دیگر ممالک

جاپان کی آئرن لیڈی سانائے تاکائیچی نے تاریخی فتح حاصل کر لی

جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کے اتحاد نے موسم سرما کے اسنیپ پول میں تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ایوان زیریں میں اکثریت حاصل کی۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

جاپان کے وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کے حکمران اتحاد نے اتوار کو ہونے والے ایک اہم قبل از وقت انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی۔ ابتدائی ووٹوں کی گنتی کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے، جاپانی پبلک براڈکاسٹر این ایچ کے نے رپورٹ کیا کہ ان کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) نے اکیلے 271 نشستیں حاصل کیں، اور جاپانی پارلیمنٹ کے 465 رکنی ایوان زیریں میں 261 نشستوں کی مطلق اکثریت کا نشان عبور کیا۔

Published: undefined

جاپانی وزیر اعظم سانائے تاکائیچی کے اتحاد نے اتوار کے موسم سرما کے اسنیپ پول میں تاریخی کامیابی حاصل کی۔ قدامت پسند رہنما سانائے تاکائیچی جاپان کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہیں۔ وہ پہلے کہہ چکی ہیں کہ وہ برطانیہ کی "آئرن لیڈی" مارگریٹ تھیچر سے متاثر ہیں۔

Published: undefined

ووٹنگ بند ہونے کے دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں، ایل ڈی پی نے اکثریت کا ہندسہ عبور کر لیا۔ اسے پارٹی کے اب تک کے بہترین انتخابی نتائج میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے سانائے تاکائیچی کو ان کی جیت پر مبارکباد دی۔

Published: undefined

وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر پوسٹ کرکے سانائے تاکائیچی کو ان کی شاندار جیت پر مبارکباد دی۔ انہوں نے لکھا، "سانائے تاکائیچی کو ایوان نمائندگان کے انتخابات میں ان کی تاریخی جیت پر مبارکباد۔ ہماری خصوصی اسٹریٹجک اور عالمی شراکت داری عالمی امن، استحکام اور خوشحالی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔" وزیر اعظم مودی نے مزید کہا، "مجھے یقین ہے کہ آپ کی قابل قیادت میں، ہندوستان-جاپان دوستی نئی بلندیوں تک پہنچے گی۔"

Published: undefined

جاپان میں امریکی سفیر جارج ایڈورڈ گلاس نے سانائے تاکائیچی کو ان کی "متاثر کن فتح" پر مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ وہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ان کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں۔ سانائے تاکائیچی نے گزشتہ اکتوبر میں اپنی پارٹی کی قیادت کا انتخاب جیتنے کے فوراً بعد 36 سالوں میں ملک کے پہلے وسط موسم سرما کے انتخابات کا اعلان کیا تھا۔ اس الیکشن کا مقصد عوام سے نیا مینڈیٹ حاصل کرنا تھا۔

Published: undefined

ان کے  اس فیصلے کو ایک بڑا سیاسی جوا سمجھا جاتا تھا، کیونکہ ان کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی)پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت کھو چکی تھی اور’ کومئیٹو‘پارٹی کے ساتھ اس کا دیرینہ اتحاد بھی ٹوٹ گیا تھا۔ اب تازہ ترین نتائج میں خبر آئی ہے کہ حکمران جماعت نے اکثریت عبور کر لی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined