فرقہ وارانہ زہر پھر پھیلنے کا خدشہ...کنال چٹرجی
مغربی بنگال میں مسلمانوں میں بے دخلی، ووٹر فہرست سے نام خارج ہونے، معاشی مشکلات اور بڑھتی فرقہ وارانہ فضا کے باعث عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے، جبکہ حکومت کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں

مغربی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ سوویندو ادھیکاری نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کی حکومت اب تک دس ہزار بنگلہ دیشی شہریوں کو واپس بھیج چکی ہے، تاہم اس دعوے کو نہ اپوزیشن نے سنجیدگی سے چیلنج کیا اور نہ ہی اس کی کوئی تفصیل طلب کی۔ نئی دہلی، ڈھاکہ یا سرحدی حفاظتی فورس (بی ایس ایف) کی جانب سے بھی اس کی تصدیق نہیں کی گئی۔ دوسری طرف بنگلہ دیش بارڈر گارڈز (بی جی بی) کا کہنا ہے کہ اس نے ہندوستانی مسلمانوں کو بنگلہ دیش بھیجنے کی بی ایس ایف کی کم از کم تیس کوششیں ناکام بنائی ہیں۔ ڈھاکہ کا مؤقف ہے کہ کسی بھی شخص کی واپسی سے قبل اس کی درست شناخت اور مکمل جانچ ضروری ہے، اس کے باوجود ریاستی حکومت نے جس تیزی سے کارروائی کی، وہ مرکزی وزارتِ داخلہ کے مقررہ طریقۂ کار سے مطابقت نہیں رکھتی۔
اس سارے معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آخر یہ ’بغیر دستاویزات والے بنگلہ دیشی‘ کون تھے، وہ کہاں رہتے اور کام کرتے تھے، اور اگر وہ غیر ملکی تھے تو ان کے پاس شہریت سے متعلق دستاویزات کیسے موجود تھے؟ سرحدی اضلاع میں رہنے والے بے شمار ہندوستانی مسلمان اس وقت خوف اور غیر یقینی کیفیت میں زندگی گزار رہے ہیں، مگر ان سوالات کے واضح جواب کہیں نہیں مل رہے۔
مرشد آباد کے واسپ بسواس نے ’اسکرول ڈاٹ ان‘ کو بتایا کہ مالدہ کے بارہ مسلمانوں کو بنگلہ دیشی قرار دے کر نو مئی کو، سوویندو ادھیکاری کے وزیرِ اعلیٰ بننے کے فوراً بعد، ایک ہولڈنگ سینٹر بھیج دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ تمام افراد ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ بسواس اور ان کے بڑے بھائی، جو بی ایس ایف میں ملازم ہیں، ان ستائیس لاکھ ووٹروں میں شامل ہیں جن کے نام ووٹر فہرست کے ’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘ (ایس آئی آر) کے بعد حذف کر دیے گئے، جن میں بڑی تعداد مسلمانوں کی بتائی جاتی ہے۔ ان کی آن لائن اپیلوں پر اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، نہ ہی انہیں ذاتی سماعت کا موقع ملا اور نہ یہ معلوم ہے کہ ان کے معاملات پر دوبارہ کب غور کیا جائے گا۔ سرکاری فلاحی منصوبوں اور دیگر سہولتوں سے محروم ہو جانے کے خدشے نے انہیں شدید اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔
یہ بھی واضح نہیں کہ ایس آئی آر کے تحت ان کے نام کیوں حذف کیے گئے، جبکہ قانون کے مطابق کسی کا نام ووٹر فہرست سے نکالنے سے پہلے تحریری طور پر وجہ بتانا اور متعلقہ شخص کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دینا لازمی ہے۔ مرشد آباد کے پچھتر سالہ ایک مسلم وکیل کا نام بھی ووٹر فہرست سے خارج کر دیا گیا تھا، جس پر انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ عدالت نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس امر کے کافی شواہد موجود ہیں کہ وہ گزشتہ نصف صدی سے ہندوستانی عدالتوں میں وکالت کر رہے ہیں، اور معاملے کے فوری تصفیے کا حکم دیا۔ تاہم سوال یہ ہے کہ ان غریب اور بے سہارا شہریوں کا کیا ہوگا، جن کے پاس عدالتوں تک پہنچنے کی استطاعت یا وسائل موجود نہیں۔
کولکاتا میں احتجاجی مظاہروں کی شدت بھی اب کم ہو گئی ہے۔ پارک سرکس میدان میں دو ماہ تک جاری رہنے والے احتجاج میں سرگرم کردار ادا کرنے والے پروفیسر قاضی محمد الفریڈ کا کہنا ہے کہ اب احتجاج کرنا انتہائی خطرناک ہو گیا ہے اور کسی بھی اقدام سے پہلے کارکنوں کو کئی مرتبہ سوچنا پڑتا ہے۔
مغربی بنگال کے نسبتاً خوش حال مسلمان بھی خود کو محفوظ محسوس نہیں کر رہے۔ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس شاہد اللہ منشی اور ان کے خاندان کا نام مبینہ ’’منطقی تضادات‘‘ کی بنیاد پر ووٹر فہرست سے خارج کر دیا گیا تھا، لیکن بار اینڈ بینچ کو انٹرویو دینے کے صرف اڑتالیس گھنٹوں کے اندر ان کا حقِ رائے دہی بحال کر دیا گیا۔ اسی طرح آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ ماہرِ بشریات عادل حسین، جو ایک نجی یونیورسٹی میں تدریس کرتے ہیں اور جن کے پاس درست پاسپورٹ بھی موجود ہے، اب تک ووٹر فہرست میں شامل نہیں ہو سکے۔ انہوں نے اسکرول سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ جن لوگوں سے ووٹ دینے کا حق چھین لیا گیا ہے، مستقبل میں ان کے ساتھ کس نوعیت کا برتاؤ کیا جائے گا۔
بنگال کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود کو کبھی اتنا غیر محفوظ محسوس نہیں کیا جتنا آج کر رہے ہیں۔ 1946 اور 1947 کے فرقہ وارانہ فسادات کی مدھم پڑ چکی یادیں ایک بار پھر تازہ ہو رہی ہیں۔ کلکتہ یونیورسٹی کے پہلے مسلم وائس چانسلر کے نام پر قائم سہروردی ایونیو کا نام تبدیل کرکے گوپال مکھرجی روڈ رکھ دینا، جنہیں فسادات میں مبینہ کردار کے باوجود ہندوؤں کے محافظ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اسی سلسلے کی ایک مثال ہے۔ اسی طرح چھ جولائی سے پورے ایک سال تک ہندوستانی جن سنگھ کے بانی شیاما پرساد مکھرجی کی ایک سو پچیسویں یومِ پیدائش منانے کا فیصلہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
فرقہ واریت کا زہر تیزی سے معاشرے میں سرایت کر رہا ہے اور روزمرہ زندگی میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور بداعتمادی میں تشویش ناک اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ دس سالہ شیخ اسیر الدین صرف اس لیے اسکول چھوڑ کر گھر آ گیا کہ بڑے طلبہ اسے ’’پاکستانی‘‘ اور ’’غدار‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ اگرچہ اساتذہ نے بچوں کی کونسلنگ کا وعدہ کیا، لیکن والدین کو خدشہ ہے کہ جب معاشرے میں نفرت اور شکوک کی فضا اس قدر گہری ہو چکی ہو تو سرکاری اقدامات شاید اس کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کافی ثابت نہ ہوں۔
گارڈن ریچ جیسے مسلم اکثریتی علاقوں میں لوگ بدلتے ہوئے حالات کا ذکر تو کرتے ہیں، مگر دبی زبان میں۔ اچانک کسی بھی وقت جانچ پڑتال یا کارروائی کے خدشے کے باعث بیشتر لوگ اپنی جائیداد کے کاغذات اور شناختی دستاویزات ہمیشہ اپنے پاس رکھتے ہیں۔ ایک مقامی باشندے نے کہا، ’’ہماری گلی میں جب بھی کوئی گاڑی آ کر رکتی ہے تو سب لوگ یہ دیکھنے کے لیے باہر نکل آتے ہیں کہ کون آیا ہے۔‘‘ بے دخلی کے خوف نے لوگوں کی نیندیں اڑا دی ہیں اور جبری نقل مکانی کا خطرہ اب انہیں محض ایک اندیشہ نہیں بلکہ ایک ممکنہ حقیقت محسوس ہونے لگا ہے۔
حال ہی میں شہر کے ایک ہوٹل میں ہونے والی نشست میں مسلم مقررین نے اعتراف کیا کہ اب ان کا معاشرہ بھی انہی حالات کا سامنا کر رہا ہے جن کے بارے میں وہ اب تک صرف بی جے پی کی حکومت والی دوسری ریاستوں کے حوالے سے سنتے آئے تھے۔ ٹنگرا، تلجلا، کھدرپور، اقبال پور، گارڈن ریچ اور پارک سرکس جیسے مسلم اکثریتی علاقوں میں انہدامی کارروائیوں کی افواہیں عام ہیں، جبکہ دوسری جگہوں پر موجود غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔ ’لو جہاد‘، بنگلہ دیشیوں کی دراندازی، یکساں سول ضابطہ اور ’مسلم سماج دشمن عناصر‘ کی گرفتاریوں جیسے موضوعات پہلے سے موجود خوف کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
پولیس کی سائبر سیل حکومت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرتی ہے، جبکہ شدت پسند فرقہ وارانہ آوازیں بلا روک ٹوک سوشل میڈیا پر پھیلتی رہتی ہیں۔ ان کے بقول نفرت کی یہ فضا عوامی گفتگو اور روزمرہ کے سماجی تعلقات میں زہر گھول رہی ہے۔
معاشی میدان میں بھی مسلمانوں کے حاشیے پر چلے جانے کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔ تاجر منظر جمیل کا کہنا ہے کہ کاروباری آرڈرز تیزی سے کم ہو رہے ہیں اور فیکٹریوں کی پیداواری لائنیں بند پڑ رہی ہیں۔ ان کے الفاظ میں، ’’صرف بنگال ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان میں مسلمانوں کو معاشی طور پر کنارے لگایا جا رہا ہے۔‘‘ تعلیم اور روزگار میں کم نمائندگی نے اس صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ سڑکوں پر ٹھیلے اور چھوٹے کاروبار پر پابندیوں کے باعث روزگار کے محدود مواقع بھی ختم ہو رہے ہیں، جس کا سب سے زیادہ اثر مسلم محنت کشوں پر پڑ رہا ہے۔
مسلم تعلیم کے فروغ کے لیے حکومتی حمایت کی کمی بھی شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مدارس پر دہشت گردی کو فروغ دینے جیسے الزامات کو مسلم برادری بے بنیاد قرار دیتی ہے۔ اسی طرح مسلم طلبہ کو ’’وندے ماترم‘‘ گانے پر مجبور کیے جانے کو بھی برادری اپنی مذہبی و ثقافتی شناخت پر دباؤ اور جبر کے طور پر دیکھتی ہے۔
پارک سرکس کی وہ سڑکیں، جو کبھی لوگوں کی چہل پہل، قہقہوں، بحث و مباحثے اور بے تکلف گفتگو سے آباد رہتی تھیں، اب محتاط خاموشی میں ڈوبی دکھائی دیتی ہیں۔ لوگ غیر ضروری بحث سے گریز کرتے ہیں اور اپنے خیالات کے اظہار میں احتیاط برتتے ہیں۔ ایک فارماسسٹ نے کہا، ’’پہلے لوگ ایسی باتوں کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے۔‘‘ ان کے مطابق مسلم خواتین کی جانب سے بعض مردوں کے گروہوں کی من مانی اور فحش رویوں کی شکایات میں بھی اچانک اضافہ ہوا ہے، جس سے خواتین خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’ایسا لگتا ہے جیسے انہیں ایسا رویہ اختیار کرنے کی کھلی چھوٹ مل گئی ہو۔‘‘
دوسری اقلیتی برادریوں اور اپوزیشن جماعتوں کے رہنما اتحاد کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے رہنما پرتیکر رحمان نے کہا، ’’صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ دلت، عیسائی اور دیگر اقلیتی برادریاں بھی نشانے پر ہیں، اس لیے سب کو متحد ہونا ہوگا۔ یہ لڑائی مل کر لڑنی ہوگی۔ منقسم اپوزیشن اور کمزور سیاسی نمائندگی کے باعث مسلم برادری مسلسل تنہائی کا شکار ہو رہی ہے اور اس وقت ریاست میں بی جے پی کو کوئی مؤثر سیاسی مزاحمت درپیش نہیں ہے۔
مغربی بنگال کے مسلمان خود کو ایسی سیاسی طاقت کے سامنے گھرا ہوا محسوس کر رہے ہیں جو قانون اور سماجی حقائق، دونوں کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بے دخلی، ملک بدری اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے خدشات کے درمیان وہ روزانہ ایسے حالات کا سامنا کر رہے ہیں جو ؎بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں کی تلخ حقیقت ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
