں کہنا چاہتے کہ انھوں نے دھاگہ کیوں باندھ رکھا ہے، یہ ان کا ذاتی فعل ہے اور اس کا جواب وہی دے سکتے ہیں۔

Published: 28 Jul 2019, 9:10 PM IST

لیکن سی پی سنگھ نے جے شری رام کا نعرہ لگوانے کے چکر میں وہ سب کہہ دیا جو عام طور پر مسلمانوں کو چڑانے کے لیے ہندو کہتے ہیں۔ یعنی یہ کہ تم رام ہی کے ونشج ہو، انھیں کا خون ہو، انھی کی اولاد ہو۔ وہی تمھارے پوروج یعنی اسلاف ہیں۔ یہاں تک تو بات ٹھیک تھی۔ لیکن بولتے بولتے وہ یہ بھی بول گئے کہ تم لوگ بابر، تیمور لنگ، غزنی اور غوری کی اولاد نہیں ہو۔

Published: 28 Jul 2019, 9:10 PM IST

اس پر عرفان انصاری نے بڑے صبر و ضبط سے کام لیا۔ انھوں نے اس کا کوئی جواب دینے کے بجائے کہا کہ رام کا نام بدنام مت کیجیے۔ لوگوں کو نوکری چاہیے۔ سڑکیں چاہئیں۔ بجلی چاہیے۔ وہ نالیوں کی صفائی چاہتے ہیں۔ رام سب کے ہیں ان کو بدنام مت کرو۔ جاکر ایودھیا میں دیکھو کہ رام کس حالت میں پڑے ہیں۔

Published: 28 Jul 2019, 9:10 PM IST

اچھا ہوا کہ عرفان انصاری نے ترکی بہ ترکی جواب دینے کے بجائے ایشوز پر بات کی اور عوامی مسائل کو اٹھایا جس پر ان کی تعریف ہو رہی ہے۔ لیکن بی جے پی والوں کو عوامی مسائل سے دلچسپی کیوں ہو سکتی ہے۔ جب الیکشن جیتنے کے لیے رام کا نام موجود ہے۔ لہٰذا سی پی سنگھ نے عرفان کے کسی بھی سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ ان کے پاس جواب تھا ہی نہیں جو وہ دیتے۔ بی جے پی کے لوگوں نے جس طرح جذباتی ماحول بنا کر مسلمانوں کے خلاف لوگوں کے دلوں میں زہر بھرا ہے وہ ان کی کامیابی کے لیے کافی ہے۔

Published: 28 Jul 2019, 9:10 PM IST

جہاں تک بابر کی اولاد نہ ہونے کی بات ہے تو بھائی مسلمان کہاں کہتے ہیں کہ وہ بابر تیمور غزنی یا غوری کی اولاد ہیں۔ یہ تو پہلے وشو ہندو پریشد والوں نے کہنا شروع کیا کہ مسلمان بابر کی اولاد ہیں اور پھر بی جے پی اور پھر دوسرے ہندووں نے بھی یہی کہنا شروع کر دیا۔ جبکہ یہاں کے مسلمان خود کو نہ تو بابر کی اولاد کہلوانے کا شوق رکھتے ہیں اور نہ ہی غزنی و غوری کی۔ وہ تو مسلمان ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے آبا و اجداد نے مشرف بہ اسلام ہو کر دنیا کا بہترین دین اپنا لیا۔

Published: 28 Jul 2019, 9:10 PM IST

ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ سارے مسلمانوں کے اسلاف ہندو نہ رہے ہوں۔ کیونکہ ہندوستان میں عرب سے جو مسلمان آئے ان کی بھی تو اولادیں اسی ملک میں ہیں۔ لہٰذا ہر مسلمان کو یہ کہنا کہ اس کے آبا و اجداد ہندو تھے مناسب نہیں ہے۔ اور پھر جہاں تک رام کی بات ہے تو مسلمان انھیں احترام کی نظروں سے دیکھتے ہیں اور ان کا یہ عقیدہ ہے کہ دنیا میں جو سوا لاکھ انبیا آئے ہیں ممکن ہے کہ رام اور کرشن بھی انھیں میں سے ہوں۔

Published: 28 Jul 2019, 9:10 PM IST

لیکن آر ایس ایس، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل، شیو سینا اور بی جے پی کے لوگوں نے اتنی بار یہ بات دوہرائی ہے کہ مسلمانوں کے پوروج بابر نہیں رام چندر ہیں کہ لوگ اسے درست ماننے لگے ہیں۔ اور پھر اگر بفرض محال اسے تسلیم بھی کر لیا جائے تو کیا یہ ضروری ہے کہ مسلمان ان بزرگوں کے نام کا نعرہ لگائیں۔ اگر ایسا ہی کرنا ہوتا تو فتح مکہ کے بعد بتوں سے خانہ کعبہ کو خالی نہیں کرایا جاتا۔ مسلمان اپنے مشرک اسلاف کے ناموں کے بھی نعرے لگاتے، اپنے گھروں میں ان کی یادگاریں رکھتے۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔

Published: 28 Jul 2019, 9:10 PM IST

جب کوئی شخص اسلام میں داخل ہوتا ہے تو اس کا رشتہ سابقہ مذہب سے پوری طرح منقطع ہو جاتا ہے۔ اس کو پورے کا پورا اسلام میں داخل ہونا ہوتا ہے۔ ہاں یہ بات الگ ہے کہ مسلمانوں سے دوسرے مذاہب کے احترام کے لیے بھی کہا گیا ہے اور یہ ہدایت دی گئی ہے کہ تم دوسرے مذاہب کے خداؤں کو برا مت کہو۔ اور مسلمان دوسرے مذاہب کے خداؤں اور اوتاروں کو برا بھلا کہتے بھی نہیں ہیں۔

Published: 28 Jul 2019, 9:10 PM IST

اسلام میں اس کی اجازت ہی نہیں ہے۔ اس کے باوجود ایسا تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ جیسے مسلمان ہندو مذہب کے رہنماؤں کی توہین کرتے ہیں، انھیں روز اور صبح و شام گالیاں دیتے ہیں اور اس کا ازالہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب وہ جے شری رام کا نعرہ لگائیں۔

Published: 28 Jul 2019, 9:10 PM IST

آج جس طرح جے شری رام کا نعرہ لگانے پر لوگوں کو مجبور کیا جا رہا ہے اس سے بہت سے ہندو بھی خوش نہیں ہیں۔ وہ اس رویے کے مخالف ہیں اور اس پر قدغن لگانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں 49 سرکردہ شخصیات نے وزیر اعظم کے نام ایک مکتوب میں جے شری رام کو سیاسی نعرہ لگانے اور اسے جنگی للکار میں بدلنے کی روش پر قابو پانے کی اپیل کی ہے۔ لیکن ان کی یہ اپیل کچھ لوگوں سے ہضم نہیں ہوئی اور اس کے جواب میں 60 سے زائد شخصیات نے بھی ایک خط جاری کر دیا۔

Published: 28 Jul 2019, 9:10 PM IST

یہ بات قارئین کو یاد ہوگی کہ جب کانگریس کے سینئر رہنما غلام نبی آزاد نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے جھارکھنڈ کو موب لنچنگ کا اڈہ بتایا تھا تو وزیر اعظم مودی کو بہت برا لگا تھا۔ لیکن وہ اسے کیا کہیں گے کہ جھارکھنڈ میں یہ زہر اس قدر پھیل گیا ہے کہ اب ایک وزیر ایک ممبر اسمبلی سے جے شری رام کا نعرہ لگانے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ وہی ریاست ہے جہاں موب لنچنگ کے بے شمار واقعات ہو چکے ہیں اور اسی ریاست سے تعلق رکھنے والے ایک مرکزی وزیر نے موب لنچنگ میں سزا یافتہ مجرموں کو ہار پہنا کر ان کا استقبال کیا تھا۔

Published: 28 Jul 2019, 9:10 PM IST

اگر یہ سلسلہ نہیں رکا تو حالات زیادہ خراب ہو جائیں گے۔ ابھی تو منسٹر صاحب نے ہنسی مذاق میں جے شری رام کا نعرہ لگوانے کی کوشش کی تھی۔ اگر یہی حالات رہے تو وہ نام نہاد رام بھکتوں کی مانند نعرہ نہ لگانے پر کچھ بھی کر سکتے ہیں۔

Published: 28 Jul 2019, 9:10 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 28 Jul 2019, 9:10 PM IST