بے بس نواب واجد علی شاہ: جلاوطنی میں بھی اہلِ وطن کے لیے دعا گو ...کرشن پرتاپ سنگھ
انگریزوں نے نواب واجد علی شاہ کو معزول کر کے جلا وطن کر دیا۔ انہیں عیش پرست کہہ کر بدنام کیا گیا مگر وہ فنون کے سرپرست اور مزاحمت کی علامت بھی تھے۔ جلاوطنی میں بھی انہوں نے اہلِ وطن کو ’خوش رہو‘ کہا

یہ آج سے تقریباً ایک سو ستر برس پہلے کی بات ہے۔ تاریخ تھی 12 فروری 1856۔ اگلے دن صوبۂ اودھ کے نواب واجد علی شاہ کی تاج پوشی کی نویں سالگرہ تھی۔
اگر وہ نوابی اقبال کے دن ہوتے تو صوبے کی راجدھانی لکھنؤ جشن کی تیاریوں میں ڈوبی ہوتی اور انتظامات کی نگرانی کرتے ہوئے واجد علی شاہ کا دل خوشی سے جھوم رہا ہوتا۔ لیکن اس کے برعکس نہ صرف لکھنؤ بلکہ پورے صوبے پر اداسی کی چادر تنی ہوئی تھی اور اپنے محل میں بیٹھے واجد گویا اپنے اقتدار کے آخری دن گننے پر مجبور تھے۔
ان کی بے بسی اندر اور باہر دونوں طرف سے انہیں جھنجھوڑ رہی تھی۔ وہ یہ دیکھ کر کڑھ رہے تھے کہ جو خدام کبھی ان کے ایک اشارے پر حکم کی تعمیل کے لیے دوڑ پڑتے تھے، اب ان کی بات سن کر بھی ان سنی کرنے، حکم عدولی کرنے اور تمسخر اڑانے پر آمادہ ہیں۔ چند روز قبل گلنار نامی ایک مقرب کنیز نے تو حد ہی کر دی تھی۔
ایسٹ انڈیا کمپنی، جس کی بے رحم پالیسی ریاستیں ہڑپنے کی ساری سازشوں کی جڑ تھی، اسی کی جانب سے جاری کردہ چاندی کا ایک وکٹورین سکہ وہ گلابی زری دار کپڑے سے ڈھکی طشتری میں رکھ کر نواب کے پاس آئی اور عرض کیا، ’’سلطانِ عالم! کمپنی کا یہ سکہ اب پورے لکھنؤ میں رائج ہو چکا ہے، جبکہ آپ کا سکہ نگاہوں سے اوجھل ہوتا جا رہا ہے۔ اب صرف قیصر باغ رہ گیا ہے جہاں آپ کی حکومت باقی ہے اور اس کا بھی کچھ اعتبار نہیں کہ کب تک باقی رہے۔‘‘
اس گستاخی پر نواب کا دل چاہا کہ کنیز کو سخت سزا دیں۔ مگر کیسے دیتے؟ کمپنی نے ان کے اختیارات اس قدر محدود کر دیے تھے کہ وہ جھنجھلاہٹ کے سوا کچھ نہ کر سکتے تھے، سو اپنی ہی بے بسی پر دل مسوس کر رہ گئے۔
پھر بھی انہوں نے طشتری میں رکھے سکے پر ایسی نگاہ ڈالی جیسے اسے اپنی نظر کی حدت سے جلا ڈالیں گے۔ دائیں ہاتھ سے سکہ اٹھایا اور انگوٹھے اور انگلیوں کے درمیان اس قدر زور سے رگڑا کہ نہ انگوٹھے کی جانب والی ملکہ وکٹوریہ کی شبیہ سلامت رہی اور نہ دوسری طرف کی عبارت۔ پھر کنیز کو حکم دیا، ’’اسے فوراً بیلی گارڈ کے احاطے، یعنی ریزیڈنسی میں پھینک آؤ۔‘‘
لیکن وہ اس واقعے کو کب تک یاد رکھتے، جب اس سے کہیں زیادہ تلخ حقیقتیں ان کے سامنے تھیں؟
پورے ہندوستان پر قبضے کا خواب دیکھنے والی گوری ایسٹ انڈیا کمپنی نے پانچ دن پہلے ہی ایک اعلان کے ذریعے ان کی ریاست ضبط کرنے کی کارروائی شروع کر دی تھی۔ انہیں یہ مہلت بھی گوارا نہ کی گئی کہ کم از کم 13 فروری 1847 کو ہونے والی اپنی تاج پوشی کی سالگرہ کے دن کا سکون اور رات کی نیند برقرار رکھ سکیں۔
جب ان کی غفلت ٹوٹی تو دیکھا کہ کمپنی کی فوج انہیں گرفتار کرنے اور مٹیابرج (کلکتہ، موجودہ کولکاتا) جلا وطن کرنے آ پہنچی ہے۔
یہ گرفتاری نہ اچانک تھی اور نہ جلاوطنی غیر متوقع، مگر اس کے باوجود واجد علی شاہ چونکے بغیر نہ رہ سکے۔ سنبھلے تو یاد آیا کہ اس سب کی بنیاد تو 1848 ہی میں پڑ چکی تھی، جب ان کی تاج پوشی کے اگلے سال کمپنی نے اپنے توسیع پسندانہ منصوبوں کے تحت لارڈ ڈلہوزی کو ہندوستان کا گورنر جنرل بنا کر بھیجا تھا اور اس نے آتے ہی اس سمت میں سرگرمیاں تیز کر دی تھیں۔ البتہ فیصلہ کن قدم اٹھانے اور اپنا سکہ جمانے میں اسے آٹھ برس لگ گئے۔
سب سے پہلے اس نے لکھنؤ میں تعینات برطانوی ریزیڈنٹ ڈبلیو ایچ سلیمن کی رپورٹ کے نکات کی بنیاد پر، جو دراصل اودھ کو ہڑپنے کا جواز فراہم کرنے کے لیے مرتب کی گئی تھی، واجد علی شاہ پر سنگین بدانتظامی کے الزامات عائد کیے۔ بعد میں سلیمن کی جگہ آنے والے نئے ریزیڈنٹ آؤٹرم سے ان الزامات کی توثیق کرائی گئی اور نواب پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ 12 لاکھ روپے سالانہ پنشن کے عوض اپنی ریاست کمپنی کے حوالے کر دیں۔ جب واجد اس پر آمادہ نہ ہوئے تو فوجی کارروائی کے ذریعے ریاست پر قبضہ کر لیا گیا۔
اس سے پہلے کمپنی اپنی بدنام زمانہ پالیسی کے تحت ستارا، ناگپور، جھانسی، سنبھل پور، جیت پور، بگھاٹ، اودے پور اور برار جیسی کئی چھوٹی بڑی ریاستوں کو، ان کے بے اولاد حکمرانوں کو گود لے کر وارث مقرر کرنے کے حق سے محروم کر کے، اپنے اقتدار میں شامل کر چکی تھی۔ پنجاب اور سکم جیسے علاقوں کو بھی فریب آمیز جنگوں کے ذریعے فتح کیا گیا تھا۔
اس مرحلے پر پہنچ کر واجد علی شاہ نے جیسے خود سے سوال پوچھا، کیا میں اسی سلوک کا مستحق تھا؟
عام طور پر کہا جاتا ہے کہ اس وقت لکھنؤ عیش و عشرت میں اس قدر ڈوبا ہوا تھا کہ واجد علی شاہ کو معزول اور گرفتار کرنے کے لیے انگریز فوج کو خون کا ایک قطرہ بھی نہیں بہانا پڑا، کیونکہ کوئی مزاحمت نہیں ہوئی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ معزولی کے باوجود واجد کو امید تھی کہ وہ انگلستان کی ’انصاف پسند‘ ملکہ وکٹوریہ سے شکایت کر کے اپنا حق واپس حاصل کر لیں گے۔ ایسے میں خونریزی کی ضرورت ہی نہیں تھی۔
لیکن سال گزرنے کے ساتھ یہ امید بھی مایوسی میں بدل گئی۔ تب لکھنؤ میں ایسا غم و غصہ پھیلا کہ 1857 کی پہلی جنگِ آزادی کی آگ اودھ کی سرزمین پر دہلی کے سقوط کے بعد بھی دہکتی رہی۔ کمپنی کی نظر میں ’مجرم‘ ٹھہرائے گئے واجد علی شاہ کے کمسن بیٹے برجیس قدر کو تخت پر بٹھایا گیا اور ان کی والدہ بیگم حضرت محل ایسی جرأت و استقلال کے ساتھ انگریزوں کے مقابل آئیں کہ انہیں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
لیکن جہاں تک واجد علی شاہ کا تعلق ہے، وہ انگریزوں کی جانب سے چند نیم سچائیوں کے سہارے تراشی گئی اس شبیہ کے ایسے اسیر بنے کہ آج تک اس سے پوری طرح نجات نہ پا سکے۔ انہیں ’حکمرانی سے بے پروا، عیش پسند، عورتوں کے دلدادہ اور آرام طلب‘ فرمانروا کے طور پر پیش کیا گیا۔ اگرچہ یہ تاثر بالکل بے بنیاد بھی نہیں تھا اور جیسا کہ پہلے ذکر آ چکا ہے، نومبر 1849 سے فروری 1850 کے درمیان سلیمن کے دورۂ اودھ کے بعد لارڈ ڈلہوزی کو بھیجی گئی رپورٹ نے اس تاثر کو قائم کرنے میں بڑی اہمیت ادا کی۔ یہی رپورٹ بعد میں ’اے جرنی تھرو دی کنگڈم آف اودھ‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوئی۔
اسی وجہ سے آج بھی اودھ میں اگر کسی کے سامنے واجد علی شاہ کا نام لیا جائے تو وہ ان پر طرح طرح کی تہمتیں دھر دیتا ہے۔ اگر کسی کے طرزِ زندگی کو ان سے تشبیہ دے دی جائے تو وہ اسے یوں لیتا ہے جیسے اسے کوئی بھدی گالی دے دی گئی ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ واجد علی شاہ کی جلاوطنی کے بعد لکھنؤ نے جس شدت سے ان کی یاد میں تڑپ دکھائی، شاید ہی کسی اور حکمران کے لیے دکھائی ہو۔
ان کی بدقسمتی یہ بھی رہی کہ بیگانوں ہی نہیں، اپنوں نے بھی انہیں صحیح معنوں میں نہ سمجھا۔ اسی لیے آج تک کوئی یہ قصہ سناتا ہے کہ جب انگریز فوج انہیں گرفتار کرنے آئی تو وہ اس لیے نہ بھاگ سکے کہ انہیں جوتے پہنانے والا خادم موجود نہ تھا۔ کوئی یہ کہتا ہے کہ انہوں نے تین سو سے زائد شادیاں کیں اور طلاق دینے میں بھی غیر معمولی فراخ دلی دکھائی۔
بلاشبہ وہ عیش پسند تھے لیکن جب ان کا نام اس حوالے سے لیا جاتا ہے تو یہ حقیقت فراموش کر دی جاتی ہے کہ وہ اپنے خاندان کی اسی پرانی روایت کے وارث تھے جس کا آغاز نواب آصف الدولہ (26 جنوری 1775 تا 21 ستمبر 1797) کے عہد میں ہو چکا تھا۔ جس بے بسی نے واجد کو انگریزوں کا محتاج بنایا، وہ بھی انہیں اپنے اسلاف سے ورثے میں ملی تھی، ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ کی گئی ان معاہدات کی صورت میں، جنہوں نے نوابوں کی خودمختاری کو عملاً ختم کر دیا تھا۔
چنانچہ کمپنی کے افسران نے اودھ کا تاج سر پر رکھتے ہی انہیں دو پاٹوں میں پیسنا شروع کر دیا۔ ویسے بھی بطور نواب کمپنی کی پہلی پسند واجد کے بڑے بھائی مصطفیٰ علی تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ کمپنی کے اہلکار ایک طرف تو ان پر حکمرانی چھوڑ کر عیش و عشرت میں ڈوبے رہنے کا الزام لگاتے تھے اور دوسری طرف نہ تو انہیں انتظامی اصلاحات کی آزادی دیتے تھے اور نہ فوجی تنظیمِ نو کی اجازت۔
پہلے کے نوابوں کے ساتھ کیے گئے معاہدات کے نتیجے میں واجد علی شاہ کے زمانے تک اودھ کی ریاستی حفاظت کمپنی کی فوج کے سپرد ہو چکی تھی اور نوابی فوج کی حیثیت برائے نام رہ گئی تھی۔ واجد اس کے پسِ پردہ چال کو سمجھتے تھے، اس لیے انہوں نے جلد ہی اپنی فوج کی تنظیمِ نو کا آغاز کیا۔ انہوں نے خواتین سپاہیوں کی ایک باقاعدہ دستہ تشکیل دیا اور انہیں مرد سپاہیوں کی طرح تربیت دلائی۔ جس طرح مرد دستوں کی روزانہ صبح 5 بجے پریڈ ہوتی تھی، اسی طرح خواتین کا یہ دستہ بھی پابندی سے مشق کرتا تھا۔
اس اقدام پر اس وقت کے گورنر جنرل لارڈ ہارڈنگ ناراض ہوئے اور ریزیڈنٹ کرنل رچمنڈ کے ذریعے ہدایت بھیجی کہ نواب پولیس کے نظام میں جو چاہیں اصلاح کریں لیکن فوج کی تنظیمِ نو سے گریز کریں۔ مگر ’عیش پسند‘ کہلانے والے واجد علی شاہ نے اس ہدایت کو ماننے سے انکار کر دیا۔
1857 میں جب پہلی جنگِ آزادی شروع ہوئی تو اگرچہ واجد کی قائم کردہ خواتین ٹکڑی منتشر ہو چکی تھی لیکن اس کا تجربہ بیگم حضرت محل کے بہت کام آیا۔ انہوں نے اسے دوبارہ منظم کیا اور محلات کی باندیوں اور حبشی خواتین تک کو سپاہی بنا دیا۔ متعدد محاذوں پر یہ خواتین دستے مردانہ لباس میں جنگ میں شریک ہوئے اور ان میں سے کئی نے جان کی قربانی دی۔
تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ کمپنی نے جس قدر واجد علی شاہ کو تنگ کیا، شاید ہی کسی اور نواب کو کیا ہو۔ پہلے انہیں اپنی مرضی کے وزیر رکھنے کے حق سے محروم کیا گیا، پھر چکلا داروں کی تقرری کے اختیار سے بھی۔ وہ جسے سزا دینا چاہتے، انگریز ریزیڈنٹ اسے پناہ دے دیتا اور جسے ملازمت سے برطرف کرتے، اسے دوبارہ ملازمت مل جاتی۔ کوئی زمیندار یا تعلقہ دار اگر نواب سے ناراض ہوتا تو ریزیڈنٹ اس کا حامی بن جاتا۔ نواب کے وفاداروں کی سرِعام توہین کی جاتی اور حکم عدولی کرنے والے اہلکاروں کو عزت و توقیر دی جاتی۔ یوں ریزیڈنٹ نے ایک متوازی اقتدار قائم کر کے صوبے کو معاشی اور سیاسی طور پر مفلوج بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
جہاں تک اس روایت کا تعلق ہے کہ گرفتاری کے وقت جوتے پہنانے والا خادم موجود نہ تھا، اس میں اتنی سچائی ضرور ہے کہ اقتدار اور وقار کھو دینے کے بعد ان کے قریب مخلص خدام ہی نہیں، بیگمات اور درباریوں کی بھی کمی ہو گئی تھی، کیونکہ ان میں سے بیشتر ریزیڈنٹ کی قائم کردہ متوازی طاقت کے محتاج ہو چکے تھے۔
اقتدار سے معزولی اور جلاوطنی کے بعد 21 ستمبر 1887 کو مٹیابرج (کلکتہ) میں آخری سانس لینے تک لکھنؤ ان سے جدا رہا، مگر شہر کی فضا میں ان کی یہ سطریں آج بھی گونجتی محسوس ہوتی ہیں:
در و دیوار پہ حسرت کی نظر کرتے ہیں
خوش رہو اہلِ وطن ہم تو سفر کرتے ہیں
وہ اگر پری خانہ اور رقص و موسیقی کے شوقین تھے تو انہیں سوئی تھام کر چکن کا باریک کام کرنا بھی آتا تھا اور ردیف و قافیہ جوڑ کر ’اختر‘ کے تخلص سے شاعری بھی کیا کرتے تھے۔
بلکہ بعض لوگ تو انہیں اپنے صوبے کا لیونارڈو دا ونچی قرار دیتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اگر وہ صرف روایتی نوابی شناخت تک محدود رہتے تو نہ لکھنؤ کو وہ نزاکت و نفاست نصیب ہوتی اور نہ اس کے ادب، تہذیب اور فنون کو وہ عروج حاصل ہوتا جو آج اس کی پہچان ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔