دیگر ممالک

نیتن یاہوحکومت نے سپریم کورٹ کا حکم مسترد کر دیا

اسرائیلی تاریخ میں پہلی بار وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حکومت نے سپریم کورٹ کا حکم ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ میڈیا ریگولیٹر پر حکومت اور عدلیہ کے درمیان تنازع اب آئینی بحران میں تبدیل ہو چکا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

اسرائیل میں وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حکومت اور سپریم کورٹ کے درمیان تنازع اب کھلے چیلنج میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اتوار کے روز، اسرائیلی کابینہ نے متفقہ طور پر سپریم کورٹ کے حکم کی تعمیل نہ کرنے کا فیصلہ کیا جس میں ملک کے تجارتی میڈیا ریگولیٹر، ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے لیے سیکنڈ اتھارٹی (SATR) کو کام جاری رکھنے کی اجازت دی گئی۔ سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ یہ "جنگل راج" کی علامت ہے۔

Published: undefined

اسرائیل کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے باضابطہ طور پر سپریم کورٹ کے حکم کو ماننے سے انکار کیا ہے۔ تنازعہ گزشتہ ماہ اس وقت شروع ہوا جب سپریم کورٹ نے حکومتی فیصلوں کو روک دیا جس نے ایک نئی میڈیا ریگولیٹری کونسل کی تشکیل کا عمل شروع کیا تھا۔ عدالت نے حکم دیا کہ موجودہ کونسل اپنا کام جاری رکھے۔ عدالت کا خیال تھا کہ کونسل کے بعض ارکان کے استعفے سیاسی دباؤ کی وجہ سے ہو سکتے ہیں۔

Published: undefined

تاہم نیتن یاہو حکومت نے عدالت کے فیصلے کو مسترد کر دیا۔ وزیر مواصلات شلومو کارہی اور وزیر انصاف یاریو لیون نے ایک مشترکہ بیان میں کہا، "عدالت کو قانون کو پامال کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ قانون کے خلاف ہونے والے کسی بھی فیصلے کو حکومت تسلیم نہیں کرے گی، اور اس کی بنیاد پر کیے گئے تمام فیصلے کالعدم تصور کیے جائیں گے۔"

Published: undefined

کابینہ نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت میڈیا ریگولیٹری کونسل کے مستقبل کے کسی بھی فیصلے کو قبول نہیں کرے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ کونسل کے پاس ارکان کی قانونی طور پر مطلوبہ تعداد نہیں ہے، اس لیے اس کے فیصلے درست نہیں ہو سکتے۔ حکومت کے اس اقدام کی اپوزیشن اور قانونی ماہرین نے شدید مخالفت کی ہے۔نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع خبر کے مطابق ڈپٹی اٹارنی جنرل گل لیمن نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے عدالتی احکامات کو اپنی ترجیحات کے مطابق قبول کیا تو یہ قانون کی حکمرانی کے کمزور ہونے کا آغاز ہو گا۔ سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ 'عدالت کے حکم کی نافرمانی سے ملک میں افراتفری پھیلے گی اور اسرائیل کا جمہوری نظام کمزور ہو گا۔'

Published: undefined

صحافیوں کی تنظیموں اور جمہوریت کے حامی گروپوں نے بھی حکومت کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ صرف میڈیا ریگولیشن کا معاملہ نہیں ہے بلکہ اسرائیل میں جمہوریت، آزادی صحافت اور قانون کی حکمرانی پر براہ راست حملہ ہے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined