دہلی گڑھا حادثہ: کانگریس کا بی جے پی پر حملہ، کہا- ’ایک سال میں بھی نہیں سدھر سکے حالات‘
اُدت راج نے کہا کہ بی جے پی حکومت کو اقتدار میں آئے ایک سال ہو چکا ہے۔ اگرچہ گڑھے عام آدمی پارٹی دور میں چھوڑے گئے تھے مگر اب موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ حالات بہتر کرے اور عوام کو راحت دے

کانگریس لیڈر اُدت راج نے اتوار (8 فروری) کو جنک پوری میں گڑھے میں گرنے سے بائیک سوار کی موت کے معاملے پر ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے اسے انتظامی ناکامی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے دہلی حکومت کی جوابدہی پر سوال اٹھایا۔ ادت راج نے نیوز ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ایک حاثہ تھا، لیکن ہمیشہ کی طرح کچھ وقت بعد بغیر کوئی کارروائی کیے معاملہ ٹھنڈا پڑ جائے گا۔ لوگ ایسے واقعات کو بھول جاتے ہیں۔ بی جے پی حکومت کو اقتدار میں آئے ایک سال ہو گیا ہے۔ گڑھے عام آدپی پارٹی حکومت نے چھوڑے تھے، لیکن اب انہیں (بی جے پی) کو دیکھنا چایے کہ کتنی بہتری ہوئی ہے۔‘‘
واضح رہے کہ ادت راج کا یہ سخت ردعمل 25 سال کے بائیک سوار کمل دھیانی کی موت کے متعلق آئی ہے، جن کی جمعرات کی دیر رات کام سے گھر لوٹتے وقت جنک پوری میں دہلی جَل بورڈ کے افسران کی جانب سے کھودے گئے ایک کھلے گڑھے میں گرنے سے موت ہو گئی تھی۔ اس معاملے میں درج ایف آئی آر سے سامنے آنے والی نئی معلومات نے پروجیکٹ سائٹ پر حفاظتی انتظامات میں سنگین خامیوں کی جانب اشارہ کیا۔
ایف آئی آر کے مطابق دہلی جَل بورڈ کے پروجیکٹ کے تحت کھودے گئے گڑھے کو مرکزی سڑک پر کسی بھی انتباہی نشان، ریفلیکٹر، بیریکیڈ، روشنی یا حفاظتی انتظامات کے بغیر کھلا چھوڑ دیا گیا تھا، جس سے مسافروں کے لیے سنگین خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ بنیادی حفاظتی تدابیر کی اس کمی نے اس میں شامل ایجنسیوں کی لاپرواہی اور جوابدہی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق، جمعہ (6 فروری) کو صبح تقریباً 8:03 بجے جنک پوری پولیس اسٹیشن میں ایک خاتون کی پی سی آر کال موصول ہوئی، جس نے بتایا کہ بی-3بی بلاک میں ایک بائیک سوار گہرے گڑھے میں گر گیا ہے۔ اطلاع ملتے ہی دہلی پولیس کی ایک ٹیم موقع پر پہنچی، جہاں اسے گڑھے کے اندر ایک نوجوان اور اس کی بائیک پڑی ہوئی ملی۔
قابل ذکر ہے کہ گڑھے کی لمبائی تقریباً 20 فٹ، چوڑائی 13 فٹ اور گہرائی تقریباً 15-14 فٹ تھی۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ یہ کھدائی جل بورڈ کے جاری کام کے سلسلے میں کی جا رہی تھی۔ نوجوان کو گڑھے سے نکال کر دین دیال اپادھیائے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں بعد میں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔