عدالت نے پپو یادو کو ضمانت پر رِہا کرنے کا سنایا فیصلہ، جلد قید و بند کی صعوبت سے ملے گی آزادی

رکن پارلیمنٹ پپو یادو کی ضمانت عرضی پر سماعت گزشتہ پیر کے روز عدالت میں ملتوی ہو گئی تھی۔ اگر پیر کے روز انھیں ضمانت مل گئی ہوتی تو آج پپو یادو جیل سے باہر آ سکتے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>پپو یادو/ تصویر: آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پورنیہ سے رکن پارلیمنٹ پپو یادو کو ایم پی-ایم ایل اے کورٹ سے منگل کے روز ضمانت مل گئی۔ دھوکہ دہی سے مکان کرایہ پر لینے اور قبضہ کرنے سے جڑے ایک معاملہ میں انھیں گرفتار کیا گیا تھا، اور اب جلد ہی قید و بند کی صعوبت سے انھیں آزادی ملنے والی ہے۔ مکان مالک نے پٹنہ گردنی باغ تھانہ میں تقریباً 3 دہائی قبل کیس کیا تھا۔ اسی معاملہ میں 3 روز قبل جمعہ کی دیر شب پپو یادو کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔

موصولہ اطلاع کے مطابق آج ضمانت عرضی پر سماعت کے لیے رکن پارلیمنٹ پپو یادو تقریباً 12.30 بجے عدالت پہنچ گئے تھے۔ 2 بجے سماعت ہوئی، جس میں انھیں 1995 سے جڑے اس کیس میں ضمانت پر رِہائی کا پروانہ جاری کیا گیا۔ پپو یادو کی ضمانت عرضی پر سماعت گزشتہ پیر کے روز عدالت میں ملتوی ہو گئی تھی۔ اس کی وجہ سول کورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی ملنا بتایا گیا تھا۔ اگر پیر کے انھیں ضمانت مل گئی ہوتی تو آج پپو یادو جیل کے باہر ہو سکتے تھے۔


بہرحال، پپو یادو 31 سال پرانے معاملہ میں عدالت کی طرف سے گرفتاری وارنٹ جاری ہوا تھا۔ اس کے بعد ایم پی-ایم ایل اے کورٹ سے ان کے خلاف قرقی ضبطی کا حکم بھی جاری کیا گیا تھا۔ حالانکہ اب انھیں ضمانت پر رِہا کرنے کا فیصلہ سنایا گیا ہے۔ ان کی طبیعت جیل میں خراب ہو گئی تھی، جس کے بعد بغرض علاج پی ایم سی ایچ میں داخل ہوئے۔ علاج کے بعد انھیں بیور جیل بھیج دیا گیا تھا۔ اب ان کے حامیوں کے لیے رِہائی کی خوشخبری مل گئی ہے۔ حالانکہ ابھی تک یہ صاف نہیں ہو سکا ہے کہ وہ جیل سے باہر کب آئیں گے۔