قابل اعتراض ویڈیو: ہیمنت بسوا سرما کے خلاف سپریم کورٹ پہنچی سی پی آئی ایم، کارروائی کا مطالبہ

آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی انتہائی قابل اعتراض ویڈیو پر سی پی آئی ایم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ عدالت نے معاملہ سماعت کے لیے فہرست بند کرنے کا عندیہ دیا ہے

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

نئی دہلی: آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما کی اس انتہائی قابل اعتراض ویڈیو کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا ہے، جس میں وہ بندوق کے ذریعے داڑھی ٹوپی لگائے افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) یعنی سی پی آئی ایم نے ہیمنت بسوا کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ سے رجوع کیا ہے۔

سینئر وکیل نظام پاشا نے اس معاملے کا ذکر چیف جسٹس آف انڈیا کے سامنے کیا۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آسام کے وزیر اعلیٰ کی جانب سے متعدد مسلم مخالف قابل اعتراض بیانات دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وزیر اعلیٰ کو مسلم ٹوپی پہنے کچھ افراد کی جانب بندوق سے نشانہ لیتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

وکیل کے مطابق اس معاملے میں متعلقہ حکام کے پاس شکایت درج کرائی گئی لیکن اب تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے عدالت سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی سنجیدہ نوعیت کو دیکھتے ہوئے فوری کارروائی ضروری ہے۔


اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مسئلہ یہ ہے کہ جیسے ہی انتخابات قریب آتے ہیں، آدھی انتخابی لڑائی سپریم کورٹ میں لڑی جانے لگتی ہے۔ تاہم عدالت نے درخواست کو خارج نہیں کیا اور کہا کہ معاملے کو سماعت کے لیے فہرست بند کیا جائے گا۔

ادھر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی نے بھی پیر کے روز آسام کے وزیر اعلیٰ کے خلاف حیدرآباد پولیس میں شکایت درج کرائی۔ انہوں نے ویڈیو کے حوالے سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ اویسی نے الزام لگایا کہ ویڈیو میں وزیر اعلیٰ کو مسلمانوں پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس سے دو مذہبی طبقات کے درمیان کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے، بعد میں مذکورہ ویڈیو سوشل میڈیا سے حذف کر دی گئی۔

حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار کو دی گئی شکایت میں اویسی نے الزام عائد کیا کہ وزیر اعلیٰ کے بیانات اور ویڈیو سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ذمہ داروں کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔