دہلی: 100 کروڑ روپے کے ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ اسکیم کا پردہ فاش، 2 افراد گرفتار

پولیس نے ڈیجیٹل اریسٹ اسکیم میں شامل 2 ملزمان انیش سنگھ اور منی سنگھ کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گروہ لوگوں کو ڈر، ذہنی دباؤ اور فرضی قانونی کارروائی کا ڈر دکھا کر کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی کیا کرتا تھا۔

<div class="paragraphs"><p>سائبر فراڈ / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دہلی میں آن لائن دھوکہ دہی کے بڑھتے معاملوں کے درمیان کرائم برانچ کی سائبر سیل کو ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔ پولیس نے ڈیجیٹل اریسٹ اسکیم میں شامل 2 اہم ملزمان انیش سنگھ اور منی سنگھ کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ گروہ لوگوں کو ڈر، ذہنی دباؤ اور فرضی قانونی کارروائی کا ڈر دکھا کر کروڑوں روپے کی دھوکہ دہی کیا کرتا تھا۔ تحقیقات میں سامنے آیا ہے کہ ملزمان سے منسلک بینک کھاتوں میں تقریباً 100 کروڑ روپے کے مشتبہ لین دین کا انکشاف ہوا ہے اور ان کے خلاف این سی آر پی پورٹل 190 شکایتیں یا ایف آئی آر درج ہیں۔

یہ معاملہ آن لائن ذرائع سے ذہنی قید اور نفسیاتی اذیت کی ایک سنگین مثال ہے۔ متاثرہ کو ایک سائبر ٹھگ نے خود کو ممبئی سائبر کرائم کا سینئر آئی پی ایس افسر راگھو متل بتا کر کال کیا اور آدھار کارڈ سے متعلق مبینہ مجرمانہ معاملات میں پھنسانے کی دھمکی دی۔ اس کے بعد کال ایک خاتون پولیس آفیسر کو ٹرانسفر کر دی گئی، جس نے واٹس ایپ ویڈیو اور آڈیو کال کے ذریعہ فرضی ایف آئی آر، گرفتاری کے جعلی وارنٹ اور فوری گرفتاری کی وارننگ دے کر ڈر کا ماحول بنا دیا۔ متاثرہ کے والد اور بیٹے کو بھی معاملے میں پھنسانے کی دھمکی دی گئی۔ 15 اکتوبر 2025 سے 12 دسمبر 2025 کے درمیان متاثرہ کو مسلسل ’ڈیجیٹل اریسٹ‘ کی حالت میں رکھا گیا۔ اسے کسی سے بات نہ کرنے، روزانہ ملزمان کو رپورٹ کرنے  اور مکمل طور پر رازداری برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔


مسلسل خوف، سماجی بدنامی اور گرفتاری کے ڈر کے ماحول میں متاثرہ سے 40 لاکھ روپے مختلف قسطوں میں ٹرانسفر کرا لیے گئے۔ ہر ادائیگی کے بعد اسے چیٹ، کال لاگ اور لین دین کے ثبوت ہٹانے کے لیے مجبور کیا جاتا تھا۔ ٹھگ یہ بھی کہتے رہے کہ اس کے گھر کے باہر پولیس تعینات ہے اور کسی کو بتانے پر فوری گرفتاری ہو جائے گی۔ آخرکار متاثرہ نے ہمت کر کے شکایت درج کرائی، جس کے بعد ای-ایف آئی آر نمبر 60001703/2025 کرائم برانچ میں درج کی گئی۔

معاملے کی تحقیقات انسپکٹر سندیپ سنگھ سائبر سیل کو سونپی گئی، جنہیں تکنیکی ماہر ہیڈ کانسٹیبل اکشے کمار کا تعاون حاصل ہوا۔ ملزمان کے ذریعہ ڈیجیٹیل ثبوت مٹانے کے باوجود ٹیم نے پورے واقعہ کو تکنیکی تجزیہ کے ذریعہ دوبارہ ترتیب دیا۔ تحقیقات کے دوران کئی مشکوک بینک کھاتوں اور یو پی آئی ڈی کا نیٹورک سامنے آیا، جن میں مختلف ریاستوں سے رقم ٹرانفسر کی جا رہی تھی۔ تحقیقات میں میسرس ورنداکارٹ اسکائی لائن شاپرس پرائیویٹ لمیٹڈ نامی کمپنی کا کھاتہ سامنے آیا، جو مغربی دہلی کے نیو مہاویر نگر میں رجسٹرڈ ہے۔


اس کمپنی کے جوائنٹ ڈائریکٹر انیش سنگھ اور منی سنگھ پائے گئے۔ لین دین کے تجزیے میں لیئر-1 سے لیئر-4 تک فنڈ روٹنگ کا ایک منظم طریقہ کار سامنے آیا۔ این سی آر پی ڈیٹا کے مطابق اس کھاتے کے خلاف 100 کروڑ روپے سے زائد کی سائبر دھوکہ دہی سے متعلق 190 معاملے درج ہیں۔ پوچھ تاچھ میں ملزمان نے بتایا کہ کمپنی کے نام پر مختف بینکوں میں 8 بینک کھاتے صرف ٹھگی کی رقم کو گھمانے کے لیے کھولے گئے تھے۔ تکنیکی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ دونوں ملزمان شناخت چھپانے کے لیے فرضی سم کارڈ  اور جعلی دستاویزات کا استعمال کر رہے تھے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق دونوں کو پہلے بھی فریدآباد پولیس نے اسی طرح کے ایک معاملے میں گرفتار کیا تھا۔

واضح رہے کہ اس آپریشن کو انسپکٹر سندیپ سنگھ کی قیادت میں اے سی پی انل شرما کی مجموعی نگرانی میں انجام دیا گیا۔ ٹیم میں انسپکٹر ونے کمار، ایس آئی راکیش ملک، اے ایس آئی سندیپ تیاگی، اے ایس آئی سنجے، ایچ سی سچن، ایچ سی کپل، ایچ سی اکشے، ایچ سی وکاس، ایچ سی بھوپیندر، ایچ سی موہت تومر اور کانسٹیبل آشیش شامل تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے میں مزید تفتیش جاری ہے اور اس نیٹ ورک سے وابستہ دیگر افراد کی شناخت کی جا رہی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔