رام مندر چندہ تنازعہ: ملکارجن کھڑگے کا بی جے پی اور آر ایس ایس پر سخت حملہ، ووٹ چوری کا بھی الزام

ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ رام مندر کے چندے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے ووٹر فہرستوں، حلقہ بندی اور آئین کے تحفظ کے معاملے پر بھی مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا

<div class="paragraphs"><p>بھوپال میں ’کسان مہاچوپال‘ سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس صدر کھڑگے، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>
i

کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے رام مندر سے متعلق مبینہ چندہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر مرکزی حکومت، بی جے پی اور آر ایس ایس کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایودھیا میں رام مندر کے نام پر حاصل ہونے والے چندے میں بڑے پیمانے پر مبینہ بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور اس کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ افراد ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں جمہوری اداروں کو کمزور کرنے اور اقتدار برقرار رکھنے کے لیے ووٹر فہرستوں میں خصوصی نظرثانی، حلقہ بندی اور دیگر آئینی طریقہ کار کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے مجسمے کی نقاب کشائی کے بعد ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کھڑگے نے کہا کہ مذہب کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ رام مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے پیش کیے گئے سونے، چاندی اور دیگر قیمتی نذرانوں سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کام نہ غریبوں نے کیا، نہ کسانوں نے اور نہ ہی دلت برادری نے، بلکہ اس کے لیے آر ایس ایس اور بی جے پی سے وابستہ افراد ذمہ دار ہیں۔


کانگریس صدر نے مزید الزام لگایا کہ بی جے پی مختلف ریاستوں میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی کے ذریعے انتخابی عمل پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق مغربی بنگال، مہاراشٹر، ہریانہ اور آسام سمیت کئی ریاستوں میں ووٹروں کے اندراج کے عمل کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ اقتدار برقرار رکھا جا سکے۔

کھڑگے نے پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت حلقہ بندی اور ’’ایک دیش، ایک چناؤ‘‘ جیسے مجوزہ اقدامات کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حلقہ بندی کے ذریعے پارلیمانی اور اسمبلی حلقوں کی سرحدیں اپنی سیاسی سہولت کے مطابق تبدیل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس اس سے پہلے بھی ایسے اقدامات کی مخالفت کر چکی ہے اور آئندہ بھی اس معاملے پر جدوجہد جاری رکھے گی۔

انہوں نے آئین کے تحفظ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر نے ملک کے ہر شہری کو ووٹ کا حق، مساوی مواقع اور سیاسی نمائندگی فراہم کرنے والا آئینی ڈھانچہ تشکیل دیا۔ ان کے مطابق اگر آئینی اقدار کو کمزور کیا گیا تو جمہوریت، سماجی انصاف اور معاشی مساوات شدید خطرے میں پڑ جائیں گے۔

کھڑگے نے مہنگائی، بے روزگاری اور عوامی فلاح سے متعلق منصوبوں کے نفاذ پر بھی مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عوامی مسائل کے بجائے انتخابی سیاست پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آئین کے تحفظ اور جمہوری حقوق کی حفاظت کے لیے متحد رہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔